AI نے اصل مہارت پہچاننا مشکل کیا، 60٪ بھرتی کنندگان متفق

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|7 منٹ مطالعہ
AI نے اصل مہارت پہچاننا مشکل کیا، 60٪ بھرتی کنندگان متفق

WGU نے 30 ستمبر 2026 کو Workforce Decoded رپورٹ جاری کی، جس کے لیے امریکا میں بھرتی سے براہِ راست وابستہ 3,128 افراد سے رائے لی گئی تھی۔ ان میں 60٪ نے کہا کہ AI نے امیدواروں کی اصل مہارت جانچنا مشکل بنا دیا ہے۔ یہ بھرتی کرنے والوں کا تجربہ ہے، امیدواروں کی صلاحیت کا براہِ راست امتحان نہیں۔

پاکستانی امیدوار اور ٹیک ادارے اس امریکی شرح کو اپنی منڈی کی شرح نہیں سمجھ سکتے، مگر اس سے اٹھنے والا سوال واضح ہے: AI کی مدد سے تیار سی وی یا اسائنمنٹ میں امیدوار کا اپنا کام کیسے پہچانا جائے؟ Let's Data Science کے جائزے میں کام کے نمونے، براہِ راست فنی گفتگو اور فیصلوں کی وجہ سمجھانے کو جانچ کے ممکنہ طریقوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ تینوں ثبوت تیار نتیجے کے ساتھ اس تک پہنچنے کی سمجھ بھی سامنے لا سکتے ہیں۔

امریکی سروے ابتدائی بھرتی کے بارے میں کیا دکھاتا ہے

سروے کا دائرہ امریکا تھا اور جواب دینے والے افراد اپنے اداروں میں بھرتی کے عمل سے وابستہ تھے۔ اس لیے اس کے نتائج سے پاکستانی اداروں میں AI کے استعمال، ملازمتوں کی تعداد یا بھرتی کرنے والوں کی رائے کا تناسب اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے لیے اس خبر کی اہمیت ایک قابلِ شناخت مسئلہ ہے: جب درخواست کا متن اور گھر پر مکمل کی گئی مشق دونوں AI سے سنواری جا سکیں تو صرف ان کی ظاہری خوبی سے امیدوار کی اپنی صلاحیت واضح نہیں ہوتی۔

ابتدائی کیریئر میں یہ فرق زیادہ اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ امیدوار کے پاس سابقہ ملازمت میں کیے گئے کام کی طویل تاریخ عموماً موجود نہیں ہوتی۔ WGU کے تفصیلی تبصرے کے مطابق جن امریکی جواب دہندگان کو AI کے باعث مہارت جانچنا مشکل لگا، ان میں 54٪ نے اپنے ادارے میں ابتدائی سطح کی بھرتی کم ہونے کی اطلاع دی؛ دوسرے گروہ میں یہ شرح 20٪ تھی۔ دونوں باتیں ایک ہی گروہ میں زیادہ دیکھی گئیں، مگر سروے یہ ثابت نہیں کرتا کہ جانچ کی مشکل نے خود بھرتیاں کم کیں۔

سی وی، تعلیمی سند اور تیار اسائنمنٹ امیدوار کے بارے میں مختلف معلومات دیتے ہیں۔ مشکل وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں مکمل جواب تو موجود ہو، لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ مسئلے کی تشخیص کس نے کی، غلط نتیجہ کس نے پکڑا اور آخری انتخاب کس بنیاد پر ہوا۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے امیدوار کے کام کا ایسا ثبوت مفید ہے جس پر مخصوص سوال پوچھا جا سکے۔

پورٹ فولیو میں تیار نتیجے سے زیادہ کیا نظر آنا چاہیے

قابلِ جانچ پورٹ فولیو میں کسی منصوبے کا صرف آخری روپ دکھانے کے بجائے امیدوار کا کردار اور کام کی تبدیلیاں واضح ہونی چاہییں۔ ٹیک امیدوار ایک مسئلہ، اپنا ابتدائی حل، سامنے آنے والی خرابی اور اس کی اصلاح کو مختصر ترتیب میں دکھا سکتا ہے۔ اس سے بھرتی کرنے والے کو یہ پوچھنے کا موقع ملتا ہے کہ کسی تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس کا اثر کیسے جانچا گیا۔

مثلاً ایک فرضی تعلیمی منصوبے میں امیدوار نے چھوٹی ایپ بنائی ہو تو مکمل ایپ کے ساتھ یہ بتانا زیادہ معنی رکھتا ہے کہ اس نے کون سا حصہ خود تیار کیا اور کس جگہ دوسروں یا AI سے مدد لی۔ اگر کام مشترکہ تھا تو اپنی ذمہ داری کو پوری ٹیم کے نتیجے سے الگ بیان کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح پورٹ فولیو میں موجود ہر کامیابی کے بارے میں امیدوار کا دعویٰ زیادہ واضح اور قابلِ سوال بنتا ہے۔

کام کی ترتیب دکھانے کا مطلب ہر مسودہ یا ہر تبدیلی محفوظ کرنا نہیں۔ چند فیصلہ کن مراحل کافی ہو سکتے ہیں: پہلے مسئلہ کیا تھا، کون سا حل آزمایا گیا، کس جانچ نے خرابی ظاہر کی اور اس کے بعد کیا بدلا۔ اگر امیدوار کسی متبادل طریقے کو چھوڑنے کی وجہ بھی بتا سکے تو دیکھنے والے کو نتیجے کے ساتھ اس کی فنی ترجیحات سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

ایسا نمونہ ملازمت کے منصوبے ہی سے آنا ضروری نہیں؛ تعلیمی یا ذاتی کام بھی گفتگو کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اس کی قدر اس بات سے بنتی ہے کہ امیدوار اپنے حصے، طریقے اور نتیجے کی حدود کی وضاحت کر سکے۔ تیار نمونے پر ایک نئی شرط رکھ کر سوال پوچھا جائے تو یہ بھی سامنے آ سکتا ہے کہ امیدوار پہلے سے لکھا جواب دہرا رہا ہے یا مسئلے کے مطابق سوچ رہا ہے۔

براہِ راست گفتگو میں کون سی مہارت سامنے آتی ہے

کام کا نمونہ یہ دکھاتا ہے کہ کیا تیار ہوا؛ براہِ راست گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ امیدوار اسے کس حد تک سمجھتا ہے۔ بھرتی کرنے والا پوچھ سکتا ہے کہ کام کہاں سے شروع ہوا، دو ممکنہ حلوں میں کیا فرق تھا اور نتیجے کو درست ماننے سے پہلے کیا جانچا گیا۔ ایسے سوالات کا مقصد اصطلاحات کی فہرست سننا نہیں، بلکہ امیدوار کے فیصلوں کی وجہ سمجھنا ہے۔

اسی نمونے میں ایک چھوٹی تبدیلی کی صورت پیش کرنا گفتگو کو زیادہ ٹھوس بنا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر فرضی ایپ کو کمزور انٹرنیٹ پر بھی چلانا ہو تو امیدوار سے پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ پہلے کس حصے کو بدلے گا اور کیوں۔ یہ فرضی سوال کسی ایک درست جواب سے زیادہ مسئلے کو نئے حالات میں سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔ امیدوار یہ بھی بتا سکتا ہے کہ جواب دینے سے پہلے اسے کون سی معلومات درکار ہوں گی۔

اس طریقے کی اپنی حد ہے: روانی سے بولنا ہمیشہ بہتر فنی صلاحیت کے برابر نہیں ہوتا۔ ادارہ اگر امیدواروں سے یکساں نوعیت کے سوال پوچھے اور پہلے سے واضح کرے کہ مسئلے کی سمجھ، حل کی وجہ اور جانچ میں کیا دیکھا جائے گا تو گفتگو کا مقصد زیادہ صاف رہتا ہے۔ امیدوار کو بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اسے محض تیار نتیجہ پیش نہیں کرنا، اس کے پیچھے اپنا استدلال واضح کرنا ہے۔

AI کی مدد اور انسانی فیصلہ الگ کیسے دکھایا جائے

AI کی مدد استعمال کرنے کی وضاحت کام کو قابلِ جانچ بناتی ہے۔ امیدوار مختصراً بتا سکتا ہے کہ آلے سے ابتدائی خیال، خاکہ یا کوڈ کا کون سا حصہ لیا، پھر خود کیا بدلا اور آخری نتیجے کو کیسے پرکھا۔ اہم بات طویل گفتگو کا ریکارڈ جمع کرانا نہیں، بلکہ وہ فیصلے نمایاں کرنا ہے جن کے بغیر کام کی سمت یا معیار مختلف ہوتا۔

فرض کریں AI نے کسی مسئلے کا ابتدائی حل دیا، مگر جانچ میں اس سے غلط نتیجہ نکلا۔ یہ ایک فرضی مثال ہے۔ امیدوار اگر غلطی دکھا سکے، اس کی وجہ سمجھا سکے اور اصلاح کے بعد دوبارہ جانچ کا طریقہ بتائے تو اس کی اپنی ذمہ داری زیادہ واضح ہوتی ہے۔ محض یہ کہنا کہ AI استعمال ہوا تھا، اتنی معلومات نہیں دیتا جتنی یہ بتانا کہ اس کی تجویز میں کیا قبول یا رد کیا گیا۔

بھرتی کرنے والے ادارے کی طرف سے بھی مشق کی شرط واضح ہونی چاہیے۔ جہاں AI کی اجازت ہو، وہاں امیدوار سے آلے کی مدد، اپنی تبدیلی اور نتیجے کی تصدیق الگ بیان کرنے کو کہا جا سکتا ہے؛ جہاں استعمال محدود ہو، وہاں حد کام شروع ہونے سے پہلے بتانا ضروری ہے۔ یوں امیدوار جانتا ہے کہ ادارہ تیار جواب، آلے کے استعمال کی صلاحیت یا خود مسئلہ حل کرنے کی اہلیت میں سے کیا جانچ رہا ہے۔

پاکستانی ابتدائی کیریئر امیدوار کے لیے سب سے مضبوط درخواست وہ ہوگی جس میں کام کی ترتیب دیکھی جا سکے، اس پر براہِ راست سوال کیے جا سکیں اور AI کی مدد کے باوجود آخری فیصلے کی ذمہ داری واضح ہو۔ ٹیک ادارے کے لیے یہی فرق کسی خوب صورت اسائنمنٹ کو امیدوار کی قابلِ اعتماد مہارت کے ثبوت میں بدل سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0