Chandra کو 84 عجیب X-ray ذرائع ملے، ان کی اصل ابھی نامعلوم ہے

9 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی تحقیق میں NASA کے Chandra X-ray Observatory کے محفوظ مشاہدات سے چھ قریبی کہکشاؤں میں 84 غیر معمولی ذرائع شناخت کیے گئے۔ Chandra X-ray Center کے اعلان کے مطابق یہ نقطہ نما ذرائع کم ترین X-ray توانائی پر دکھائی دیتے ہیں، مگر نسبتاً بلند توانائی والی تصاویر میں مدھم پڑ جاتے یا غائب ہو جاتے ہیں۔
محققین نے اس مشاہداتی گروہ کو hypersoft X-ray sources یا HSSs کہا ہے۔ ان کا انتہائی نرم X-ray اخراج براہ راست ریکارڈ ہوا، جبکہ طیفی نمونے بتاتے ہیں کہ مجموعی تابکاری کا بڑا حصہ شدید extreme ultraviolet، یعنی EUV، میں نکل سکتا ہے؛ اس اخراج کا اصل انجن black hole، neutron star یا white dwarf والا binary نظام ہو سکتا ہے، مگر کسی ایک شناخت کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی۔
محفوظ تصاویر میں 84 ذرائع کیسے نمایاں ہوئے

مشاہدہ: مصطفیٰ محب اللہ، جمی اے ارون اور روزین ڈی اسٹیفانو کی ٹیم نے نئی رصدگاہی مہم کے بجائے عوامی Chandra archive کا منظم جائزہ لیا۔ انتخاب کا بنیادی نشان ایسا نقطہ نما، کہکشاں کے مرکز سے باہر واقع ذریعہ تھا جو بنیادی طور پر یا صرف 0.3 keV سے کم توانائی پر ملتا تھا۔
محققین نے چھ کہکشائیں دیکھیں: spiral کہکشائیں M31، یعنی Andromeda، اور M101، یعنی Pinwheel Galaxy، نیز چار elliptical کہکشائیں۔ HSSs نوجوان ستارے بننے والے علاقوں کے ساتھ ان حصوں میں بھی ملے جہاں پرانے ستارے غالب ہیں، اس لیے پوری آبادی کو صرف ایک عمر یا ایک قسم کے stellar ماحول سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
مشاہدہ اور حد: کم توانائی والی تصویر میں موجود مگر نسبتاً بلند توانائی والی تصویر میں غائب نقطہ ایک مضبوط امیدوار تھا۔ اس طریقے سے ملنے والے 84 اجسام مکمل کائناتی مردم شماری نہیں؛ انتہائی نرم photons کو جذب کرنے والی گیس اور Chandra کی اس پٹی میں محدود حساسیت کے باعث مزید ذرائع نظروں سے اوجھل ہو سکتے ہیں۔
نرم X-rays اور ممکنہ شدید EUV کا تضاد

مشاہدہ: HSSs کا قابل شناخت اخراج 0.15 سے 0.3 keV کی پٹی میں مرتکز ہے، جبکہ 0.3 سے 1.0 keV میں بہت کم یا غیر موجود ہے۔ یہاں “نرم” سے مراد مدھم روشنی نہیں بلکہ photon کی نسبتاً کم توانائی ہے؛ اسی غیر معمولی نرمی سے hypersoft نام نکلا ہے۔
برقی مقناطیسی طیف میں EUV کی پٹی ultraviolet اور کم توانائی والی X-rays کے درمیان واقع ہے۔ اگر کسی گرم ذریعے کے اخراج کا عروج EUV میں ہو تو Chandra اس طیف کا صرف بلند توانائی والا کنارہ پکڑ سکتا ہے—بالکل اسی طرح جیسے پردے کے پیچھے موجود چراغ کا صرف کنارے سے نکلتا نور دکھائی دے۔
استنباط: Nature Astronomy کے تحقیقی مقالے میں طیفی نمونے بتاتے ہیں کہ ان ذرائع کی زیادہ تر مجموعی توانائی EUV میں نکل سکتی ہے؛ زیادہ روشن مثالیں صرف محدود X-ray پٹی میں تقریباً 10 کی قوت 38 erg فی سیکنڈ تک پہنچتی ہیں۔ یہ براہ راست EUV تصویر نہیں، کیونکہ بین النجمی hydrogen اور helium اس شعاع کو آسانی سے جذب کر لیتے ہیں۔
اسی فرق کی وجہ سے “کم توانائی کی X-rays مگر شدید ultraviolet” ایک بظاہر متضاد امتزاج بنتا ہے: X-ray detector کو نسبتاً کم photons ملتے ہیں، لیکن نمونے ان کے پیچھے کہیں زیادہ طاقت ور، کم توانائی پر عروج پانے والے اخراج کی نشان دہی کرتے ہیں۔ چنانچہ شدید EUV کو مشاہدے اور model-based inference کے درمیان فرق برقرار رکھتے ہوئے سمجھنا ضروری ہے۔
ممکنہ binary نظام تین طرح کے compact اجسام رکھتے ہیں

محتاط تشریح: غالب امکان یہ ہے کہ HSSs ایک ہی جسمانی قسم نہیں بلکہ کئی binary نظاموں کا مجموعہ ہیں۔ ایسے نظام میں ایک compact مردہ ستارہ اپنے ساتھی سے مادہ کھینچتا ہے؛ یہ مادہ گرم ہو کر تابکاری پیدا کرتا ہے، مگر HSSs کا طیف معروف X-ray binaries کے مقابلے میں کہیں کم توانائی پر مرتکز ہے۔
ممکنہ مرکزی جسم white dwarf، neutron star یا black hole ہو سکتا ہے۔ M31 کے بعض کم روشن HSSs کا novae سے تعلق white dwarf یا post-nova نظاموں کی طرف اشارہ کرتا ہے، جبکہ زیادہ روشن ذرائع کے لیے مادہ نگلنے والے black holes سمیت دوسری تشریحات زیر غور ہیں۔ ایک ہی model ابھی تمام 84 ذرائع کی خصوصیات نہیں سمجھاتا۔
نامعلوم: انفرادی ذریعے کی قطعی نوعیت، ساتھی ستارے کی قسم اور اخراج پیدا کرنے والا درست عمل طے نہیں ہوا۔ Space.com کی آزاد رپورٹ بھی 84 ذرائع اور چھ کہکشاؤں کی تصدیق کرتی ہے، مگر compact binary کو حتمی شناخت نہیں بلکہ زیر تحقیق تشریح کے طور پر پیش کرتی ہے۔
یہ آبادی دو دیرینہ سوالوں سے کیوں جڑتی ہے
پہلا سوال Type Ia supernovae کے پیش رو نظاموں کا ہے۔ ایک ممکنہ راستے میں ساتھی ستارے سے مادہ لینے والا white dwarf بالآخر دھماکے کی حالت تک پہنچتا ہے، لیکن دھماکے سے پہلے کے ایسے نظاموں کی آبادی کی شناخت مشکل رہی ہے۔ اگر بعض HSSs بڑھتے ہوئے یا post-nova white dwarfs ہیں تو وہ اس پوشیدہ مرحلے کا سراغ دے سکتے ہیں؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر HSS مستقبل میں Type Ia supernova بنے گا۔
دوسرا سوال بعض کہکشاؤں کی بین النجمی گیس کی ionization کا ہے۔ زیادہ توانائی والے EUV photons ایٹموں سے electrons الگ کر سکتے ہیں، جبکہ معلوم گرم اور بھاری ستارے ہر جگہ مشاہدہ شدہ ionization کی مکمل وضاحت نہیں کرتے۔ اگر HSSs واقعی EUV میں اتنے روشن ہیں جتنا طیفی نمونے بتاتے ہیں تو ان کی پوشیدہ آبادی اس توانائی کے ایک اضافی ذریعے کی وضاحت کر سکتی ہے۔
یہ دونوں امکانات دریافت کی اہمیت بتاتے ہیں، لیکن ابھی نتائج نہیں ہیں۔ Type Ia پیش رو اور galactic ionization سے تعلق model-based مفروضے ہیں جنہیں ہر ذریعے کی جسمانی شناخت اور اس کی حقیقی مجموعی توانائی طے ہونے کے بعد ہی مضبوطی سے جانچا جا سکے گا۔
نئی class کا مطلب نئی جسمانی نوعیت کی تصدیق نہیں
اس وقت مضبوط نتیجہ یہ ہے کہ Chandra archive میں چھ کہکشاؤں کے 84 روشن، نقطہ نما اور non-nuclear ذرائع ایک مشترک انتہائی نرم X-ray رویہ دکھاتے ہیں۔ “نئی class” اسی مشاہداتی مماثلت کا نام ہے؛ یہ اعلان نہیں کہ سائنس دانوں نے ایک ہی نئی قسم کا compact object شناخت کر لیا ہے۔
اگلی جانچ میں ان ذرائع کی وقت کے ساتھ بدلتی چمک، مختلف wavelengths پر ممکنہ ساتھیوں اور زیادہ تفصیلی spectra کو ملانا اہم ہوگا۔ انہی شواہد سے واضح ہو سکے گا کہ آیا تمام HSSs کے پیچھے ایک بنیادی عمل ہے یا ایک جیسے نرم X-ray نشان کے اندر white dwarf، neutron star اور black hole والے مختلف binary خاندان چھپے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔