XRISM نے pulsar کی disk ٹوٹتے اور الٹی سمت بنتے دیکھی

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|6 منٹ مطالعہ| 2
XRISM نے pulsar کی disk ٹوٹتے اور الٹی سمت بنتے دیکھی

XRISM کی ایکس رے پیمائش نے BP Crucis میں نیلے hypergiant ستارے سے نکلنے والا plasma اس کے pulsar کی طرف گرتے ہوئے براہِ راست شناخت کیا ہے۔ 18 ستمبر 2026 کو جاری NASA کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق، طیفی شواہد کی بنیاد پر محققین نے یہ ترتیب اخذ کی کہ accretion disk پہلے بنی، angular momentum ناکافی ہونے پر ٹوٹی اور بعد میں مخالف سمت میں گھومتی ہوئی دوبارہ بنی۔

18 ستمبر کو سامنے آنے والے نتائج disk کی مسلسل تصویری فلم نہیں ہیں۔ XRISM نے یکم فروری 2025 کو ایک طاقت ور X-ray flare کے آخری مرحلے کے قریب تقریباً 16 گھنٹے نظام کو دیکھا؛ براہِ راست مشاہدہ اندر گرتے plasma کا طیفی نشان ہے، جبکہ disk کی تشکیل، شکست اور معکوس گردش data، flare کے رویے اور نظام کی معلوم حرکت کو ملا کر بنائی گئی طبیعی تشریح ہے۔

BP Crucis میں XRISM نے کیا ناپا

BP Crucis ایک high-mass X-ray binary ہے جس میں Wray 977 نامی نیلا hypergiant اور GX 301-2 نامی neutron star شامل ہیں۔ Wray 977 سے ionized gas مسلسل خارج ہوتی ہے؛ اسی بہاؤ کو stellar wind کہا جاتا ہے۔ GX 301-2 اپنی گردش کے دوران X-ray شعاع زمین کی سمت بھیجتا ہے، اس لیے اسے pulsar کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

آزاد سائنسی خبر کی تفصیلات کے مطابق، یہ نظام تقریباً 13 ہزار نوری سال دور برج Crux میں ہے، pulsar ہر 11 منٹ میں گھومتا اور اپنے ساتھی کے گرد 41.5 دن میں مدار مکمل کرتا ہے، جبکہ Resolve سے ناپا گیا plasma تقریباً 540,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے pulsar کی جانب بڑھ رہا تھا۔ یہ رفتار کسی تصویر سے نہیں بلکہ انتہائی ionized iron کی absorption lines سے نکالی گئی۔

Resolve spectrometer نے ایکس رے روشنی کو توانائی کے اعتبار سے الگ کیا تو iron کی نمایاں absorption lines تجربہ گاہ میں متوقع مقام کے مقابلے میں کم توانائی پر ملیں۔ اس redshift کا مطلب تھا کہ جذب کرنے والی gas مبصر سے دور اور اس نظام کی geometry میں pulsar کی طرف جا رہی تھی۔ یہی اندرونی حرکت اس تحقیق کا مضبوط ترین براہِ راست نتیجہ ہے۔

چار روزہ عبور میں disk کیوں ٹوٹتی ہے

محققین کی تشریح میں pulsar جب گھنے plasma stream کے ابتدائی کنارے میں داخل ہوتا ہے تو پکڑی گئی gas کے پاس neutron star کے گرد گھومنے کے لیے کافی angular momentum ہوتا ہے۔ یہ مقدار کسی جسم یا بہاؤ کی محوری گردش برقرار رکھنے کی صلاحیت بیان کرتی ہے۔ gas فوراً سطح پر گرنے کے بجائے ایک موٹی اور بے ترتیب accretion disk بناتی ہے، اندر کی طرف چکر لگاتی ہے اور گرم ہو کر X-rays خارج کرتی ہے۔

stream کے اندر بڑھتے ہوئے آنے والی gas کی رفتار اور رخ تبدیل ہوتے ہیں۔ ایک مرحلے پر بہاؤ disk کو قائم رکھنے جتنا angular momentum نہیں لاتا، لہٰذا گھومتی ساخت بکھر جاتی ہے اور plasma نسبتاً براہِ راست neutron star کی طرف گرتا ہے۔ XRISM کا مشاہدہ اسی direct-infall مرحلے کے اختتام کے قریب ہوا، نہ کہ پورے عبور کے ہر لمحے میں۔

stream کے دوسرے کنارے کے قریب gas دوبارہ گردش کے لیے درکار angular momentum حاصل کرتی ہے، لیکن اس کا رخ پہلی disk کے برعکس ہوتا ہے۔ NASA کی سائنسی منظرکشی تقریباً چار روزہ عبور کو تین واضح حالتوں میں دکھاتی ہے: ابتدائی turbulent disk، اس کا ٹوٹنا اور direct infall، پھر مخالف سمت میں بننے والی مختصر دوسری disk، جو pulsar کے stream سے نکلنے پر ختم ہو جاتی ہے۔

مشاہدہ اور سائنسی model میں فرق

XRISM نے جو چیز براہِ راست درج کی وہ ایک high-resolution X-ray spectrum تھا۔ iron lines کی توانائی میں تبدیلی نے gas کی سمت اور رفتار ظاہر کی، جبکہ observation کے دوران absorption اور emission کی خصوصیات میں تیز تبدیلی سے معلوم ہوا کہ pulsar کے قریب plasma کی حالت یکساں نہیں رہی۔ یہ wind-fed accretion کے اس حصے تک غیر معمولی طور پر واضح طیفی رسائی ہے جو عام طور پر براہِ راست ناپنا مشکل ہوتا ہے۔

اس کے برعکس disk کے ہر مرحلے کی مکمل شکل، اس کے گھومنے کا رخ اور پورا زمانی سلسلہ الگ الگ تصویروں میں ریکارڈ نہیں ہوا۔ یہ orbital geometry، X-ray flare، spectrum اور stellar wind کے بہاؤ کو یکجا کرنے والا model ہے۔ اس لیے عنوان میں disk کو ٹوٹتے اور الٹی سمت بنتے دیکھنے سے مراد XRISM data میں درج تبدیلیوں کی طبیعی تعبیر ہے، نہ کہ neutron star کے گرد کسی روشن حلقے کی بصری فوٹوگرافی۔

BP Crucis قدرتی تجربہ گاہ کیوں ہے

BP Crucis میں matter کسی مستقل اور ہموار disk کے ذریعے نہیں آتا بلکہ ایک دیوقامت ساتھی کی غیر یکساں stellar wind سے ملتا ہے۔ آنے والی gas کی کثافت، رفتار اور سمت بدلنے سے accretion کبھی گھومتی disk، کبھی تقریباً سیدھے سقوط اور کبھی معکوس disk کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ ایک ہی orbital passage میں ان حالتوں کا بدلنا angular momentum کے کردار کو جانچنے کا نادر موقع فراہم کرتا ہے۔

Resolve کی spectral resolution نے ionized iron کو plasma کی حرکت کا tracer بنا دیا۔ اس سے محققین صرف مجموعی X-ray چمک دیکھنے کے بجائے یہ ناپ سکتے ہیں کہ gas pulsar کے قریب پہنچتے ہوئے کس طرف اور کتنی تیزی سے حرکت کرتی ہے۔ نتیجہ دوسرے wind-fed X-ray binaries کے models کے لیے قابلِ آزمائش بنیاد فراہم کرتا ہے، مگر ایک نظام کے محدود دورانیے کے مشاہدے کو تمام pulsars کا عمومی رویہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

کون سے سوال ابھی باقی ہیں

موجودہ data ایک flare کے قریب لیے گئے محدود مشاہدے پر مشتمل ہے؛ اس نے پہلی disk کے بننے سے دوسری disk کے خاتمے تک مسلسل نگرانی نہیں کی۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ مخالف سمت کی disk کتنی دیر برقرار رہتی ہے، ہر مدار میں یہی ترتیب کس حد تک دہرائی جاتی ہے اور plasma stream کی باریک ساخت مختلف flares کو کیسے بدلتی ہے۔

مزید orbital phases پر high-resolution spectra اس model کا زیادہ سخت امتحان دے سکتے ہیں۔ فی الحال تصدیق شدہ نتیجہ یہ ہے کہ XRISM نے BP Crucis میں stellar-wind plasma کا GX 301-2 کی طرف تیز بہاؤ ناپا؛ disk کے ٹوٹنے اور مخالف رخ میں دوبارہ بننے کی ترتیب اس measurement سے ہم آہنگ سائنسی تشریح ہے، جسے مسلسل مشاہدات سے مزید جانچنا باقی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0