کام کا مستقبل

Gen Z کے 82٪ خود کو عالمی workforce سمجھتے ہیں، AI مہارت پیچھے

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|6 منٹ مطالعہ| 1
Gen Z کے 82٪ خود کو عالمی workforce سمجھتے ہیں، AI مہارت پیچھے

Pebl کی 27 اگست 2026 کی سروے ریلیز کے مطابق 1,022 امریکی Gen Z knowledge workers میں سے 82٪ نے خود کو عالمی workforce کا حصہ سمجھا۔ Researchscape نے Pebl کی جانب سے یہ آن لائن سروے 6 سے 16 جولائی 2026 تک کیا اور جوابات کو آبادی کے تناسب سے وزن نہیں دیا گیا۔

TechRadar کی 28 اگست کی رپورٹ نے انہی شائع شدہ نتائج میں بتایا کہ 73٪ respondents کے نزدیک international experience نقطۂ نظر وسیع کرتا ہے، 71٪ نے اسے leadership اور 68٪ نے problem-solving کے لیے مفید کہا۔ طویل مدتی career success کے سوال میں professional networks کو 28٪، leadership یا management experience کو 26٪ اور AI skills کو 11٪ نے اولین ترجیح دی۔ یہ امریکی sample کے خیالات ہیں، پاکستانی Gen Z یا تمام نوجوان کارکنوں کی نمائندہ پیمائش نہیں۔

سروے نے عالمی career کے بارے میں کیا ناپا

Pebl کے امریکی Gen Z سروے کے محدود sample اور methodology کا جائزہ

82٪ کا عدد بیرونِ ملک ملازمت، relocation یا remote contract حاصل کرنے والوں کی شرح نہیں۔ یہ respondents کی پیشہ ورانہ شناخت بتاتا ہے: وہ خود کو ایسی workforce کا حصہ سمجھتے ہیں جو صرف امریکی سرحدوں تک محدود نہیں۔ اس لیے نتیجہ عالمی career کی طرف ذہنی رجحان دکھاتا ہے، مکمل international employment کا ثبوت نہیں۔

اسی sample میں 69٪ نے مختلف ملکوں اور ثقافتوں کے ساتھیوں کے ساتھ کام کو career-defining فائدہ قرار دیا، جبکہ 41٪ نے ایسا career تصور کیا جو دو یا تین ملکوں یا markets تک پھیلا ہو۔ 64٪ کسی دوسرے ملک میں عارضی کام کے موقع میں بہت یا انتہائی دلچسپی رکھتے تھے اور 59٪ نے کہا کہ international opportunities کی کمی job offer قبول کرنے کے فیصلے کو متاثر کر سکتی ہے۔

یہ اعداد خواہش اور ترجیح ناپتے ہیں، رسائی نہیں۔ ان سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کتنے respondents کو مناسب vacancy، visa، قانونی work authorization یا relocation budget دستیاب ہوگا، اور نہ ہی یہ ثابت ہوتا ہے کہ عالمی شناخت رکھنے والا ہر respondent remote-only ملازمت چاہتا ہے۔

عالمی workforce صرف remote job کا دوسرا نام نہیں

سروے میں global career کئی ممکنہ صورتیں رکھتا ہے: اپنے ملک سے دوسرے markets کے ساتھیوں کے ساتھ کام، عارضی international assignment، متعدد markets کی ذمہ داری یا باقاعدہ relocation۔ لہٰذا 82٪ کو بیرونِ ملک منتقل ہونے کی خواہش یا مستقل remote work کی طلب کہنا اصل پیمائش سے زیادہ وسیع دعویٰ ہوگا۔

پاکستانی قاری کے لیے یہ حد بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ امریکی respondents کے مقابلے میں پاکستانی امیدواروں کو پاسپورٹ اور visa access، وقت کے فرق، foreign-currency payments، contract classification، مقامی internet reliability اور مختلف ممالک کے employment rules کا الگ سامنا ہوسکتا ہے۔ Pebl کے سروے نے ان پاکستانی حالات کی پیمائش نہیں کی، اس لیے اس کے percentages کو مقامی labour market پر براہِ راست لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

HR Executive کے یکم ستمبر کے تجزیے نے بھی واضح کیا کہ vendor-sponsored survey respondents کے تاثرات ناپتا ہے، دستیاب global-career programs کی تعداد نہیں۔ اسی رپورٹ میں cost of living اور مالی خدشات 59٪ کے ساتھ سب سے زیادہ بیان کردہ رکاوٹ تھے؛ language skills 43٪، خاندانی یا ذاتی ذمہ داریاں 42٪ اور visa یا work authorization کی شرائط 40٪ پر رہیں۔

Networks اور leadership، AI skills سے کیوں آگے رہیں

بین الثقافتی project میں leadership اور انسانی فیصلے کو AI مہارت پر ترجیح

11٪ کا نتیجہ یہ نہیں کہ باقی respondents AI کو غیر ضروری سمجھتے یا استعمال نہیں کرتے۔ سوال یہ تھا کہ دیے گئے عوامل میں سے طویل مدتی career success کا سب سے اہم driver کون سا ہے؛ یہ ہر skill کی الگ افادیت، proficiency یا روزمرہ استعمال کی پیمائش نہیں تھی۔ منتخب عنوان میں AI مہارت کے ”پیچھے“ رہنے کا مطلب اسی محدود ranking میں تیسری جگہ ہے۔

نتائج سے محتاط طور پر یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ surveyed knowledge workers صرف tool proficiency کو کافی career advantage نہیں سمجھتے۔ professional relationships بنانا، ذمہ داری لینا، مختلف پس منظر رکھنے والے ساتھیوں کے ساتھ فیصلے کرنا اور اختلاف کے باوجود کام مکمل کرنا ایسی صلاحیتیں ہیں جنہیں انہوں نے اس سوال میں زیادہ اہمیت دی۔

AI اور انسانی صلاحیتوں کو مکمل متبادل سمجھنا بھی نتائج کی درست تعبیر نہیں۔ سروے میں 78٪ respondents کا خیال تھا کہ AI مختلف ملکوں اور ثقافتوں میں کام جیسے منفرد انسانی تجربات کو مزید قیمتی بنائے گا۔ یوں اصل تقابل AI استعمال کرنے یا نہ کرنے کے درمیان نہیں، بلکہ طویل مدتی کامیابی کی اولین ترجیح کے درمیان ہے۔

پاکستانی امیدوار کے لیے قابلِ ثبوت global-career portfolio

پاکستانی امیدوار عالمی hiring کے لیے cross-border کام اور leadership کے ثبوت پیش کرتے ہوئے

یہ امریکی نتائج پاکستان کی پیش گوئی نہیں کرتے، مگر international hiring میں global readiness کے دعوے کو قابلِ جانچ بنانے کا ایک مفید فریم دیتے ہیں۔ امیدوار کے portfolio میں AI courses یا tools کی فہرست کے ساتھ ایسے artifacts بھی شامل ہوسکتے ہیں جو cross-cultural execution دکھائیں: مختلف ملکوں کے ساتھیوں کے ساتھ مکمل project، واضح ذمہ داریاں، decision log، تحریری handover اور قابلِ بیان outcome۔ یہ ادارتی اطلاق ہے، سروے میں آزمایا گیا نتیجہ نہیں۔

Leadership کا ثبوت صرف job title نہیں۔ student team میں کام تقسیم کرنا، distributed contributors کے درمیان deadline سنبھالنا، feedback کے بعد scope تبدیل کرنا یا اختلاف حل کرکے delivery مکمل کرنا ابتدائی career میں بھی leadership example بن سکتا ہے۔ مضبوط مثال میں امیدوار مسئلہ، اپنا کردار، فیصلہ اور نتیجہ الگ الگ واضح کرتا ہے؛ صرف ”global team player“ لکھنا cross-border competence ثابت نہیں کرتا۔

Remote collaboration کے ثبوت میں مختلف time zones کے لیے meeting اور asynchronous work کا توازن، تحریری status updates، version history، issue resolution اور stakeholder feedback شامل ہوسکتے ہیں۔ حساس client material ظاہر کیے بغیر anonymised excerpt، public repository، project retrospective یا supervisor کی تصدیق دعوے کو قابلِ جانچ بنا سکتی ہے۔ AI-assisted کام دکھاتے وقت output verification، privacy کی پابندی اور آخری انسانی فیصلے کی ذمہ داری واضح رکھنا اسی portfolio کو زیادہ معتبر بناتا ہے۔

کن سوالات کے جواب ابھی موجود نہیں

دستیاب خبر Pebl کے commissioned، online اور unweighted امریکی sample تک محدود ہے: اس میں عالمی پیشہ ورانہ شناخت مضبوط نظر آئی اور ایک مخصوص priority سوال میں networks اور leadership نے AI skills سے زیادہ انتخاب حاصل کیا۔ TechRadar اور HR Executive نے انہی جاری کردہ نتائج کو الگ ادارتی رپورٹس میں نقل اور سیاق دیا، لیکن کسی نے سروے کو آزاد sample کے ساتھ دوبارہ نہیں آزمایا۔

پاکستانی یا کثیرملکی تقابلی sample، response rate، تمام سوالات کی مکمل wording، عمر اور پیشوں کے لحاظ سے جامع breakdown اور وقت کے ساتھ تبدیلی دکھانے والی دوسری wave دستیاب نہیں۔ ان معلومات کے بغیر یہ طے نہیں کیا جاسکتا کہ یہی ترتیب پوری Gen Z میں کتنی عام ہے، پاکستانی knowledge workers بھی انہی ترجیحات کے حامل ہیں، یا بیان کردہ خواہشیں واقعی international placements میں تبدیل ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں:

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0