دو تہائی کارکن AI استعمال کرتے ہیں، مگر 56٪ ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہیں

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|6 منٹ مطالعہ
دو تہائی کارکن AI استعمال کرتے ہیں، مگر 56٪ ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہیں

PwC نے 29 ستمبر 2026 کو جاری کردہ عالمی سروے میں بتایا کہ مئی اور جون کے دوران 48 ملکوں اور خطوں کے 49,364 کارکنوں سے لیے گئے جوابات میں تقریباً دو تہائی، یعنی 64٪، نے گزشتہ بارہ ماہ میں کام پر AI استعمال کیا، جبکہ 56٪ کارکن اس بنیادی گروہ میں ہیں جسے AI، سیکھنے اور پیشہ ورانہ مواقع تک نسبتاً کم رسائی حاصل ہے۔ یہ دونوں شرحیں مختلف چیزوں کی پیمائش کرتی ہیں: پہلی استعمال بتاتی ہے، دوسری مہارت کی طلب اور AI سے حاصل ہونے والے فائدے کی بنیاد پر بنایا گیا گروہ۔ پاکستانی آجر کے لیے خبر کا اہم پہلو یہی ہے کہ استعمال پھیلنے کے باوجود فائدے کی تقسیم یکساں نہیں۔

IT Pro کی رپورٹ کے مطابق مضبوط AI صلاحیت اور طلب میں رہنے والی مہارتوں والے کارکن مجموعی افرادی قوت کا 14٪ ہیں، جبکہ کم نایاب مہارت کے باوجود AI سے زیادہ کام لینے والے 18٪ اور قیمتی مخصوص مہارت مگر محدود AI تجربے والے 11٪ ہیں؛ اسی رپورٹ میں PwC کے عالمی افرادی قوت کے سربراہ پیٹ براؤن نے خبردار کیا کہ یہ ترقی "not at the expense of the rest of the workforce" ہونی چاہیے۔ بڑے بنیادی گروہ کی روزمرہ خدمات پر انحصار کرنے والے اداروں کے لیے یہ تنبیہ محض تربیت کے بجٹ سے بڑھ کر کام کی تنظیم کا سوال بھی ہے۔

استعمال کی شرح ترقی کا پورا نقشہ نہیں

کام پر AI استعمال کرنے کا مطلب گزشتہ سال کے دوران اسے برتنا ہے؛ اس سے روزانہ استعمال، بہتر پیداوار یا ملازمت میں ترقی خود بخود ثابت نہیں ہوتی۔ فائدے کی درجہ بندی میں جواب دہندگان سے پوچھا گیا کہ AI نے ان کے کام کے معیار، تخلیقی صلاحیت، مہارت اور آجر کے نزدیک قدر کو کس حد تک بہتر بنایا۔ دوسری جہت اس بات کی تھی کہ بازار میں ان کی مہارت کی کتنی طلب ہے اور متبادل ملازم تلاش کرنا کتنا مشکل ہوگا۔ اس طرح بنیادی گروہ کی شناخت محض کسی ایک آلے کے استعمال یا عدم استعمال سے نہیں بنی۔

اس فرق سے ایک اہم کاروباری سوال پیدا ہوتا ہے۔ ملازمین کو آلے کی اجازت مل جائے مگر وہ اسے پیچیدہ کام میں استعمال نہ کر سکیں، نئی ذمہ داری نہ لے سکیں یا بہتر کام کا اعتراف نہ ہو، تو اختیار کی شرح فائدے کا کمزور اشارہ ہوگی۔ زیادہ تجربہ رکھنے والے کارکن اپنے موجودہ کام کو نئی ترتیب دے سکتے ہیں؛ محدود اختیار رکھنے والے کارکن کے لیے یہی تبدیلی دستیاب نہیں بھی ہوسکتی۔ یہ آخری بات عالمی نتائج سے نکالا گیا ادارہ جاتی امکان ہے، پاکستان کے کسی مخصوص شعبے کا ناپا ہوا نتیجہ نہیں۔

سیکھنے کے وسائل میں کمی کیوں اہم ہے

The Next Web کی خبر کے مطابق ضروری سیکھنے اور ترقی کے وسائل تک رسائی بتانے والے کارکنوں کا حصہ گزشتہ سال کے 59٪ سے گھٹ کر 51٪ ہوا؛ بنیادی گروہ میں صرف ہر پانچ میں سے دو کارکن کہتے ہیں کہ انہیں مطلوبہ وسائل ملتے ہیں۔ یہ اعداد استعمال میں اضافے کے ساتھ تربیت کی گنجائش کم ہونے کا مسئلہ دکھاتے ہیں۔ جو ملازم روزانہ کا کام سنبھالتا ہے، اسے سیکھنے کے لیے وقت اور مناسب مشق نہ ملے تو نئے آلے سے فائدہ حاصل کرنا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔

تربیت میں صرف تعارفی نشست کا شمار کافی نہیں ہوگا۔ کام سے متعلق مثالیں، مہارت آزمانے کا وقت اور حاصل شدہ صلاحیت کو ذمہ داری میں استعمال کرنے کی گنجائش ایک ہی سلسلے کے حصے ہیں۔ اگر ملازم تربیت مکمل کرکے بھی پہلے جیسی کارکردگی کے پیمانے اور منظوری کے مراحل میں بندھا رہے تو ادارہ اس کی نئی صلاحیت کے اثر کو دیکھ نہیں پائے گا۔ اسی وجہ سے کام کی ازسرنو ترتیب، فیصلہ کرنے کا اختیار اور ترقی کا راستہ رسائی کے سوال سے جڑتے ہیں۔

اداروں کے لیے دو طرفہ افرادی خطرہ

زیادہ AI فائدہ حاصل کرنے والے افراد اپنے کام میں تبدیلی اور نئے امکانات کو نسبتاً مثبت انداز میں دیکھتے ہیں؛ بنیادی گروہ میں بے یقینی اور سیکھنے کے محدود مواقع زیادہ نمایاں ہیں۔ اس فرق کا ایک رخ روزمرہ کام کی رفتار ہے: جو ٹیمیں نئے طریقے سیکھنے سے محروم ہوں، وہ ادارے کی تبدیلی کے ساتھ قدم ملانے میں دشواری محسوس کرسکتی ہیں۔ دوسرا رخ باصلاحیت افراد کو برقرار رکھنے کا ہے، کیونکہ آگے بڑھنے والے کارکن ایسی ذمہ داری اور اعتراف چاہتے ہیں جو ان کی نئی صلاحیت کے مطابق ہو۔

کارکنوں کے اپنے جواب کو ملازمت چھوڑنے یا پیداوار بڑھنے کی ثابت شدہ وجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے جواب تجربات اور توقعات دکھاتے ہیں، کسی پاکستانی ادارے میں AI کے اثر کا تجرباتی اندازہ نہیں دیتے۔ پھر بھی ادارے کے لیے یہ واضح سوال اٹھتا ہے کہ فائدہ کن کرداروں میں جمع ہو رہا ہے اور تبدیلی کے مواقع کن کرداروں سے دور ہیں۔ یکساں تربیتی اعلان اس فرق کو چھپا سکتا ہے، خصوصاً اگر مختلف ملازمین کو آلے، وقت اور اختیار تک رسائی مختلف ہو۔

پاکستانی ٹیموں میں فرق کی چار سطحیں

پاکستان کے لیے اس عالمی تحقیق میں الگ نمونہ یا ملکی شرح شائع نہیں کی گئی، اس لیے عالمی تناسب کو مقامی افرادی قوت پر منتقل کرنا درست نہیں۔ اس کی عملی قدر ایک قابل پیمائش سوال میں ہے: ایک ہی ادارے کے مختلف کرداروں کو AI سے فائدہ اٹھانے کے لیے یکساں حالات مل رہے ہیں یا نہیں؟ درج ذیل چار سطحوں کی تشخیص ادارے کے اپنے ریکارڈ اور کارکنوں کے جواب سے کی جاسکتی ہے؛ یہ PwC کا تیار کردہ پیمانہ نہیں بلکہ نتائج سے اخذ کردہ ادارتی خاکہ ہے۔

  • رسائی: ہر کردار میں کتنے اہل ملازمین کو منظور شدہ AI آلات، مناسب معلومات اور استعمال کی واضح اجازت ملتی ہے؟ صرف لائسنسوں کی تعداد سے معلوم نہیں ہوگا کہ روزمرہ کام کرنے والے کارکن واقعی آلے تک پہنچ بھی سکتے ہیں یا نہیں۔
  • تربیت: کتنے ملازمین کو اپنی ذمہ داری سے متعلق مشق، رہنمائی اور کام کے اوقات میں سیکھنے کا وقت دیا گیا؟ حاضری کے ساتھ تکمیل اور سیکھے ہوئے طریقے کو کام میں برتنے کا موقع بھی دیکھا جائے۔
  • کام کا اختیار: کون ملازم نئے طریقے کی تجویز دے سکتا ہے، کون اسے آزما سکتا ہے اور کس کے فیصلے کے لیے منظوری درکار ہے؟ اختیار کا یہ فرق ایک جیسی تربیت کے بعد بھی نتائج بدل سکتا ہے۔
  • ترقی: بہتر کام دکھانے والے کارکنوں کو نئی ذمہ داری، کارکردگی کے جائزے میں اعتراف اور اگلے عہدے کا واضح راستہ ملتا ہے یا نہیں؟ یہاں کردار کے لحاظ سے فرق معلوم کرنا صرف مجموعی استعمال گننے سے زیادہ معنی رکھتا ہے۔

ان سطحوں کو ایک ساتھ دیکھنے سے انتظامیہ یہ جان سکتی ہے کہ رکاوٹ آلے کی دستیابی میں ہے، سیکھنے کے وقت میں، کام بدلنے کے اختیار میں یا حاصل شدہ مہارت کے اعتراف میں۔ مثال کے طور پر اگر کسی ٹیم کے پاس آلے کی رسائی ہو مگر مشق کا وقت نہ ہو تو مزید رسائی دینے سے اکیلے وہ کمی پوری نہیں ہوگی؛ یہ ایک مشروط انتظامی نتیجہ ہے۔ مقامی کارکنوں کے جواب اور کردار کے حساب سے ان چار پہلوؤں کا فرق ہی پاکستانی ادارے میں ترقی کی اصل تصویر بنائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0