
اُڑان مشن کا سالانہ 15 لاکھ ملازمتوں کا ہدف—عمل صوبوں کے ہاتھ میں

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت ۷ اکتوبر ۲۰۲۶ کو اسلام آباد میں اُڑان پاکستان کے انسانی وسائل و مہارتوں کے مشن کا پہلا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں سالانہ 15 لاکھ ملازمتیں پیدا کرنے اور خواتین کی افرادی قوت میں شرکت 17 فیصد بڑھانے کے اہداف پیش کیے گئے؛ عمل درآمد متعلقہ محکموں اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری قرار پایا۔ وفاق کا کردار معیار طے کرنے، پالیسی میں رابطہ کاری، مالی وسائل پر بات چیت اور اعداد و شمار یکجا کرنے سے متعلق ہے۔
اس ہدف کے سامنے افرادی قوت اور ہنرمندی کا خلا بڑا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی اجلاس کی تفصیل کے مطابق تقریباً 20 لاکھ نوجوان ہر سال افرادی قوت میں داخل ہوتے ہیں، فنی و پیشہ ورانہ تربیت کا تناسب تقریباً 11 فیصد ہے، خواتین کی افرادی قوت میں شرکت 22.7 فیصد اور مردوں کی 68.7 فیصد ہے، جبکہ 45.4 فیصد نوجوان خواتین تعلیم، روزگار یا تربیت، تینوں سے باہر ہیں۔ یہ اعداد ملازمتوں کے وعدے کے ساتھ تربیت تک رسائی اور خواتین کی شرکت کو بھی صوبائی پیش رفت کا حصہ بناتے ہیں۔
ملازمتوں کا ہدف نئے کارکنوں کی آمد سے کیسے ملتا ہے؟
اجلاس میں بتائے گئے اعداد کو ساتھ رکھیں تو ہر سال آنے والے نوجوانوں اور نئی ملازمتوں کے ہدف میں تقریباً پانچ لاکھ کا فرق بنتا ہے۔ ہدف نوجوانوں کی سالانہ آمد کے تقریباً تین چوتھائی کے برابر ہے۔ یہ حساب باقی نوجوانوں کے لازماً بے روزگار رہنے کی پیش گوئی نہیں، کیونکہ نئی ملازمتوں کے امیدواروں میں پہلے سے کام تلاش کرنے والے لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ بعض نئے کارکن خود روزگار یا دوسرے راستے اختیار کرتے ہیں۔
اس لیے ہدف پورا ہونے کا مطلب جاننے کے لیے صرف قومی مجموعہ کافی نہیں ہوگا۔ ملازمت کی تعریف، سال کے دوران واقعی شروع ہونے والا کام، اور پہلے سے موجود ملازمتوں کی جگہ لینے والی بھرتیوں میں فرق واضح کرنا ہوگا۔ اگر کسی صوبے میں تربیت مکمل کرنے والے افراد بڑھیں مگر ان کے لیے کام پیدا نہ ہو تو تربیتی نشستوں کی تعداد روزگار کے وعدے کا متبادل نہیں بنے گی۔ اسی طرح افرادی قوت میں نئے داخلوں کو ملازمتوں کے تخمینے سے سیدھا منہا کر کے بے روزگاری کی شرح نکالنا بھی درست نہیں ہوگا۔
صوبوں اور اضلاع تک ذمہ داری کیسے پہنچے گی؟
مشن کے قومی اہداف کو سالانہ صوبائی اور علاقائی سنگِ میل میں تقسیم کرنے کی تجویز ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی اجلاس کی رپورٹ میں احسن اقبال کا یہ مؤقف درج ہے کہ وزارتِ منصوبہ بندی شواہد پر مبنی منصوبہ بندی فراہم کرے گی، جبکہ نفاذ متعلقہ محکموں اور صوبائی حکومتوں نے کرنا ہے۔ اس تقسیم کے بعد قومی وعدے کی جانچ ہر علاقے کے مقررہ حصے اور اس پر ہونے والی پیش رفت سے ہو سکے گی۔
تعلیم، صحت اور مہارت کی خدمات صوبائی اداروں کے ذریعے لوگوں تک پہنچتی ہیں۔ ریڈیو پاکستان کی اجلاس کی خبر کے مطابق وزیر نے صوبائی حکومتوں سے سماجی شعبوں میں انتظامی اصلاحات اور اختیار نچلی سطح تک منتقل کرنے پر زور دیا۔ ضلعی محکموں کے اختیارات اسی بحث کا عملی حصہ ہیں: صوبائی ہدف طے ہونے کے بعد یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ تربیت کی سہولت، عملے کی تعیناتی اور خدمات کی نگرانی کس سطح پر ہوگی۔
احسن اقبال کے اجلاس سے متعلق بیان میں یہی ترجیح یوں سامنے آئی: ’’اب صرف منصوبے بنانے کا وقت نہیں بلکہ ان پر موثر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا‘‘۔ اس کا امتحان صوبائی اور ضلعی ذمہ داریوں کو قابلِ پیمائش نتائج سے جوڑنے میں ہے۔ قومی سطح پر ہدف رکھ دینے سے یہ طے نہیں ہوتا کہ کسی صوبائی محکمے نے سال بھر میں کتنے افراد کو تربیت دی، کتنے تربیت مکمل کر سکے اور کتنے روزگار تک پہنچے۔
ہنرمندی اور خواتین کی شرکت میں کون سا نتیجہ اہم ہے؟
فنی تربیت کا بتایا گیا تناسب ہنرمند افرادی قوت کی محدود بنیاد ظاہر کرتا ہے، مگر اسے نئے سال میں دستیاب نشستوں یا تربیت مکمل کرنے والوں کی گنتی نہیں سمجھنا چاہیے۔ صوبائی اعداد میں داخلے، تکمیل اور تربیت کے بعد ملنے والے کام کو الگ رکھنا ضروری ہوگا۔ ان مراحل کی علیحدہ گنتی سے معلوم ہو سکے گا کہ مسئلہ تربیت تک پہنچنے کا ہے، کورس مکمل کرنے کا یا کام میں منتقلی کا۔
خواتین کے لیے یہ فرق خاص اہمیت رکھتا ہے۔ تعلیم، کام اور تربیت سے باہر رہنے والی نوجوان خواتین کو صرف کسی کورس میں درج کر لینا افرادی قوت میں ان کی شرکت بڑھنے کے برابر نہیں ہوگا۔ شرکت کے اعلان کردہ اضافے کی پیمائش کے لیے بنیادی شرح اور حساب کا طریقہ بھی درکار ہے: موجودہ شرح میں نسبتی اضافہ اور فیصدی نکات کا اضافہ مختلف آخری نتائج دیتے ہیں۔ صوبائی سنگِ میل سامنے آنے پر یہی وضاحت بتائے گی کہ خواتین کے لیے مقررہ پیش رفت کس پیمانے پر ناپی جائے گی۔
سالانہ سنگِ میل سے کیا واضح ہونا چاہیے؟
مجوزہ طریقۂ کار میں وفاقی اور صوبائی محکموں کے ورکنگ گروپ، رکاوٹوں پر باقاعدہ رابطہ اور ترقیاتی پروگراموں میں موجود اقدامات اور وسائل کا جائزہ شامل ہے۔ یہ انتظام تبھی روزگار کے ہدف سے جڑے گا جب صوبائی حصوں کے ساتھ نتیجے کی تعریف بھی جاری ہو۔ قومی مجموعے کے پیچھے کسی ایک علاقے کی کم پیش رفت چھپ سکتی ہے؛ الگ صوبائی اعداد سے ذمہ داری اور وسائل کا تعلق دیکھا جا سکے گا۔
اعلان کردہ اہداف کے لیے سالانہ صوبائی تفصیل میں چند باتیں الگ الگ دکھانا مفید ہوگا:
- ہر صوبے اور علاقے کے حصے میں کتنی نئی ملازمتیں آئیں، اور کن کاموں کو نئی ملازمت شمار کیا گیا؟
- کتنے افراد فنی تربیت میں داخل ہوئے، کتنے اسے مکمل کر سکے اور کتنے بعد میں روزگار تک پہنچے؟
- خواتین کی افرادی قوت میں شرکت کس بنیادی شرح کے مقابل ناپی گئی، اور صوبائی نتائج قومی ہدف سے کیسے جڑے؟
- ضلعی اداروں کو کون سے اختیارات اور وسائل ملے، اور ان کے نتائج صوبائی مجموعے میں کیسے ظاہر ہوئے؟
یہ سوالات اجلاس میں جاری کسی مکمل صوبائی جدول کی جگہ نہیں لیتے۔ اگلا فیصلہ کن مرحلہ حکومت کی جانب سے صوبائی اور علاقائی سالانہ اہداف، ان کی تعریف اور نگرانی کے اعداد سامنے آنا ہے۔ انہی سے معلوم ہوگا کہ قومی وعدے کا کون سا حصہ کس ادارے کے ذمے ہے اور تربیت سے روزگار تک کتنی پیش رفت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:
متعلقہ مضامین


ٹیک میں 47٪ خواتین نے امتیاز جھیلا—ترقی کا راستہ بھی کم واضح ہے

G20 کا AI معاہدہ رضاکارانہ ہے، ملازمت یا تربیت کی ضمانت نہیں

اسلام آباد کا Daanish IT Park کھل گیا، مگر اصل امتحان آپریٹر کا ہے

AI نے ملازمین کم نہیں کیے، مگر نئی بھرتی کا دروازہ ضرور تنگ ہوا

AI نے نئے گریجویٹس کی بے روزگاری نہیں بڑھائی—ابھی ثبوت یہی ہے
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔