کام کا مستقبل

AI نے نوکریاں ختم نہیں کیں؟ برطانوی اداروں کے 54٪ نے نئی roles بنائیں

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|6 منٹ مطالعہ| 4
AI نے نوکریاں ختم نہیں کیں؟ برطانوی اداروں کے 54٪ نے نئی roles بنائیں

Lloyds کی 18 اگست 2026 کی تحقیق میں 54٪ برطانوی کاروباروں نے کہا کہ AI نے ان کے اداروں میں نئی ملازمتیں پیدا کیں، جبکہ 58٪ نے اگلے بارہ ماہ میں اپنی افرادی قوت کی AI مہارتوں پر سرمایہ کاری بڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ Ipsos نے یہ سروے یکم سے 16 جولائی کے دوران کم از کم £250,000 سالانہ ٹرن اوور رکھنے والی 1,200 برطانوی کمپنیوں سے کیا تھا۔

نتیجہ AI سے روزگار ختم ہونے کے خدشے کے مقابل ایک مثبت اشارہ ہے، مگر یہ برطانیہ میں خالص ملازمتوں کے اضافے کا ثبوت نہیں۔ Bloomberg News کی آزاد رپورٹ کے مطابق 24٪ کاروبار AI مہارت رکھنے والے امیدواروں کو بھرتی کرنے پر زیادہ توجہ دے رہے تھے اور 21٪ نئے AI-specific roles بنا رہے تھے؛ یہ دونوں پیمانے مجموعی job-creation جواب سے الگ ہیں۔

سرخی کے دعوے کا درست مطلب

یہ کاروباری رہنماؤں کے بیان کردہ تجربے کا نتیجہ ہے، قومی payroll کا شمار نہیں۔ جواب دینے والے اداروں نے بتایا کہ AI کے باعث ان کے ہاں ملازمتیں بنی ہیں، لیکن شائع شدہ نتائج یہ نہیں بتاتے کہ مجموعی طور پر کتنے عہدے پیدا ہوئے، ہر ادارے میں ان کی تعداد کیا تھی، یا وہ مستقل تھے یا عارضی۔

سروے نے یہ بھی نہیں ناپا کہ انہی کمپنیوں نے AI یا کسی دوسرے سبب سے کتنی ملازمتیں ختم کیں۔ اس لیے عنوان میں اٹھائے گئے سوال کا محتاط جواب یہ ہے کہ تحقیق نئی ملازمتوں کی موجودگی دکھاتی ہے، لیکن displacement کی نفی یا روزگار کا خالص مثبت توازن ثابت نہیں کرتی۔

تین الگ تبدیلیوں کو ایک سمجھنا بھی گمراہ کن ہوگا۔ عمومی job creation کا جواب یہ بتاتا ہے کہ ادارے AI کو کسی نئی ملازمت سے جوڑتے ہیں؛ skills-based hiring امیدوار کی مطلوبہ قابلیت میں تبدیلی ہے؛ اور AI-specific role ایسا عہدہ ہے جس کی ذمہ داری ہی براہِ راست AI سے متعلق ہو۔ ایک کاروبار نئی ذمہ داریاں موجودہ یا عمومی عہدوں میں شامل کرکے پہلے زمرے میں آ سکتا ہے، چاہے اس نے الگ AI-specific ملازمت نہ بنائی ہو۔

سرمایہ صرف tools پر نہیں، مہارتوں پر بھی لگ رہا ہے

برطانوی ادارے میں موجودہ ملازمین کی AI مہارتوں کی تربیت اور اس کے لیے بڑھتی سرمایہ کاری

سروے کا دوسرا نمایاں نتیجہ workforce readiness ہے۔ سرمایہ کاری بڑھانے کا ارادہ رکھنے والے کاروباروں میں 42٪ نے £25,000 سے £100,000 اور 26٪ نے £100,000 سے £250,000 خرچ کرنے کی توقع ظاہر کی۔ یہ شرحیں تمام برطانوی کاروباروں کی نمائندگی نہیں کرتیں بلکہ صرف اس گروپ کے متوقع بجٹ ہیں جو اضافی سرمایہ لگانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

TechRadar کی 23 اگست کی تشریح کے مطابق 31٪ اداروں نے کہا کہ ان کے موجودہ عملے میں درکار AI مہارتیں نہیں؛ 43٪ رسمی تربیت متعارف کرانا اور 32٪ پہلے سے جاری تربیتی پروگرام وسیع کرنا چاہتے تھے۔ یوں نئی افرادی ضرورت کا جواب صرف بیرونی بھرتی نہیں: اس میں موجودہ ملازمین کی تربیت، بھرتی کے معیار میں تبدیلی اور مخصوص عہدوں کی تخلیق الگ راستے ہیں۔

یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ skills investment کو لازماً نئی آسامیوں کی تعداد نہیں سمجھا جا سکتا۔ تربیت پر خرچ موجودہ ملازم کا کردار بدل سکتا ہے، جبکہ skills-based hiring کسی پہلے سے خالی عمومی عہدے کی شرط تبدیل کر سکتی ہے۔ صرف AI-specific roles والا پیمانہ واضح طور پر نئی خصوصی job category کی طرف اشارہ کرتا ہے، اگرچہ شائع شدہ مواد ان عہدوں کے نام، شعبے، تنخواہ یا seniority نہیں بتاتا۔

نمونے نے کیا ناپا اور کیا نہیں

Lloyds Business Barometer کے برطانوی کاروباری نمونے اور قومی payroll شمار کے درمیان فرق

Business Barometer کی طریقۂ کار کی وضاحت بتاتی ہے کہ ہر ماہ 20,000 اداروں کے panel سے مختلف 1,200 business owners، directors اور finance leaders آن لائن سوال نامہ مکمل کرتے ہیں۔ شرکا میں Lloyds کے صارفین اور دوسرے بینکوں کے صارفین شامل ہوتے ہیں، جبکہ نتائج کو شعبے، خطے اور کاروباری حجم کے لحاظ سے دوبارہ وزن دیا جاتا ہے۔

یہ ساخت کاروباری رویے، ارادوں اور بدلتی ترجیحات کا بروقت اشارہ دیتی ہے، لیکن administrative employment records کا متبادل نہیں۔ جواب دہندگان کے خیالات اور اداروں کے حقیقی payroll میں فرق ہو سکتا ہے، خصوصاً جب سوال نئی ملازمت کے تصور کو ناپتا ہو اور vacancy count، contract duration یا وقت کے ساتھ headcount کی تبدیلی شائع نہ کی گئی ہو۔

اسی وجہ سے اس نتیجے کو یہ کہنا غلط ہوگا کہ برطانیہ کی 54٪ ملازمتیں AI نے پیدا کیں۔ درست تعبیر یہ ہے کہ سروے میں شامل اتنے فیصد کاروباروں نے اپنے ادارے میں AI سے منسلک job creation رپورٹ کی؛ ایک چھوٹے ادارے کے جواب اور ہزاروں ملازمین والی کمپنی کے جواب کو نئی آسامیوں کی تعداد نہیں سمجھا جا سکتا۔

پاکستان کے لیے اشارہ، براہِ راست ثبوت نہیں

پاکستانی محققین کا برطانوی Lloyds سروے کو مقامی روزگار کے الگ اعداد کے ساتھ جانچنا

پاکستانی قارئین کے لیے قابلِ انتقال مشاہدہ یہ ہے کہ AI adoption کے ساتھ افرادی قوت کے کئی الگ فیصلے سامنے آ سکتے ہیں: موجودہ عملے کی تربیت، بھرتی میں نئی skill requirements اور مخصوص تکنیکی یا نگرانی کے عہدے۔ برطانوی اعداد یہ دکھاتے ہیں کہ ان سرگرمیوں کو ایک ہی “نئی نوکری” کے پیمانے میں ضم کرنا درست تصویر نہیں دیتا۔

تاہم سروے کا جغرافیائی دائرہ برطانیہ تک محدود تھا اور اس میں کسی پاکستانی کمپنی، کارکن یا vacancy کو شمار نہیں کیا گیا۔ پاکستان میں کاروباروں کا حجم، غیر رسمی روزگار، اجرتی ڈھانچہ، technology spending، بجلی اور cloud infrastructure، برآمدی خدمات اور مقامی skills supply مختلف ہیں؛ اس لیے برطانوی فیصد کو پاکستانی labour market کی شرح کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

اسی طرح برطانوی investment bands کو صرف روپے میں تبدیل کرنے سے مقامی موازنہ معتبر نہیں ہو جاتا۔ یہ جواب دہندہ برطانوی اداروں کے متوقع بجٹ ہیں، پاکستان کے لیے تجویز کردہ خرچ یا یہاں تربیت کی طلب کا تخمینہ نہیں۔ مقامی نتیجے کے لیے پاکستانی vacancies، payroll، برطرفیوں، تربیتی اخراجات اور کاروباری حجم کے مطابق الگ ڈیٹا درکار ہوگا۔

مجموعی روزگار کا حساب ابھی باقی ہے

اب تک تصدیق شدہ بات یہ ہے کہ سروے شدہ برطانوی کاروباروں کی اکثریت AI کو اپنے ہاں کسی نہ کسی نئی ملازمت سے جوڑتی ہے، جبکہ skills gap کے جواب میں تربیت اور بھرتی پر مزید خرچ متوقع ہے۔ یہ نتیجہ اس تصور کو پیچیدہ بناتا ہے کہ AI کا روزگار پر صرف منفی اثر پڑتا ہے، مگر اسے اس تصور کی مکمل تردید بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔

حتمی تصویر کے لیے نئی vacancies، ختم ہونے والے عہدوں، payroll، اجرت، معاہدے کی مدت اور مختلف شعبوں کے نتائج کو وقت کے ساتھ ملانا ہوگا۔ جب تک یہ اعداد دستیاب نہیں ہوتے، Lloyds کا نتیجہ ایک مثبت مگر محدود کاروباری signal ہے: AI نئی ضروریات اور بعض نئی ملازمتیں پیدا کر رہا ہے، لیکن برطانیہ میں مجموعی روزگار پر اس کا خالص اثر ابھی معلوم نہیں۔

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0