ٹیکنالوجی اور جدت

Hubble اور Webb کو 27 ننھی دنیائیں ملیں، چھوٹی تعداد نے ماڈل چیلنج کر دیا

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|7 منٹ مطالعہ
Hubble اور Webb کو 27 ننھی دنیائیں ملیں، چھوٹی تعداد نے ماڈل چیلنج کر دیا

NASA نے 8 ستمبر 2026 کو اعلان کیا کہ Hubble اور James Webb Space Telescope کے مشترکہ گہرے سروے سے نیپچون کے پار 27 نئے، انتہائی مدھم trans-Neptunian objects یا TNOs شناخت ہوئے ہیں۔ NASA کی سائنسی رپورٹ کے مطابق Webb نے یہ اجسام دریافت کیے، Hubble کے مرئی مشاہدات نے ان میں سے ایک حصے کے رنگ ناپنے میں مدد دی، اور مجموعی نمونے میں بہت چھوٹے TNOs بعض سیارہ سازی ماڈلوں کی توقع سے کم نکلے۔

اسی روز سامنے آنے والی آزاد سائنسی کوریج نے 27 اجسام، hot اور cold مداری آبادیوں اور چھوٹے اجسام کی بڑی آبادیوں سے رنگی مماثلت کی تصدیق کی۔ دریافت کی اصل اہمیت صرف نئی دنیاؤں کی گنتی نہیں: ان کی چمک، مدار اور رنگ بتاتے ہیں کہ چار ارب سال سے زیادہ پہلے سیاروں کی بنیادی اینٹیں کیسے بنیں اور بڑے سیاروں کی نقل مکانی نے انہیں کہاں پہنچایا۔

27 مدھم نقاط کیسے دریافت ہوئے

Webb کے مسلسل مشاہدات میں ستاروں کے مقابل حرکت کرتے انتہائی مدھم TNOs کی شناخت

TNOs سورج کے گرد نیپچون سے آگے گردش کرنے والے چھوٹے، برفیلے اجسام ہیں۔ دوری اور معمولی جسامت کے باعث دوربینوں میں ان کی سطح دکھائی نہیں دیتی؛ وہ پس منظر کے ستاروں کے درمیان حرکت کرتے ہوئے روشنی کے انتہائی کمزور نقاط نظر آتے ہیں۔ اسی لیے ان کی شناخت کسی ایک خوب صورت یا واضح تصویر سے نہیں بلکہ مختلف اوقات کی پیمائشوں میں مسلسل حرکت سے ہوتی ہے۔

اصل luminosity-function تحقیق میں Webb کی NIRCam سے 0.05 مربع درجے کے رقبے پر 27 TNOs کی قطعی دریافت درج ہے۔ محققین نے shift-and-stack طریقے سے تصاویر کو ممکنہ جسم کی رفتار کے مطابق سرکا کر جمع کیا، پھر machine-learning نیٹ ورک سے جھوٹی شناختیں چھانٹیں؛ مدھم ترین دریافت کا اندازاً قطر تقریباً 10 کلومیٹر بنتا ہے، بشرطیکہ سطح آنے والی روشنی کا 15 فیصد منعکس کرتی ہو۔

یہ شرط اہم ہے، کیونکہ دوربین نے ان اجسام کے کنارے ناپ کر براہ راست قطر معلوم نہیں کیا۔ ایک ہی چمک رکھنے والا زیادہ تاریک جسم نسبتاً بڑا اور زیادہ عکاس جسم نسبتاً چھوٹا ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے NASA کی عام فہم رپورٹ میں دیا گیا تقریباً پانچ کلومیٹر کا کم ترین تخمینہ اور تحقیقی مقالے کا 10 کلومیٹر والا تخمینہ ایک ہی قطعی پیمائش نہیں بلکہ مختلف مفروضوں سے بننے والے اندازے ہیں۔

Webb نے تلاش کی، Hubble نے رنگ کا دائرہ بڑھایا

ایک ہی مدھم TNO کے Hubble مرئی اور Webb زیرِ سرخ مشاہدات سے رنگی پیمائش

دونوں دوربینوں نے ایک ہی کام نہیں کیا۔ Webb کی NIRCam نے زیرِ سرخ روشنی میں مدھم متحرک اجسام تلاش کیے اور ان کی چمک ناپی، جبکہ Hubble کی ACS اور WFC3 تصاویر میں Webb سے ملنے والے 13 TNOs دوبارہ شناخت ہوئے۔ ان مشترکہ پیمائشوں نے 0.35 سے 3.2 مائیکرومیٹر تک مرئی اور قریب زیرِ سرخ طولِ موج کا رنگی ریکارڈ بنایا۔

یہاں “رنگ” سے مراد دوربین کی تصویر میں دکھائی دینے والا سادہ سرخ یا نیلا رنگ نہیں۔ مختلف طولِ موج پر واپس آنے والی روشنی کا تناسب سطحی مادے کی reflectance کا سراغ دیتا ہے، اگرچہ اس سے مکمل کیمیائی ترکیب قطعی طور پر معلوم نہیں ہوتی۔ Webb کی گہرائی نے چھوٹے اجسام تک رسائی دی اور Hubble نے مرئی روشنی شامل کرکے ان کا بڑی، پہلے سے معلوم آبادیوں کے ساتھ تقابل ممکن بنایا۔

چھوٹے cold classical اجسام اسی محدود رنگی ترتیب پر ملے جو ان کے بڑے رشتہ داروں میں دیکھی جاتی ہے، جبکہ dynamically excited یا hot اجسام میں رنگوں کا پھیلاؤ زیادہ تھا اور وہ بھی اپنی بڑی آبادی سے مطابقت رکھتا تھا۔ اس کا محتاط مطلب یہ ہے کہ کم جسامت پر جاتے ہی دونوں آبادیوں کی مخصوص سطحی شناخت غائب نہیں ہوئی؛ صرف رنگوں کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ان کی سطح کبھی تبدیل ہی نہیں ہوئی۔

Hot اور cold نام درجۂ حرارت کے نہیں

Cold TNOs نسبتاً گول، کم جھکاؤ والے مداروں میں نظامِ شمسی کے مرکزی مستوی کے قریب رہتے ہیں۔ موجودہ تعبیر میں یہ آبادی بڑی حد تک اسی بیرونی خطے کے قریب بنی جہاں آج موجود ہے، اس لیے اس کے مدار ابتدائی نظامِ شمسی کی نسبتاً کم بدلی ہوئی حالت محفوظ رکھتے ہیں۔

Hot TNOs زیادہ بیضوی اور جھکے ہوئے مدار رکھتے ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ سورج کے نسبتاً قریب، یورینس اور نیپچون کے موجودہ مقامات کے درمیان بنے اور بڑے سیاروں کی ابتدائی نقل مکانی کے دوران باہر کی طرف بکھر گئے۔ “گرم” اور “سرد” دراصل مداری بے ترتیبی اور سکون کی اصطلاحیں ہیں، سطح کے حقیقی درجۂ حرارت کی نہیں۔

یہ فرق ماضی کی جگہوں کا نقشہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔ مدار بتاتا ہے کہ کوئی جسم کس حرکی خاندان میں ہے، جبکہ رنگ اس خاندان کی سطحی خصوصیات سے رشتہ دکھاتا ہے۔ hot اجسام کے مدار بکھر جانے کے باوجود ان کے چھوٹے ارکان میں بڑی hot آبادی جیسا رنگی پھیلاؤ باقی رہنا اس بات کا بالواسطہ اشارہ ہے کہ ان کی پیدائشی ترکیب مکمل طور پر مٹی نہیں۔

کم چھوٹے اجسام نے کس ماڈل کو چیلنج کیا

نیپچون سے پار سروے میں انتہائی چھوٹی جسامت کے TNOs کی غیر متوقع کمی

بڑی جسامتوں پر معلوم cold classical آبادی کی تقسیم کو مدھم اور چھوٹے اجسام تک بڑھانے والے بعض exponentially tapered power-law ماڈل سروے سے زیادہ ننھے اجسام کی توقع دیتے تھے۔ نئی cumulative distribution نسبتاً ہموار نکلی، جس سے محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ پہلے تجویز کردہ شکل شاید آبادی کے سب سے چھوٹے سرے کی مکمل نمائندگی نہیں کرتی۔ یہی محدود مگر حقیقی نتیجہ عنوان کے “ماڈل چیلنج” کی بنیاد ہے؛ اس سے سیاروں کی تشکیل کا پورا نظریہ مسترد نہیں ہوا۔

ایک ممکنہ تشریح streaming instability اور pebble-cloud collapse سے متعلق ہے۔ اس تصور میں گرد اور کنکر گیس کے اندر مرتکز ہوکر خود کششِ ثقل سے نسبتاً بڑے planetesimals بناتے ہیں؛ چھوٹے اجسام کی کمی اشارہ دے سکتی ہے کہ ایک خاص حد سے نیچے یہ collapse کم مؤثر ہوتا ہے۔ لیکن یہ ابھی حتمی وجہ نہیں، کیونکہ اندازاً جسامت سطح کی reflectivity پر منحصر ہے اور سروے نے آسمان کا نہایت محدود حصہ دیکھا۔

دوسری حیرت یہ ہے کہ hot اور cold نمونوں کی مدھم سرے والی slopes شماریاتی طور پر ایک جیسی ملیں، حالاں کہ دونوں کے پیدائشی ماحول اور بعد کی مداری تاریخ مختلف سمجھی جاتی ہے۔ جیسے دو مختلف نرسریوں کے پتھروں میں بڑے اور چھوٹے ٹکڑوں کا تناسب ایک سا نکلے، یہ مماثلت بتاتی ہے کہ بنیادی planetesimal-building عمل مقامی حالات کے فرق کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو سکتا ہے۔ متبادل امکان یہ ہے کہ دونوں آبادیوں کی چھوٹی جسامتوں پر reflectivity قریب آتی ہو؛ مزید حرارتی اور ترکیبی مشاہدات کے بغیر ان امکانات میں فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

یہ اجسام چار ارب سال پرانا ماضی کیسے محفوظ رکھتے ہیں

ابتدائی سورج کے گرد گیس، گرد اور کنکروں کی قرص سے پہلے planetesimals بنے، پھر انہی بنیادی اینٹوں کے ملاپ سے سیارے بڑھے۔ نیپچون سے پار کم کثافت والے سرد خطے میں بہت سا مواد مکمل سیاروں میں ضم نہ ہوسکا، اس لیے باقی TNOs ابتدائی تعمیر کے منجمد نمونوں کی طرح کام کرتے ہیں۔

ان کی “یاد” کسی اندرونی تحریری ریکارڈ کا نام نہیں بلکہ تین قابلِ پیمائش نشانات کی تشبیہ ہے۔ رنگ سطحی مادے کی reflectance دکھاتا ہے، مدار بڑے سیاروں کی قدیم migration کا اثر سنبھالتا ہے، اور luminosity یا size distribution بتاتی ہے کہ مختلف جسامتوں کی بنیادی اینٹیں کس تناسب سے بنیں یا باقی رہیں۔ نئے نتائج میں رنگی خاندانوں کا برقرار رہنا اور سب سے چھوٹے سرے پر نسبتاً کم اجسام ملنا اسی ماضی کے دو الگ اشارے ہیں۔

ابھی نتیجہ 27 دریافتوں کے ایک گہرے مگر چھوٹے رقبے والے نمونے تک محدود ہے۔ اگلا سائنسی سوال یہ ہے کہ آیا یہی کمی وسیع Kuiper Belt میں بھی برقرار رہتی ہے، اور چھوٹے اجسام کی حقیقی reflectivity ان کے قطروں کے تخمینے کو کتنا بدلتی ہے۔ زیادہ وسیع سروے، حرارتی پیمائشیں اور مزید optical-to-infrared رنگ ہی طے کریں گے کہ ماڈل کی چھوٹی جسامت والی شاخ کو کس حد تک بدلنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0