’Fire amoeba‘ نے 63°C پر افزائش کی، پیچیدہ زندگی کی حد آگے بڑھ گئی

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|6 منٹ مطالعہ| 1
’Fire amoeba‘ نے 63°C پر افزائش کی، پیچیدہ زندگی کی حد آگے بڑھ گئی

کیلیفورنیا کے لاسن آتش فشانی نیشنل پارک سے حاصل شدہ Incendiamoeba cascadensis نے تجربہ گاہ میں 63°C پر خلیاتی تقسیم کر کے معلوم یوکاریوٹس کی افزائش کا حرارتی ریکارڈ بڑھا دیا؛ ناسا کی 22 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ 64°C تک حرکت کرتی رہی اور 70°C پر پانچ منٹ گزارنے کے بعد ٹھنڈا ہونے پر بحال ہو سکی۔ افزائش، حرکت اور مختصر شدید گرمی کے بعد بحالی تین مختلف نتائج ہیں۔

یہ نتائج سائراکیوز یونیورسٹی کے محققین کی تحقیق میں سامنے آئے، جو اسی روز سائنسی جریدے Cell میں شائع ہوئی۔ ’فائر امیبا‘ کہلانے والا یہ جاندار ایک خلیے پر مشتمل ہے، مگر اس کے خلیے میں مرکزہ موجود ہے۔ اسی وجہ سے خبر میں ’پیچیدہ زندگی‘ کا مطلب خلیے کی ساخت ہے، کئی خلیوں والا بڑا جسم نہیں۔ اہم مشاہدہ گرم ندی میں اس کی موجودگی کے ساتھ قابو شدہ حالات میں اس کی تقسیم ہے۔

63، 64 اور 70 درجے: صلاحیت ہر حد پر بدلتی ہے

حرارتی ریکارڈ طے کرنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جاندار گرمی میں کیا کر رہا تھا۔ خلیاتی تقسیم سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس درجۂ حرارت پر نئے خلیے بن رہے تھے۔ حرکت ایک محدود سرگرمی دکھاتی ہے، جبکہ گرمی کم ہونے کے بعد بحال ہونا صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ مختصر سامنا جان لیوا نہیں تھا۔ ان مشاہدات کو ایک ہی قسم کی برداشت کہنا تجربے کا مطلب بدل دیتا ہے۔

  • 63°C — افزائش: امیبا غذا حاصل کرتی اور تقسیم ہوتی دیکھی گئی۔ معلوم یوکاریوٹس میں مسلسل زندگی کے اس بنیادی عمل کے لیے یہی نیا بلند ترین درجۂ حرارت ہے۔
  • 64°C — حرکت: تقسیم رکنے کے بعد بھی خلیہ حرکت کر سکتا تھا۔ حرکت سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس گرمی میں اس کی آبادی بڑھ رہی تھی۔
  • 70°C — بحالی: پانچ منٹ کے سامنا کے بعد حفاظتی سسٹ بنانے والے خلیے ٹھنڈے ہونے پر دوبارہ فعال ہو سکتے تھے۔ یہ اس درجۂ حرارت پر مسلسل خوراک لینے یا تقسیم ہونے کا ریکارڈ نہیں۔

یہ فرق خاص طور پر آخری حد کے لیے اہم ہے۔ کسی خلیے کا گرم مرحلہ گزار کر بعد میں بحال ہونا اور اسی گرمی میں نئی نسل پیدا کرنا دو الگ تجرباتی دعوے ہیں۔ امیبا کے بارے میں ثابت شدہ افزائشی حد کو اس کی مختصر بقا کی حد تک بڑھا کر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

ریکارڈ کس قسم کی زندگی کے لیے بدلا؟

یوکاریوٹس کے خلیوں میں جینیاتی مواد مرکزے میں ہوتا ہے اور اندرونی حصے الگ کام انجام دیتے ہیں۔ اس گروہ میں یک خلوی جانداروں کے ساتھ پودے، فنجائی اور جانور بھی شامل ہیں۔ امیبا کی دریافت ان سب انواع کے یکساں گرمی برداشت کرنے کا ثبوت نہیں؛ ریکارڈ کا مطلب یہ ہے کہ یوکاریوٹس میں کم از کم ایک معلوم نوع پہلے تسلیم شدہ حد سے زیادہ گرم ماحول میں تقسیم کر سکتی ہے۔

سائنس نیوز کی رپورٹ کے مطابق امیبا کے لیے پہلے بیان کردہ افزائشی حد 57°C تھی، جبکہ بعض فنجائی اور سرخ الجی کی وجہ سے مجموعی یوکاریوٹی حد 60°C سمجھی جاتی تھی؛ محققین 63°C کو اس گروہ کی قطعی آخری حد نہیں کہتے۔ یہ دونوں پرانے اعداد مختلف موازنوں کے ہیں۔ نئی دریافت تمام جانداروں کا حرارتی ریکارڈ بھی نہیں ہے: بیکٹیریا اور آرکیا یوکاریوٹس سے مختلف خلیاتی ساخت رکھتے ہیں اور بعض اس سے کہیں زیادہ گرمی میں بڑھتے ہیں۔

اس لیے عنوان میں حد آگے بڑھنے سے مراد علم کی موجودہ حد ہے، فطرت میں ممکن آخری درجہ نہیں۔ اگر مستقبل میں مزید گرم ماحول میں تقسیم کرنے والا یوکاریوٹ ملے تو ریکارڈ پھر بدلے گا۔ موجودہ تحقیق نے پہلے سے معلوم گروہ میں ایک نئی، قابلِ مشاہدہ افزائشی صلاحیت شامل کی ہے۔

گرم ندی سے تجربہ گاہ تک

دریافت کا مقام بھی نتائج سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ ایل پائیس کی موقعے کی رپورٹ کے مطابق ٹیم کی اصل منزل ایک تیزابی گرم جھیل تھی، مگر امیبا راستے کی نسبتاً غیر تیزابی ندی کے نمونوں سے نکلی؛ سائراکیوز یونیورسٹی کی تجربہ گاہ میں نمونے گرم رکھنے کے بعد اسے دیکھا اور اگایا گیا۔ قدرتی مقام نے جاندار مہیا کیا، جبکہ درجۂ حرارت کی افزائشی حد تجربہ گاہ میں جانچی گئی۔

امیبا گرم ماحول کے عادی بیکٹیریا کو غذا بناتی ہے۔ معمول کی حالت میں اس کا خلیہ پھیل کر خوراک پکڑتا ہے؛ دوسری، لمبوتری شکل میں اس کی حرکت تیز ہو جاتی ہے۔ شدید گرمی کے وقت حفاظتی سسٹ بننا ایک اور حالت ہے۔ شکل کی یہ تبدیلیاں حرکت اور بحالی کے مشاہدات سمجھاتی ہیں، لیکن خود یہ ثابت نہیں کرتیں کہ ہر حالت میں خلیاتی تقسیم بھی جاری تھی۔

اتنی گرمی میں خلیہ کیسے قائم رہتا ہے؟

حرارت پروٹین کی ساخت بگاڑ سکتی ہے اور خلیاتی جھلیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ یوکاریوٹی خلیے کے لیے مرکزے اور دوسرے اندرونی حصوں کو بھی فعال رکھنا پڑتا ہے۔ اس امیبا کی تقسیم ظاہر کرتی ہے کہ کم از کم اس نوع میں یہ نظام پہلے سمجھی گئی حد سے زیادہ گرمی میں کام کر سکتے ہیں؛ اس سے تمام یوکاریوٹس کے لیے یکساں حفاظتی طریقہ ثابت نہیں ہوتا۔

محققین نے امیبا کا جینوم پڑھا اور مختلف درجۂ حرارت پر جینوں کی سرگرمی دیکھی۔ ڈی این اے کو مستحکم رکھنے، پروٹین کی درست ساخت برقرار رکھنے اور بیرونی ماحول کو محسوس کرنے سے متعلق عمل سامنے آئے۔ بعض پروٹینوں کی سطحی خصوصیات گرم ماحول میں رہنے والے بیکٹیریا اور آرکیا سے مشابہ تھیں۔ یہ نتائج ممکنہ حفاظتی طریقوں کی نشان دہی کرتے ہیں؛ کسی جین کی موجودگی یا مماثلت اکیلے یہ نہیں بتاتی کہ گرمی میں ہر خلیہ کس طرح بچتا ہے۔

خلائی زندگی کی تلاش کے لیے کیا معنی ہیں؟

یہ دریافت زمین پر مرکزہ رکھنے والے خلیوں کی معلوم حرارتی افزائشی حد بڑھاتی ہے۔ فلکی حیاتیات میں ایسی حدیں اس سوال کو بہتر بناتی ہیں کہ کسی گرم ماحول میں کس قسم کی زندگی کا امکان جانچا جائے۔ مگر زمین کی ایک امیبا کا ریکارڈ کسی دوسرے سیارے یا چاند پر زندگی کی موجودگی کا ثبوت نہیں، اور نہ ہی صرف مناسب درجۂ حرارت کسی مقام کو قابلِ رہائش بناتا ہے۔

اس جاندار کو پانی اور غذا کے ساتھ مناسب تیزابیت، آکسیجن اور دباؤ بھی درکار ہیں؛ غذا کے لیے یہ دوسرے جانداروں پر منحصر ہے۔ اس لیے خلائی ماحول سے موازنہ کرتے وقت پورے ماحولیاتی نظام کی شرائط دیکھنا ہوں گی۔ فی الحال معلوم نتیجہ واضح ہے: امیبا کی تقسیم کی حد، اس کی حرکت کی حد اور مختصر گرمی کے بعد بحالی کی حد الگ ہیں؛ مزید گرم ماحول میں یوکاریوٹس کی افزائش ممکن ہے یا نہیں، یہ ابھی کھلا سوال ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0