
ٹیک میں 47٪ خواتین نے امتیاز جھیلا—ترقی کا راستہ بھی کم واضح ہے

ISACA نے 13 اکتوبر 2026 کو عالمی سروے کے نتائج جاری کیے: 1,025 ٹیک پیشہ وروں کے نمونے میں 47٪ خواتین نے کام کی جگہ پر صنفی امتیاز کا تجربہ بتایا، جبکہ غیر واضح ترقیاتی راستے کو 41٪ خواتین اور 33٪ مردوں نے پیشہ ورانہ ترقی کی رکاوٹ کہا۔ جواب 17 جولائی سے 3 اگست 2026 کے درمیان جمع کیے گئے تھے۔ یہ عالمی نتائج پاکستانی ملازمین کی شرح نہیں بتاتے؛ یہاں کے اداروں کے لیے سوال یہ ہے کہ ترقی کا معیار، فیصلوں میں اختیار اور کام کا دباؤ اپنے عملے میں کس طرح تقسیم ہو رہے ہیں۔
امتیاز کی اطلاع دینے والی خواتین کا تناسب 2024 میں 42٪ تھا؛ نئے سروے میں یہ پانچ فیصدی پوائنٹ زیادہ ہے۔ یہ دو سروے کے جواب دہندگان کا تقابل ہے، ایک ہی خواتین کے حالات میں آنے والی تبدیلی کی پیمائش نہیں۔ اسی طرح ترقی کے راستے کو غیر واضح کہنا کسی فرد کی ترقی مسترد ہونے کا ریکارڈ نہیں، بلکہ اس کے پیشہ ورانہ تجربے کا جواب ہے۔
ترقی کی رکاوٹ صرف خالی عہدہ نہیں

ترقی کا غیر واضح راستہ مجموعی جواب دہندگان میں بھی پیش رفت کی سب سے زیادہ بتائی گئی رکاوٹ تھا۔ خواتین اور مردوں کے جواب میں فرق اس بات کو اہم بناتا ہے کہ ترقی کا معیار کب طے ہوتا ہے، کون اسے جانتا ہے اور امیدوار کو اپنے کام پر کس مرحلے میں رائے ملتی ہے۔ اگر اہلیت کی شرط صرف فیصلہ ہونے کے بعد معلوم ہو تو ملازم کے پاس اپنی تیاری دکھانے یا کمی پوری کرنے کا مناسب موقع نہیں رہتا۔
پاکستانی ٹیک ادارے میں اس سوال کو محض ترقی پانے والوں کی فہرست سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ ہر درجے میں کتنے لوگ ترقی کے اہل تھے، درخواست یا نامزدگی تک کس کی رسائی تھی اور فیصلہ کس بنیاد پر ہوا۔ اگلے درجے کے لیے منصوبے کی قیادت، کسی مہارت کا ثبوت یا ٹیم کی ذمہ داری درکار ہو تو متعلقہ کارکنوں کو یہ تقاضے پہلے سے معلوم ہونے چاہییں۔ سالانہ جائزے میں دی گئی رائے کو بعد کے ترقیاتی فیصلے سے ملانے پر معلوم ہو سکتا ہے کہ اعلان کردہ معیار واقعی استعمال ہوا یا نہیں۔
اختیار اور دباؤ ترقی کی تصویر بدلتے ہیں

عہدہ ملنے کے بعد بھی ادارے کی سمت پر اثر ڈالنے کا اختیار الگ مسئلہ رہتا ہے۔ TNW کی سروے پر مبنی رپورٹ میں 53٪ خواتین اور 66٪ مردوں نے کہا کہ انہیں کمپنی کی حکمت عملی میں حصہ ڈالنے کا کافی اختیار ہے؛ کام سے متعلق دباؤ یا تھکن خواتین میں 64٪ اور مردوں میں 57٪ تھی، جبکہ SheLeadsTech سے وابستہ جولیا ہرمان نے کہا، “Retention rates are still a challenge”۔ یہ رائے اور تجربے کی الگ پیمائشیں ہیں؛ ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اختیار کی کمی ہی کسی مخصوص فرد کے دباؤ کا سبب بنی۔
کسی ٹیم میں منصوبے کی ذمہ داری ایک شخص کے نام ہو سکتی ہے، مگر ترجیحات، وسائل یا عملے سے متعلق آخری فیصلہ کہیں اور ہوتا ہے۔ اسی لیے عہدے کے ساتھ فیصلہ سازی کا دائرہ دیکھنا ضروری ہے: کون تجویز دے سکتا ہے، کس کی سفارش پر عمل ہوتا ہے اور کس کے پاس منظوری کا اختیار ہے۔ مجموعی سروے میں بھاری کام، وسائل کی کمی اور انتظامی مدد کی قلت بھی دباؤ سے منسلک اسباب کے طور پر سامنے آئے۔ مقامی جائزے میں ان سوالوں کو الگ رکھنا اختیار کے فرق اور کام کے بوجھ کو ایک ہی مبہم شکایت میں بدلنے سے بچاتا ہے۔
اطمینان کے باوجود ملازمت بدلنے کا امکان
موجودہ کام سے اطمینان، ادارے میں رہنے کے ارادے کی مکمل پیمائش نہیں۔ ITPro کی سروے پر مبنی خبر کے مطابق 76٪ اپنے موجودہ کردار اور 71٪ پیشہ ورانہ پیش رفت سے مطمئن تھے، لیکن 73٪ نے اگلے دو برس میں آجر بدلنے پر غور کرنے کا امکان رد نہیں کیا؛ 25٪ کے آجر ذہنی صحت کے لیے مخصوص چھٹی دیتے تھے اور 23٪ کے مطابق تھکن سے نمٹنے کی کوئی مدد دستیاب نہیں تھی۔ آجر بدلنے کا امکان ظاہر کرنا استعفا دینے یا نئی ملازمت قبول کرنے کے برابر نہیں۔
یہ جواب مختلف سوالوں کے ہیں۔ کوئی کارکن اپنا موجودہ کام پسند کر سکتا ہے، مگر اگلی ذمہ داری کا راستہ، ادارے کے فیصلوں میں اپنی آواز یا بڑھتے بوجھ کے لیے مدد غیر واضح پا سکتا ہے۔ صرف عمومی اطمینان پوچھنے سے اس فرق کی نشان دہی نہیں ہوتی۔ اسی طرح ملازمت چھوڑنے والوں کا ریکارڈ ان کارکنوں کی توقعات نہیں دکھاتا جو اب بھی ادارے میں موجود ہیں اور بیرونی موقع پر غور کر رہے ہیں۔
پاکستانی ٹیک ٹیم اپنا فرق کیسے ناپے

عالمی اعداد کو مقامی شرح بنانے کے بجائے ادارہ ہر سہ ماہی میں اپنے فیصلوں اور عملے کے تجربے کو ایک ہی فریم میں دیکھ سکتا ہے۔ پہلے عہدے، تجربے اور ٹیم کی سطحیں متعین ہوں، پھر انہی درجوں کے اندر خواتین اور مردوں کے نتائج الگ دیکھے جائیں۔ مختلف نوعیت کی ملازمتوں کو ایک مجموعے میں ملانے سے وہ مرحلہ چھپ سکتا ہے جہاں مواقع یا اختیار میں فرق پیدا ہوا۔ یہ ادارہ جاتی جانچ کی تجویز ہے، سروے کا پاکستان کے لیے جاری کردہ نتیجہ نہیں۔
- ترقی: ہر درجے میں اہل کارکن، نامزد یا درخواست دینے والے، اور ترقی پانے والے الگ شمار ہوں۔ یہ بھی درج ہو کہ معیار پہلے سے معلوم تھا، فیصلے کی وجہ بتائی گئی اور ترقی سے محروم شخص کو اگلے موقع کے لیے واضح رائے ملی یا نہیں۔
- اختیار: منصوبوں کی ترجیحات، وسائل، بھرتی اور تکنیکی سمت کے فیصلوں میں تجویز دینے، سفارش منظور کرانے اور آخری فیصلہ کرنے والوں کو الگ دیکھا جائے۔ صرف عہدے کی بنیاد پر اختیار فرض نہ کیا جائے۔
- دباؤ: گمنام جوابوں میں کام کی مقدار، دستیاب وسائل، مینیجر کی مدد اور تھکن کے لیے موجود سہولت الگ پوچھی جائے۔ نتائج اس سطح پر شائع ہوں جہاں چھوٹی ٹیم کے کسی جواب دہندہ کی شناخت ظاہر نہ ہو۔
- برقرار رہنا: موجودہ کردار سے اطمینان، اندرونی تبادلے کی خواہش، بیرونی موقع پر غور اور واقعی ہونے والی علیحدگی کو الگ رکھا جائے۔ یوں ارادے اور عمل کے درمیان فرق بھی سامنے آ سکتا ہے۔
اس جانچ سے کسی مجموعی فیصد کے بجائے وہ فیصلہ جاتی مرحلہ سامنے آ سکتا ہے جہاں یکساں درجے کے کارکنوں کو مختلف مواقع ملتے ہیں۔ اگلی سہ ماہی میں اسی مرحلے کا معیار اور اس پر عمل دوبارہ دیکھا جائے تو ادارہ جان سکے گا کہ امیدواروں کو ترقی اور فیصلہ سازی تک رسائی میں واقعی تبدیلی آئی یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
متعلقہ مضامین


دو تہائی کارکن AI استعمال کرتے ہیں، مگر 56٪ ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہیں

اُڑان مشن کا سالانہ 15 لاکھ ملازمتوں کا ہدف—عمل صوبوں کے ہاتھ میں

صرف 42.9٪ کارکن پُرامید، AI کا ذکر ایک سال میں 164٪ بڑھا

AI نے ملازمین کم نہیں کیے، مگر نئی بھرتی کا دروازہ ضرور تنگ ہوا

Amazon نے 30 ہزار نوکریاں کاٹیں، اب سابق AI ماہرین واپس چاہییں
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔