کام کا مستقبل

AI نے ملازمین کم نہیں کیے، مگر نئی بھرتی کا دروازہ ضرور تنگ ہوا

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|6 منٹ مطالعہ| 1
AI نے ملازمین کم نہیں کیے، مگر نئی بھرتی کا دروازہ ضرور تنگ ہوا

یکم ستمبر 2026 کو جاری ہونے والے New York Fed کے اگست کے علاقائی سروے میں AI اپنانے والی کمپنیوں کے اندر بڑے پیمانے پر افرادی قوت گھٹانے کا رجحان نہیں ملا۔ New York اور شمالی New Jersey کی AI استعمال کرنے والی سروس کمپنیوں میں 4 فی صد نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران اس ٹیکنالوجی سے منسلک برطرفی بتائی، جبکہ کسی مینوفیکچرر نے ایسی برطرفی رپورٹ نہیں کی۔

دباؤ کا زیادہ واضح مقام نئی بھرتی تھا: 15 فی صد سروس کمپنیوں نے AI کے باعث معمول سے کم افراد رکھے، جبکہ 13 فی صد نے AI سے فائدہ اٹھانے کے لیے زیادہ کارکن بھرتی کیے۔ TechRadar کی 2 ستمبر کی رپورٹ بھی اسی ملی جلی تصویر کی تصدیق کرتی ہے؛ یعنی موجودہ ملازم کے فوراً فارغ ہونے کے مقابلے میں نئے امیدوار کے لیے آسامیوں کی تعداد اور نوعیت بدلنے کا امکان زیادہ نمایاں ہے۔

روزگار پر اثر کے چار الگ راستے

علاقائی سروس کمپنی میں برقرار عملہ، محدود نئی آسامی، AI معاون بھرتی اور موجودہ ملازمین کی تربیت کے چار الگ نتائج

سروے کے نتائج کو صرف ’’نوکری گئی یا بچ گئی‘‘ کے پیمانے پر دیکھنے سے اصل تبدیلی چھپ جاتی ہے۔ AI استعمال کرنے والی کمپنیوں نے افرادی قوت کے بارے میں چار مختلف قسم کے فیصلے کیے:

  • برطرفی: سروس کمپنیوں میں 4 فی صد نے AI سے منسلک چھانٹی بتائی؛ مینوفیکچرنگ میں کوئی ایسا جواب نہیں آیا۔
  • کم بھرتی: 15 فی صد سروس کمپنیوں نے کہا کہ AI نہ ہوتا تو وہ زیادہ افراد بھرتی کرتیں۔ چند مینوفیکچررز نے بھی بھرتی گھٹائی، لیکن تحقیق نے ان کا الگ فیصد نہیں دیا۔
  • اضافی بھرتی: 13 فی صد سروس کمپنیوں نے AI کے استعمال میں مدد کے لیے زیادہ کارکن رکھے؛ کسی مینوفیکچرر نے ایسا اضافہ نہیں بتایا۔
  • موجودہ عملے کی تربیت: AI اپنانے والی سروس کمپنیوں میں ایک تہائی سے کچھ زیادہ اور مینوفیکچررز میں پانچویں حصے سے زیادہ نے کارکنوں کو دوبارہ تربیت دی۔

یہ نتائج باہم متضاد نہیں۔ ایک کمپنی معمول کی جونیئر آسامی روک سکتی ہے، دوسری AI نافذ کرنے کے لیے ماہر رکھ سکتی ہے، جبکہ تیسری نئی بھرتی کے بغیر موجودہ ٹیم کے کام اور مہارتیں بدل سکتی ہے۔ اسی لیے 15 اور 13 فی صد کو منہا کرکے ملازمتوں کا خالص نقصان نکالنا درست نہیں: یہ کمپنیوں کے حصے ہیں، کارکنوں یا آسامیوں کی تعداد نہیں۔

بھرتی کا دروازہ کیسے تنگ ہوا

کم بھرتی، برطرفی کے مقابلے میں کم نمایاں مگر نئے امیدوار کے لیے فوری دباؤ ہے۔ کسی خالی عہدے کو دوبارہ نہ بھرنا، نئی جونیئر آسامی مؤخر کرنا یا معمول کے کام موجودہ ٹیم اور AI کے امتزاج سے مکمل کرنا موجودہ ملازم کو فوراً بے روزگار نہیں کرتا، لیکن بازار میں داخل ہونے والے شخص کے لیے دستیاب مواقع کم کر دیتا ہے۔

سروے یہ نہیں بتاتا کہ ہر فیصلے سے کتنی آسامیاں متاثر ہوئیں یا کم کی گئی بھرتی مستقل طور پر منسوخ ہوئی یا صرف مؤخر۔ بڑی اور چھوٹی کمپنی کا جواب ایک ایک ادارہ شمار ہوتا ہے، اس لیے ان شرحوں سے کارکنوں کی مجموعی تعداد یا تنخواہوں پر خالص اثر اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

عنوان میں نئی بھرتی کا دروازہ تنگ ہونے کا مطلب بھی یہی محدود نتیجہ ہے: سروس کمپنیوں میں بھرتی گھٹانے والوں کا حصہ بھرتی بڑھانے والوں سے معمولی زیادہ تھا۔ اس سے تمام شعبوں یا تمام AI استعمال کرنے والی کمپنیوں میں آسامیوں کی یکساں کمی ثابت نہیں ہوتی۔

کمپنیوں نے ملازم سے پہلے کام بدلا

سروس کمپنی کے ملازمین AI نتائج کی درستگی اور ڈیٹا سکیورٹی جانچتے ہوئے موجودہ کام کی نئی تربیت لے رہے ہیں

تربیت کے جوابات سے معلوم ہوتا ہے کہ بیشتر ادارے کارکنوں کو بالکل نئے پیشوں کے لیے تیار کرنے کے بجائے ان کا موجودہ کام بدل رہے ہیں۔ تربیت میں بنیادی AI فہم، چیٹ بوٹس اور معاون ٹولز، بار بار ہونے والے کام کی خودکاری، بہتر ہدایات لکھنا اور مخصوص کاروباری کاموں میں AI استعمال کرنا شامل تھا۔

کئی کمپنیوں نے AI کے تیار کردہ نتائج کی تصدیق، ممکنہ تعصب کی پہچان، ڈیٹا سکیورٹی کی پابندی اور ٹیکنالوجی پر ضرورت سے زیادہ انحصار سے بچنے کو بھی تربیت کا حصہ بتایا۔ یہ تفصیل اہم ہے کیونکہ AI مہارت کا مطلب محض کسی ٹول سے نتیجہ حاصل کرنا نہیں، بلکہ اس نتیجے کی درستگی، حدود اور محفوظ استعمال کی ذمہ داری اٹھانا بھی ہے۔

اپنانے اور حقیقی استعمال میں بھی فرق ہے۔ AI اپنانے والی کمپنیوں میں اسے استعمال کرنے والے کارکنوں کا درمیانی حصہ سروس اداروں میں 17 فی صد اور مینوفیکچرنگ میں 7 فی صد تھا؛ اس لیے کسی ادارے کا خود کو AI صارف کہنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس کی پوری افرادی قوت یا ہر آسامی بدل چکی ہے۔

یہ امریکہ کا قومی نتیجہ نہیں

HotTea کی 4 ستمبر کی جانچ نے واضح کیا کہ اعداد New York اور شمالی New Jersey کے علاقائی کاروباری سروے سے آئے ہیں، قومی لیبر گنتی سے نہیں۔ خطے میں معلوماتی، کاروباری اور مالیاتی خدمات کا وزن دوسرے علاقوں سے مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے 4، 15 یا 13 فی صد کو پورے امریکہ یا عالمی ٹیک روزگار کی شرح کہنا درست نہیں۔

یہ نتائج کمپنیوں کی اپنی رپورٹنگ پر مبنی ہیں اور صرف ان تبدیلیوں کو شمار کرتے ہیں جنہیں جواب دہندگان نے AI سے منسلک کیا۔ سروے یہ ثابت نہیں کرتا کہ AI ان کے مجموعی بھرتی یا برطرفی کے فیصلوں کا واحد سبب تھا، نہ ہی اس میں پاکستان کی مقامی کمپنیوں، ریموٹ ملازمتوں یا آؤٹ سورسنگ مارکیٹ کی براہِ راست پیمائش ہوئی۔

پاکستانی ٹیک امیدوار کے لیے اصل اشارہ

پاکستانی ٹیک امیدوار بیرونِ ملک ملازمت کے جائزے میں AI استعمال، انسانی تصدیق اور محفوظ ڈیٹا ہینڈلنگ کا عملی طریقہ دکھا رہا ہے

پاکستانی امیدوار کے لیے یہ امریکی علاقائی اعداد مقامی روزگار کی پیش گوئی نہیں، لیکن بیرونِ ملک کمپنیوں اور ریموٹ سروسز میں بدلتی مہارتی طلب کا ایک محدود اشارہ ضرور ہیں۔ جب بعض ادارے معمول کی بھرتی کم کرتے ہوئے موجودہ عملے کو AI سکھا رہے ہوں اور بعض AI کے نفاذ کے لیے نئے افراد رکھ رہے ہوں، تو صرف عمومی عہدے کا نام امیدوار کی پوری قدر بیان نہیں کرتا۔

سروے سے نکلنے والا محتاط مہارتی نتیجہ چار صلاحیتوں کا مجموعہ ہے: متعلقہ شعبے کی مضبوط بنیاد، AI ٹول کا مؤثر استعمال، تیار شدہ نتیجے کی انسانی جانچ اور حساس ڈیٹا کی محفوظ ہینڈلنگ۔ یہ کسی ملازمت کی ضمانت نہیں؛ البتہ اس فرق کو واضح کرتا ہے جو معمول کا کام خودکار کرنے اور AI سے مدد لے کر قابلِ اعتماد کام فراہم کرنے والے امیدوار کے درمیان پیدا ہو رہا ہے۔

فی الحال شواہد کا مضبوط ترین مطلب یہ ہے کہ اس خطے کی AI استعمال کرنے والی کمپنیوں نے افرادی قوت کو وسیع پیمانے پر ختم نہیں کیا، لیکن بعض نے نئی بھرتی محدود کی اور بہت سی نے موجودہ کام کی ساخت بدلنے کے لیے تربیت کا راستہ اپنایا۔ آئندہ سروے ہی بتا سکیں گے کہ یہ علاقائی نمونہ برقرار رہتا ہے، کن سطحوں کی آسامیاں متاثر ہوتی ہیں اور آیا یہی رجحان دوسری منڈیوں میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0