Roman خلائی دوربین روانہ—روزانہ 1.4 ٹیرا بائٹ کائناتی ڈیٹا آئے گا

NASA کی Nancy Grace Roman Space Telescope نے 30 اگست 2026 کو صبح 7:26 بجے امریکی مشرقی وقت، یعنی پاکستان میں شام 4:26 بجے، Kennedy Space Center سے کامیاب پرواز کی۔ NASA کی لانچ ریلیز کے مطابق SpaceX کا Falcon Heavy اسے لے کر روانہ ہوا، دوربین 31 منٹ بعد راکٹ سے الگ ہوئی اور عملی مشاہدات کے دوران روزانہ 1.4 ٹیرا بائٹ ڈیٹا زمین پر بھیجے گی۔
Roman اب سورج اور زمین کے دوسرے Lagrange point، یعنی L2، کی طرف اپنے تقریباً تین ماہ کے سفر اور commissioning کے مرحلے میں ہے۔ یہ منزل زمین سے لگ بھگ دس لاکھ میل دور ہے؛ آلات کی جانچ اور calibration مکمل ہونے کے بعد پہلی تصاویر 2027 کے آغاز میں متوقع ہیں، لیکن ابھی کوئی قطعی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔
لانچ کے پہلے 31 منٹ میں کیا ہوا

Falcon Heavy نے فلوریڈا کے Launch Complex 39A سے پرواز کی۔ ابتدائی چڑھائی کے دوران اس کے دونوں اطراف کے boosters مرکزی حصے سے الگ ہوئے اور Cape Canaveral واپس اتر گئے، جبکہ دوربین کو لے جانے والا بالائی مرحلہ آگے بڑھتا رہا۔
Space.com کی براہ راست کوریج نے 7:57 بجے امریکی مشرقی وقت پر Roman کی کامیاب علیحدگی درج کی، جو روانگی کے 31 منٹ بعد ہوئی۔ اس کے بعد دوربین نے شمسی پینل اور آلے کو دھوپ سے بچانے والی نچلی تہہ کھولی؛ زمینی ٹیم کو لانچ کے سات منٹ بعد ہی telemetry ملنا شروع ہو گئی تھی۔
کامیاب علیحدگی کا مطلب یہ نہیں کہ سائنسی مشاہدات شروع ہو گئے ہیں۔ اس مرحلے پر ثابت شدہ کامیابی یہ ہے کہ راکٹ نے دوربین کو مطلوبہ راستے پر چھوڑا، رابطہ قائم ہوا اور بجلی و حرارتی تحفظ کے بنیادی قابلِ توسیع حصے کھل گئے۔
L2 تک سفر ہی commissioning کا وقت بھی ہے

L2 زمین کے گرد کوئی عام نچلا مدار نہیں۔ یہ سورج اور زمین کے باہمی کششی نظام کا خطہ ہے جہاں Roman سورج کے گرد زمین کے ساتھ حرکت کرتے ہوئے L2 کے گرد ایک وسیع halo مدار اختیار کرے گی۔ James Webb Space Telescope بھی اسی عمومی خطے میں ہے، مگر دونوں رصدگاہیں ایک دوسرے کے قریب بندھی ہوئی نہیں اور ان کے مدار الگ رکھے جاتے ہیں۔
سفر کے دوران زمینی ٹیم ضرورت کے مطابق راستہ درست کرنے کے لیے انجن چلائے گی۔ ابتدائی رابطے میں Near Space Network استعمال ہوا، جس کے بعد Deep Space Network نے Canberra، Madrid اور Goldstone کے مراکز کے ذریعے دوربین کی سمت، رفتار اور حالت پر نظر رکھنے کی ذمہ داری سنبھالی۔
Commissioning منزل تک پہنچنے سے الگ انتظار کا مرحلہ نہیں بلکہ سفر کے دوران ہی جاری ہے۔ انجینئر Wide Field Instrument اور Coronagraph Instrument کو فعال کر کے optics، detectors، pointing، حرارتی نظام، مواصلات اور data handling کی جانچ کریں گے۔ کسی اضافی calibration یا تکنیکی مسئلے کی صورت میں پہلی تصاویر کے متوقع وقت میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
روزانہ 1.4 ٹیرا بائٹ کا تحقیقی مطلب
Roman کی متوقع 1.4 ٹیرا بائٹ یومیہ شرح NASA کے کسی astrophysics مشن کی اب تک کی بلند ترین data rate ہے۔ یہ مقدار کسی ایک مکمل تصویر کا حجم نہیں ہوگی؛ اس میں مختلف مشاہدات، detector readings، calibration data اور ان کے ساتھ ضروری معلومات شامل ہوں گی۔
اس حجم کی بنیاد Roman کا 300-megapixel Wide Field Instrument ہے، جس میں اٹھارہ 4K detectors نصب ہیں۔ دوربین وسیع آسمانی میدان کو بار بار ریکارڈ کرنے کے لیے بنائی گئی ہے، اس لیے اس کا اصل فائدہ صرف انفرادی خوب صورت تصاویر نہیں بلکہ بڑی اور یکساں surveys ہوں گی۔
ان surveys سے اربوں کہکشاؤں کی روشنی، بڑی تعداد میں ستاروں، supernovae اور gravitational microlensing کے واقعات کا شماریاتی مطالعہ ممکن ہوگا۔ مشینی نظام ممکنہ تبدیلیوں اور غیر معمولی اہداف کو چھانٹنے میں مدد دے سکتے ہیں، تاہم 1.4 ٹیرا بائٹ کا ہندسہ خود دریافت کی ضمانت نہیں؛ یہ ہر روز دستیاب ہونے والے مشاہداتی مواد کا پیمانہ ہے۔
Hubble سے فرق آئینے میں نہیں، آسمانی کوریج میں ہے

Roman اور Hubble کے بنیادی آئینوں کا قطر تقریباً یکساں، 2.4 میٹر، ہے۔ Associated Press کی آزاد رپورٹ کے مطابق Roman کا field of view Hubble کے مقابلے میں سو گنا سے زیادہ وسیع ہے؛ یہی فرق اسے ایک مشاہدے میں کہیں زیادہ آسمان سمیٹنے کے قابل بناتا ہے۔
اس تقابل کا مطلب یہ نہیں کہ Roman ہر تصویر میں Hubble سے سو گنا بہتر یا زیادہ گہری ہوگی۔ Hubble نسبتاً محدود میدان میں مرکوز مشاہدہ کر سکتا ہے، جبکہ Roman کا بنیادی کردار بڑے علاقوں کو منظم رفتار سے دیکھ کر وسیع catalogues تیار کرنا ہے۔ Roman سے ملنے والے نایاب یا عارضی اہداف کو بعد میں Hubble یا Webb جیسے آلات زیادہ تفصیلی مطالعے کے لیے دیکھ سکتے ہیں۔
وسیع survey کائنات کے پھیلاؤ، تاریک مادے اور تاریک توانائی کے اثرات اور ہماری کہکشاں میں سیاروں کی آبادی کے مطالعے کے لیے بڑے نمونے فراہم کرے گی۔ Coronagraph Instrument چند مشتری جیسے بڑے سیاروں کی براہ راست تصویربندی کے لیے high-contrast ٹیکنالوجی آزمائے گا، مگر اسے زمین جیسے سیاروں پر زندگی تلاش کرنے والا مکمل مشن سمجھنا درست نہیں۔
Roman کی موجودہ حالت اور اگلا سنگ میل
یکم ستمبر تک Roman کی high-gain antenna اور visor نما aperture cover کھل چکے تھے اور Coronagraph Instrument کو بھی کامیابی سے بجلی دے دی گئی تھی۔ NASA کی یکم ستمبر کی تازہ کاری کے مطابق coronagraph کی activation صبح 7:27 سے 8:22 بجے امریکی مشرقی وقت کے درمیان مکمل ہوئی، جس کے بعد اس کی کئی ماہ پر محیط calibration اور tests شروع ہونے ہیں۔
اگلے بڑے مراحل میں باقی راستے کی درستی، Wide Field Instrument کی فعالیت، L2 کے گرد مطلوبہ مدار تک پہنچنا اور دونوں آلات کی سائنسی calibration شامل ہیں۔ پہلی تصاویر 2027 کے آغاز میں متوقع ہیں؛ انہی نتائج سے معلوم ہوگا کہ optics، pointing اور detectors مطلوبہ معیار پر پورے اتر رہے ہیں۔ فی الحال تصدیق شدہ خبر کامیاب روانگی اور ابتدائی نظاموں کی فعالیت ہے، جبکہ مکمل سائنسی کارکردگی کا فیصلہ commissioning کے بعد ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔