
AI نے نئے گریجویٹس کی بے روزگاری نہیں بڑھائی—ابھی ثبوت یہی ہے

امریکا میں نئے کالج گریجویٹس کی بے روزگاری کے بارے میں ستمبر ۲۰۲۶ کے CESifo ورکنگ پیپر میں رابرٹ فیئرلی اور جین وو کو جون تا اگست ۲۰۲۶ کی شرح ۷٫۳ فی صد ملی، جو ۲۰۲۲ سے ۲۰۲۵ کی گرمیوں کے ۶٫۳ تا ۷٫۸ فی صد دائرے میں تھی؛ ان کے تجزیے میں کوئی غیر معمولی یا شماریاتی طور پر نمایاں اضافہ سامنے نہیں آیا۔ یہ امریکی سروے کے اعداد سے نکلا ابتدائی نتیجہ ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مصنوعی ذہانت کسی خاص پیشے میں نئی بھرتیاں کم نہیں کر رہی یا آئندہ ایسا نہیں کرے گی۔
۲۸ ستمبر ۲۰۲۶ کی TechRadar کی رپورٹ نے اس امریکی نتیجے کو ابتدائی ملازمتوں پر مصنوعی ذہانت کے اثر کی جاری بحث میں رکھا۔ نئے گریجویٹ کے لیے فوری جواب یہ ہے کہ اس موسم کی مجموعی بے روزگاری میں بڑی چھلانگ نہیں ملی، جبکہ مخصوص پیشوں میں نوجوان کارکنوں کی بھرتی کا رجحان کمزور ہو سکتا ہے۔ یہ دونوں مشاہدے ایک ساتھ درست ہو سکتے ہیں: ایک شرح ملازمت ڈھونڈنے والے افراد کو گنتی ہے، دوسرا ملازمتوں اور بھرتیوں کو۔
گرمیوں کی شرح کا تقابل پچھلی گرمیوں سے کیوں ہوا
کالج کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد بہت سے لوگ گرمیوں میں پہلی ملازمت تلاش کرتے ہیں۔ اس لیے نئے گریجویٹس کی بے روزگاری میں موسمی اضافہ معمول کا حصہ ہے؛ صرف بہار اور گرمیوں کو ملانے سے معمول کی تبدیلی بھی کسی نئے جھٹکے جیسی لگ سکتی ہے۔ مناسب سوال یہ تھا کہ حالیہ موسمِ گرما اپنے جیسے پچھلے موسموں سے کتنا مختلف تھا۔ اسی تقابل میں تازہ شرح پہلے دیکھی گئی حد کے اندر رہی۔
جانچ صرف ایک سال کی خام شرح تک محدود نہیں تھی۔ حالیہ گریجویٹس کا موازنہ عمر میں بڑے ڈگری یافتہ افراد اور انہی عمر کے غیر ڈگری یافتہ کارکنوں سے بھی کیا گیا۔ اس طرح یہ دیکھا جا سکتا تھا کہ نوجوان ڈگری یافتہ گروہ کی صورت حال باقی کارکنوں کی نسبت غیر معمولی طور پر بگڑی یا نہیں۔ کسی بھی تقابل میں ایسا اضافہ شماریاتی طور پر واضح نہیں نکلا، اگرچہ مقامی ملازمتوں یا الگ پیشوں میں مقابلے کی شدت مجموعی شرح سے مختلف ہو سکتی ہے۔
بے روزگاری کی شرح کن لوگوں کو شمار کرتی ہے
سرکاری بے روزگاری کی شرح میں عموماً وہ شخص آتا ہے جس کے پاس کام نہیں، جو کام کے لیے دستیاب ہے اور جس نے فعال طور پر ملازمت تلاش کی ہے۔ ملازمت چاہنے والا ایسا گریجویٹ جس نے تلاش روک دی ہو، اس شرح کے مخرج سے بھی باہر رہ سکتا ہے۔ اس لیے کم یا مستحکم شرح کو ہر بے روزگار نوجوان کے لیے آسان حالات کا نشان سمجھنا درست نہیں۔
اسی خلا کو دیکھنے کے لیے تحقیق میں ایک وسیع پیمانہ بھی استعمال ہوا، جس میں کام چاہنے والے مگر فعال تلاش سے باہر افراد شامل کیے گئے۔ اس تعریف سے بے روزگاری کی سطح بلند ہوئی اور حالیہ گرمیوں میں پچھلے موسم کے مقابلے میں کچھ اضافہ بھی نظر آیا، لیکن شماریاتی جانچ میں وہ اضافہ واضح انحراف نہیں بنا۔ یہ فرق اہم ہے: کام کی خواہش رکھنے والے شخص کی مشکل حقیقی ہو سکتی ہے، مگر صرف اس پیمانے سے یہ طے نہیں ہوتا کہ مشکل کی وجہ مصنوعی ذہانت ہے۔
تنخواہوں کے ریکارڈ میں کم بھرتی کیوں دکھائی دی
اسٹینفورڈ کی نظرثانی شدہ تحقیق میں امریکی تنخواہوں کے ریکارڈ کے مطابق مصنوعی ذہانت سے زیادہ متاثرہ پیشوں کے ۲۲ سے ۲۵ سالہ کارکنوں کا روزگار، کم متاثرہ پیشوں کے ہم عمر کارکنوں کی رفتار سے تقابل پر، ۱۹ فی صد پیچھے تھا۔ فرق کا بڑا راستہ نئی بھرتیوں میں کمی دکھائی دیا، پہلے سے کام کرنے والوں کی وسیع برطرفی نہیں۔ یہ تمام نئے ڈگری یافتہ افراد کی بے روزگاری کی شرح نہیں، بلکہ مخصوص پیشوں میں ملازم نوجوان کارکنوں کا نسبتی تقابل ہے؛ اس سے مصنوعی ذہانت کا قطعی سببی اثر بھی نہیں ناپا جا سکتا۔
دونوں تحقیقات کی آبادی اور پیمانہ مختلف ہیں۔ تنخواہوں کا ریکارڈ متعلقہ آجرین کے ہاں موجود ملازمتوں اور بھرتیوں کی تبدیلی دکھاتا ہے۔ آبادی کا سروے ان لوگوں کو بھی دیکھ سکتا ہے جو ابھی ملازمت نہیں پا سکے یا تلاش سے باہر ہیں۔ کسی پیشے میں نوجوان کارکنوں کی تعداد توقع سے کم رہ سکتی ہے، جبکہ تمام نئے گریجویٹس کی مجموعی بے روزگاری میں بڑی تبدیلی نظر نہ آئے۔ کم بھرتی کا اثر دوسری صنعت میں کام ملنے، تلاش جاری رکھنے یا تلاش چھوڑنے کی صورت میں الگ الگ ظاہر ہو سکتا ہے۔
کم ملازمتیں اور کم شرح ایک ساتھ کیسے ممکن ہیں
ایک فرضی مثال اس فرق کو واضح کرتی ہے۔ فرض کریں سو گریجویٹس میں نوے ملازم ہیں اور دس کام تلاش کر رہے ہیں؛ بے روزگاری کی شرح دس فی صد ہوگی۔ بعد میں اسی گروہ میں اسی ملازم رہ جائیں، آٹھ فعال تلاش کریں اور بارہ تلاش سے باہر ہوں تو ملازمتیں کم ہونے کے باوجود سرکاری بے روزگاری کی شرح تقریباً نو فی صد بنے گی، کیونکہ اس کا حساب اب اٹھاسی افراد کی افرادی قوت پر ہوگا۔ یہ امریکی تحقیق کے اعداد نہیں، صرف شرح کے حساب کی وضاحت ہے۔
ملازمتوں کی مجموعی تعداد ایک اور سوال کا جواب دیتی ہے: کتنے لوگوں کے پاس کام ہے؟ بے روزگاری کی شرح پوچھتی ہے: کام کرنے والوں اور فعال تلاش کرنے والوں میں سے کتنے لوگ کام سے محروم ہیں؟ پہلی تعداد گھٹ سکتی ہے اور دوسری شرح مستحکم رہ سکتی ہے۔ اسی لیے ایک موسم کی شرح طویل مدتی روزگار اثر کا آخری فیصلہ نہیں بن سکتی، خصوصاً جب نئے افراد پہلی ملازمت کے لیے بازار میں داخل ہو رہے ہوں۔
پاکستانی گریجویٹ کے لیے نتیجے کی حد
یہ نتائج امریکی کارکنوں، امریکی آجرین اور وہاں کے سروے یا تنخواہوں کے ریکارڈ سے متعلق ہیں۔ ان سے پاکستان میں ابتدائی آسامیوں کی تعداد، مقامی بے روزگاری یا کسی پاکستانی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے اثر کی شرح اخذ نہیں کی جا سکتی۔ البتہ پیمائش کا فرق یہاں بھی متعلق ہے: کسی مطلوبہ پیشے میں نئی بھرتیاں، اس پیشے میں پہلے سے کام کرنے والوں کی تعداد اور ملازمت تلاش کرنے والوں کی شرح الگ سوالات ہیں۔ ایک مجموعی عدد ان سب کا جواب نہیں دیتا۔
اس غیر یقینی صورت حال میں تین مہارتوں پر سرمایہ کاری نسبتاً کم پچھتاوے والا انتخاب ہے: اپنے مضمون کی بنیادی سمجھ، تاکہ کام کے نتیجے کی درستگی پرکھ سکیں؛ مصنوعی ذہانت کے اوزار استعمال کرتے ہوئے ان کی غلطیوں اور ماخذ کی پڑتال؛ اور مسئلہ واضح کرنے، دوسروں کے ساتھ کام کرنے اور اپنا نتیجہ قابل فہم انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت۔ یہ ملازمت کی ضمانت نہیں۔ ان کی افادیت اس بات پر کم منحصر ہے کہ آنے والی گرمیوں میں مجموعی بے روزگاری کی شرح بدلے گی یا کسی خاص پیشے میں بھرتی کا راستہ بدلے گا۔
آنے والی فارغ التحصیل جماعتوں کے اعداد سے زیادہ واضح ہوگا کہ ابتدائی ملازمتوں میں داخلے کے مواقع کیسے بدل رہے ہیں۔ اس وقت بے روزگاری کے ساتھ نئی بھرتیوں اور تلاش سے باہر رہ جانے والے گریجویٹس کو بھی دیکھنا ہوگا؛ انہی میں اس موسم کے بعد آنے والی تبدیلی کا اثر پہلے دکھائی دے سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
متعلقہ مضامین


Amazon نے 30 ہزار نوکریاں کاٹیں، اب سابق AI ماہرین واپس چاہییں

AI نے ملازمین کم نہیں کیے، مگر نئی بھرتی کا دروازہ ضرور تنگ ہوا

AI-exposed شعبوں میں نوجوانوں کا روزگار 19٪ پیچھے، مگر سبب قطعی نہیں

AI انٹرویو سے 92٪ امیدوار مطمئن، مگر نتیجہ کون جانچے گا؟

صرف 42.9٪ کارکن پُرامید، AI کا ذکر ایک سال میں 164٪ بڑھا
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔