90٪ سربراہ اے آئی کے لیے پُراعتماد، ملازمین صرف 41٪

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|6 منٹ مطالعہ
90٪ سربراہ اے آئی کے لیے پُراعتماد، ملازمین صرف 41٪

Microsoft کی ۲۰ اکتوبر ۲۰۲۶ کو شائع برطانوی تحقیق میں ۵۰۰۰ ملازمین اور ۱۰۰۰ اعلیٰ کاروباری فیصلہ سازوں سے رائے لی گئی: ۹۰٪ کاروباری سربراہوں نے کہا کہ ان کے ادارے کی اے آئی حکمت عملی واضح ہے، جبکہ صرف ۴۱٪ ملازمین کو اعتماد تھا کہ برطانیہ اگلے پانچ برس میں عالمی سطح کی اے آئی معیشت بن سکتا ہے۔ ملکی مستقبل کے اسی سوال پر فیصلہ سازوں میں اعتماد کی شرح ۸۴٪ تھی۔ یہ فرق ادارے کے منصوبے اور کارکن کے معاشی مستقبل پر یقین کو الگ الگ سمجھنے کا تقاضا کرتا ہے۔

یہ برطانیہ کا سروے ہے، پاکستانی کارکنوں کی رائے کا اندازہ نہیں۔ تاہم پاکستانی اداروں کے لیے اس کا سوال براہِ راست ہے: اگر انتظامیہ کو اپنی سمت واضح دکھائی دیتی ہے تو کیا ملازمین کو بھی معلوم ہے کہ اے آئی ان کے کام، روزگار اور تربیت پر کیا اثر ڈالے گی؟ صرف حکمت عملی کے وجود سے اس سوال کا جواب نہیں ملتا۔

حکمت عملی اور قومی مستقبل دو الگ سوال تھے

سروے میں کاروباری سربراہوں سے ان کے اپنے ادارے کی اے آئی حکمت عملی کے بارے میں پوچھا گیا، جبکہ ملازمین سے برطانیہ کے معاشی مستقبل کے بارے میں رائے لی گئی۔ ان جوابوں کو ایک ہی سوال پر انتظامیہ اور کارکنوں کا اختلاف سمجھنا درست نہیں۔ یکساں پیمانے پر موازنہ ملکی مستقبل والے سوال سے بنتا ہے، جہاں فیصلہ ساز کارکنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پُراعتماد تھے۔

تحقیق کے لیے رائے اکتوبر کے آغاز میں جمع کی گئی تھی۔ ملازمین کے نمونے میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے کام پر اے آئی استعمال کی، وہ بھی جنہوں نے اسے صرف ذاتی زندگی میں استعمال کیا، اور وہ بھی جنہوں نے گزشتہ برس اسے استعمال نہیں کیا تھا۔ اس لیے تمام ملازمین کے جواب کو صرف روزانہ اے آئی سے کام لینے والوں کا تجربہ سمجھنا بھی غلط ہوگا۔

ملک پر اے آئی کے مثبت اثر کی توقع اور حکومتی مدد کی خواہش بھی الگ پیمانے تھے۔ سروے میں کارکنوں کی نسبت کاروباری سربراہوں نے معاشرے پر مثبت اثر کی زیادہ توقع ظاہر کی، لیکن دونوں گروہوں میں حکومت سے مزید مدد مانگنے والے موجود تھے۔ یوں محتاط کارکن کو لازماً اے آئی کا مخالف قرار نہیں دیا جا سکتا؛ وہ فائدے کے ساتھ اس کی تقسیم اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوال بھی رکھ سکتا ہے۔

فائدہ محسوس ہوا، مگر روزگار کی فکر برقرار رہی

Microsoft کے برطانوی سروے سے متعلق کارکنوں کی اے آئی تربیت اور نئے ملازمین کے مواقع پر تشویش

کام پر اے آئی استعمال کرنے والے کارکنوں کے جواب اس فاصلے کو زیادہ واضح کرتے ہیں۔ اس گروہ میں ۷۱٪ نے اپنے کام یا پیشے پر مثبت اثر اور ۶۹٪ نے کام کے معیار میں بہتری بتائی۔ اسی گروہ کے ۳۵٪ کو فکر تھی کہ ٹیکنالوجی نے ان کی اپنی ملازمت کا تحفظ کم کیا ہے، جبکہ ۵۷٪ کو نوجوانوں اور نئے آنے والوں کے لیے مواقع گھٹنے کا خدشہ تھا۔ فائدے اور خدشے کو ایک دوسرے کی نفی سمجھنے کے بجائے الگ تجربات کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔

فوری کام میں سہولت اس بات کی ضمانت نہیں کہ ملازم کو آئندہ ذمہ داریوں یا بھرتی کے فیصلوں کی سمت بھی معلوم ہو۔ اگر ادارہ صرف یہ بتائے کہ ایک آلہ وقت بچاتا ہے، تو کارکن کا اگلا سوال پھر بھی باقی رہتا ہے: بچنے والا وقت کس کام میں لگے گا، نتیجے کی جانچ کون کرے گا اور نئی مہارت سیکھنے کا موقع کسے ملے گا؟ یہ سوالات برطانوی اعداد سے اخذ ہونے والی ادارہ جاتی تشریح ہیں، پاکستان کے بارے میں سروے کا نتیجہ نہیں۔

لندن میں Microsoft کے برطانیہ اور آئرلینڈ کے سربراہ ڈیرن ہارڈمن نے کارکنوں کی شرکت کے بارے میں ITPro کی رپورٹ میں کہا: “You can give your people a say in how AI changes their work.” اس بات کا عملی مطلب صرف تربیتی نشست رکھنا نہیں، بلکہ تبدیلی سے متاثر ہونے والے لوگوں کو کام کی نئی حدود اور انسانی نگرانی کے فیصلوں میں آواز دینا بھی ہے۔

استعمال کی شرح اعتماد کی شرح نہیں

Microsoft کی رپورٹ میں برطانیہ کے مختلف علاقوں میں جنریٹو اے آئی استعمال کی غیر مساوی شرح

سروے کے ساتھ پیش کی گئی Microsoft کی برطانوی پھیلاؤ رپورٹ نے اپریل تا جون ۲۰۲۶ کے لیے ۱۵ سے ۶۴ سال کی عمر کے افراد میں جنریٹو اے آئی استعمال کا تخمینہ ۴۳٫۷٪ لگایا؛ مغربی انگلینڈ کی متعلقہ علاقائی اتھارٹی میں یہ ۵۷٫۴٪ اور اسکاٹ لینڈ کے ہائی لینڈز اور جزائر میں ۳۴٫۱٪ تھا۔ قومی اوسط اس علاقائی فرق کو چھپا دیتی ہے۔ رپورٹ نے یہ بھی بتایا کہ استعمال کا بڑا حصہ معلومات تلاش کرنے، ای میل کے مسودے بنانے اور خلاصے تیار کرنے جیسے محدود کاموں پر مشتمل ہے۔

پھیلاؤ کی شرح سروے میں پوچھا گیا اعتماد نہیں ناپتی۔ یہ Microsoft کے مجموعی استعمال کے ڈیٹا سے بنایا گیا، آبادی کے لیے ایڈجسٹ کیا ہوا تخمینہ ہے؛ سروے لوگوں کے اپنے بیان کردہ تجربے اور رائے پر قائم ہے۔ کسی شخص کا اے آئی استعمال کرنا، اسے اپنے کام میں مفید پانا اور پھر قومی معیشت یا ملازمت کے مستقبل پر پُراعتماد ہونا تین مختلف باتیں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کچھ استعمال آجر کے باقاعدہ نظام اور نگرانی سے باہر بھی ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ادارے کے پاس آلے کے حقیقی استعمال کی مکمل تصویر نہ ہو، چاہے اس نے اپنی حکمت عملی واضح کر دی ہو۔ اس سے تربیت کی ضرورت بھی بدلتی ہے: بنیادی استعمال سکھانے کے ساتھ یہ واضح کرنا پڑتا ہے کہ کون سا کام منظور شدہ طریقے سے ہوگا اور نتیجے کی ذمہ داری کس پر رہے گی۔

پاکستانی اداروں کے لیے الگ سوالوں کی ضرورت

برطانوی تناسب کو پاکستانی ادارے اپنے کارکنوں کا ہدف یا اندازہ نہیں بنا سکتے۔ اس تحقیق سے قابلِ نقل چیز سوالوں کی تقسیم ہے: انتظامیہ کی حکمت عملی، کارکن کا حقیقی استعمال، روزگار کا تحفظ اور تربیت کی ضرورت الگ الگ پوچھے جائیں۔ ایک ہی عمومی سوال، مثلاً «کیا آپ اے آئی کے لیے تیار ہیں؟»، ان مختلف تجربات کو ایک جواب میں گم کر دے گا۔

مقامی، گمنام سوالنامے میں ہر جواب کے ساتھ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ وہ تمام ملازمین سے آیا ہے یا صرف کام پر اے آئی استعمال کرنے والوں سے۔ پھر درج ذیل سوالات انتظامیہ اور کارکنوں کے جوابوں میں قابلِ فہم فرق دکھا سکتے ہیں:

  • کیا ادارے کی اے آئی حکمت عملی ملازم کو معلوم ہے، اور کیا اسے اپنے کام میں متوقع تبدیلی سمجھ آتی ہے؟
  • ملازم اے آئی کو کن کاموں میں، کتنی باقاعدگی سے استعمال کرتا ہے، اور اس کے نتیجے کی انسانی جانچ کیسے ہوتی ہے؟
  • اپنی موجودہ ملازمت، نئی بھرتیوں اور آئندہ ذمہ داریوں کے بارے میں اسے کون سی فکر ہے؟
  • اسے کس مہارت، سیکھنے کے وقت اور انتظامیہ سے کس وضاحت کی ضرورت ہے؟

ایسے جواب یہ بتا سکتے ہیں کہ فاصلہ منصوبے کی آگاہی میں ہے، استعمال کے موقع میں، ملازمت کے تحفظ سے متعلق خدشے میں یا تربیت کی کمی میں۔ اسی فرق کی بنیاد پر ادارہ اپنے ابلاغ اور تربیت کا فیصلہ کر سکتا ہے، جبکہ پاکستانی کارکنوں کی اصل رائے مقامی جوابوں ہی سے سامنے آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں:

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0