95٪ HR سربراہ AI چلا رہے ہیں، مگر مہارتوں کی رفتار talent سے آگے ہے

Gartner کے 2 ستمبر 2026 کے تجزیے میں 95٪ CHROs نے اپنی تنظیموں میں فعال AI اقدامات کی اطلاع دی، جبکہ 51٪ CIOs اور سینئر IT رہنماؤں نے کہا کہ مطلوبہ مہارتیں دستیاب talent سے زیادہ تیزی سے بدل رہی ہیں۔ اس کا فوری مطلب یہ ہے کہ AI متعارف کرانے کا فیصلہ افرادی قوت کو اس کے لیے تیار کرنے کے فیصلے سے آگے نکل رہا ہے۔
چار ستمبر کو شائع ہونے والے ایک غیر Gartner خلاصے نے بھی اشاعت کی تاریخ، دونوں فیصد اور change agility و digital dexterity کی ترجیح کو اسی طرح درج کیا۔ تاہم سرخی میں AI “چلانے” سے مراد فعال تنظیمی اقدامات ہیں؛ 95٪ کا عدد یہ ثابت نہیں کرتا کہ اتنے ہی HR سربراہ خود روزانہ کوئی tool استعمال کرتے ہیں یا تمام اقدامات کامیاب ہو چکے ہیں۔
فعال اقدام اور تیار workforce ایک ہی پیمانہ نہیں

دونوں فیصد الگ سوالات اور الگ جواب دہندگان کی تصویر دکھاتے ہیں۔ پہلا عدد CHROs کے رپورٹ کردہ AI اقدامات سے متعلق ہے، جبکہ دوسرا CIOs اور سینئر IT رہنماؤں کی اس رائے کو ظاہر کرتا ہے کہ درکار صلاحیتوں کی تبدیلی talent supply سے تیز ہے۔ انہیں منہا کرکے 44 percentage points کا باقاعدہ skills gap نکالنا درست نہیں ہوگا۔
کسی chatbot، coding assistant یا HR automation کو workflow میں شامل کرنا فعال اقدام شمار ہو سکتا ہے، لیکن workforce readiness کا امتحان اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ ملازم کو مسئلہ درست بیان کرنے، AI کے نتیجے کی جانچ کرنے، پالیسی یا معیار سے انحراف پہچاننے اور ضرورت پڑنے پر فیصلہ کسی ذمہ دار انسان تک پہنچانے کے قابل بھی ہونا چاہیے۔
یہ اعداد عالمی enterprise قیادت کا اشارہ ہیں، پاکستان کا مقامی readiness score نہیں۔ پاکستانی HR اور IT ٹیموں کے لیے ان کی اہمیت کسی عالمی شرح کو اپنے ادارے پر لاگو کرنے میں نہیں، بلکہ adoption اور قابلِ مشاہدہ proficiency کو الگ رکھنے میں ہے۔
ترجیح tool کے نام سے نہیں، کام میں تبدیلی سے طے ہوگی
ہر نئی AI خصوصیت کے ساتھ skills list بڑھانے سے نصاب جلد پرانا اور ترجیحات غیر واضح ہو سکتی ہیں۔ زیر بحث فریم ورک اس کے بجائے پہلے یہ پوچھتا ہے کہ AI موجودہ کام کو تیز کر رہا ہے، پورا workflow دوبارہ بنا رہا ہے یا ایسا نیا کام پیدا کر رہا ہے جو پہلے موجود نہیں تھا۔
موجودہ task کی augmentation میں مسئلہ وضع کرنے، AI کے جواب پر پیشہ ورانہ فیصلہ دینے اور خطرہ کم کرنے کی صلاحیت اہم بنتی ہے۔ workflow reengineering میں systems thinking اور انسان و AI کے درمیان ذمہ داری کی منتقلی سمجھنا ضروری ہے، جبکہ نئے AI-driven کام کے لیے strategic foresight اور ethical leadership زیادہ متعلق ہو سکتے ہیں۔
ان صورتوں کے نیچے change agility اور digital dexterity مشترک بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ پہلی صلاحیت مسلسل تبدیلی کے دوران مؤثر رہنے سے تعلق رکھتی ہے؛ دوسری نئے tools اور platforms کو کام میں ضم کرنے کی قابلیت ہے۔ اسی وجہ سے دونوں کسی ایک interface، prompt pattern یا vendor certification کے مقابلے میں زیادہ دیر تک کارآمد رہ سکتی ہیں۔
پاکستانی تنظیم کے لیے چار حصوں کی skills matrix

محدود بجٹ میں پوری workforce کے لیے ایک بڑی، یکساں AI training فہرست بنانے کے بجائے زیادہ اثر یا زیادہ خطرے والے workflows پہلے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ذیل کی matrix شائع شدہ فریم ورک کا اداریاتی اطلاق ہے، Gartner کا جاری کردہ scorecard یا پاکستان کا مقامی benchmark نہیں۔
- Tool-specific علم: موجودہ product تک رسائی، بنیادی functions، منظور شدہ data اور ادارے کی مقرر کردہ حدود۔ اسے demonstration یا مقررہ task سے جانچا جا سکتا ہے، لیکن tool بدلنے پر اس علم کا کچھ حصہ ختم ہو سکتا ہے۔
- Change agility اور digital dexterity: نیا interface یا طریقۂ کار سیکھنا، سابق workflow سے فرق سمجھنا اور کام روکے بغیر محفوظ منتقلی کرنا۔ supervised practice اور controlled pilot اس صلاحیت کو محض self-rating کے مقابلے میں زیادہ واضح کرتے ہیں۔
- Output verification: حوالہ، حساب، منطق، نامکمل context، تعصب اور policy violation جانچنا، پھر نتیجہ قبول، درست یا escalate کرنا۔ self-assessment کے ساتھ peer review رکھنے سے اعتماد اور حقیقی کارکردگی کے درمیان فرق سامنے آ سکتا ہے۔
- Workflow redesign: یہ طے کرنا کہ AI کہاں وقت بچاتا ہے، کہاں نیا handoff یا correction workload پیدا کرتا ہے، exception کس کے پاس جائے گی اور حتمی جواب دہی کس انسان کے پاس رہے گی۔
ایک فرضی customer-support workflow میں اچھا prompt لکھنا پہلی سطح کی proficiency ہو سکتی ہے، مگر readiness کا مکمل ثبوت نہیں۔ زیادہ بامعنی جانچ یہ دیکھے گی کہ کارکن غیر مصدقہ جواب روک سکتا ہے، policy سے باہر معاملہ درست ذمہ دار تک پہنچتا ہے اور automation کے بعد اگلے مرحلے میں اضافی تصحیح تو پیدا نہیں ہو رہی۔
کامیابی course completion کے بجائے چار نتائج سے ناپی جائے

Training مکمل کرنے والوں کی تعداد شرکت بتاتی ہے، عملی تیاری نہیں۔ ایک مستقل measurement structure میں proficiency، تجرباتی learning میں عملی شرکت، منتخب workflow کا cycle time یا output، اور AI سے متعلق compliance یا ethical incidents الگ الگ رکھے جا سکتے ہیں۔
یہ ضرورت صرف ایک advisory framework تک محدود نہیں۔ تقریباً 150 بڑے اداروں کے HR سربراہوں کے جوابات پر مبنی CHRO Association کے 2026 سروے میں 47٪ جواب دہندگان نے کہا کہ انہوں نے AI productivity کے واضح پیمانے ابھی قائم نہیں کیے؛ سروے University of South Carolina کی Darla Moore School of Business کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔
چاروں پیمانوں کو فوراً ایک composite score میں ملانا اہم تضادات چھپا سکتا ہے۔ cycle time کم ہو لیکن corrections یا compliance incidents بڑھ جائیں تو رفتار کو مکمل کامیابی نہیں کہا جا سکتا؛ اسی طرح بلند self-assessment کے باوجود peer review مسلسل خامیاں نکالے تو عملی proficiency ثابت نہیں ہوتی۔
baseline، جائزے کا وقفہ اور انسانی escalation کی ذمہ داری پہلے واضح ہونے سے HR، IT، business owner اور compliance ایک ہی نتیجے کو مختلف طریقوں سے نہیں پڑھیں گے۔ یہ پیمائش hiring کی ضرورت ختم نہیں کرتی، بلکہ یہ فرق واضح کرتی ہے کہ کون سا خلا عملی مشق سے کم ہو سکتا ہے اور کہاں specialist talent درکار ہے۔
عالمی اشارہ واضح ہے، پاکستانی benchmark ابھی موجود نہیں
عوامی skills analysis میں survey sample، جغرافیائی تقسیم اور fieldwork dates نہیں دی گئیں۔ اس لیے 95٪ اور 51٪ کو کسی پاکستانی صنعت، کمپنی کے حجم یا ملازمین کے مخصوص طبقے کی شرح قرار نہیں دیا جا سکتا۔
فی الحال تصدیق شدہ تصویر یہ ہے کہ enterprise سطح پر AI اقدامات وسیع ہیں، IT قیادت talent supply کو بدلتی ہوئی skills سے پیچھے دیکھ رہی ہے، اور پائیدار صلاحیتوں کو tool-specific تربیت سے الگ ناپنے کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ اگلا فیصلہ کن ثبوت اداروں کے حقیقی workflows سے آئے گا: proficiency اور output بہتر ہوئے یا نہیں، cycle time میں تبدیلی کس قیمت پر آئی، اور compliance incidents قابو میں رہے یا بڑھے۔
یہ بھی پڑھیں:
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔