
16 ہزار درخواستوں سے 430 ٹیمیں—پاکستان AI ہیکاتھون کا فائنل 24 اکتوبر

Alibaba Cloud، بنو قابل پاکستان اور Cognix Solutions کے اے آئی ہیکاتھون کا قومی فائنل منتظمین کے پروگرام کے مطابق ہفتہ 24 اکتوبر 2026 کو پاکستان چائنا فرینڈشپ سینٹر، اسلام آباد میں مقرر ہے۔ کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے علاقائی مقابلے مکمل ہو چکے ہیں اور انہی مراحل سے منتخب ٹیمیں فائنل میں پہنچیں گی۔ نئی عوامی رجسٹریشن بند ہے؛ فائنلسٹ ٹیموں کو صبح ساڑھے آٹھ بجے مقام پر رپورٹ کرنا ہے۔
کراچی کے مرحلے میں دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر سے موصولہ 16 ہزار درخواستوں میں سے منتخب 430 ٹیموں نے ماہر ججوں کے سامنے اپنے اے آئی حل پیش کیے۔ روزنامہ دنیا کی خبر کے مطابق علاقائی اور ضلعی مراحل کے بعد 295 ٹیمیں قومی فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکی ہیں، جبکہ نمایاں کارکردگی پر مجموعی طور پر 60 ہزار ڈالر کے انعامات رکھے گئے ہیں۔ کراچی میں حل پیش کرنے والی ٹیموں کی تعداد اور ملک بھر سے فائنل میں پہنچنے والی ٹیموں کی تعداد الگ مراحل کی گنتی ہیں۔
درخواست سے قومی فائنل تک انتخاب
مقابلے میں داخل ہونے، حل جمع کرانے اور قومی مرحلے تک پہنچنے کے درمیان تربیت اور جانچ کے مراحل رکھے گئے تھے۔ رجسٹریشن کے بعد شرکا کو عملی تربیت، رہنمائی اور اے آئی کے ترقیاتی وسائل فراہم کیے گئے۔ ٹیموں نے اپنے منصوبوں پر کام کیا، انہیں جمع کرایا اور پھر علاقائی مقابلوں میں پیش کیا۔ اس ترتیب سے فائنل میں پہنچنے کا مطلب محض ابتدائی خیال کی منظوری نہیں بلکہ پہلے سے بنائے گئے حل کے ساتھ اگلے مقابلے کے لیے انتخاب ہے۔
کراچی کا مرحلہ نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک میں ہوا۔ اسلام آباد میں علاقائی مقابلے کی جگہ FAST NUCES تھی، جبکہ لاہور میں ٹیمیں یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب پہنچیں۔ ان الگ مقامات پر پیش کشوں کے بعد قومی فائنل اسلام آباد میں رکھا گیا ہے۔ اس جغرافیائی ترتیب کی اہمیت یہ ہے کہ قومی مقابلے کی نشستیں صرف کراچی کے شرکا سے نہیں بھری جا رہیں؛ دوسری علاقائی ٹیمیں بھی فائنل کے انتخاب میں شامل ہیں۔
ابتدائی درخواستوں کو مکمل مصنوعات کی تعداد سمجھنا درست نہیں۔ درخواست ایک ٹیم یا منصوبے کی مقابلے میں آنے کی خواہش ظاہر کرتی ہے؛ علاقائی مرحلے میں پیش کردہ حل اس سے آگے کا کام ہے۔ اسی طرح کراچی میں حل پیش کرنے والی تمام ٹیموں کو قومی فائنلسٹ سمجھنے سے مقابلے کا دائرہ غلط ظاہر ہوگا۔ فائنل کی گنتی ان ٹیموں کی ہے جو مختلف مراحل سے آگے بڑھیں، اس لیے صرف کراچی کے عدد سے قومی انتخاب کا درست تناسب نہیں نکالا جا سکتا۔
ٹیمیں کس قسم کے اے آئی حل بنا رہی ہیں
پروگرام کے موضوعات پاکستان میں استعمال سے جڑے مسائل کے گرد رکھے گئے ہیں: اسمارٹ زراعت، مالی شمولیت، اردو اور علاقائی زبانوں کی ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم اور کھلی اختراع۔ ٹیمیں اپنا بنیادی شعبہ منتخب کرتی ہیں، مگر ایک منصوبہ دوسرے شعبے کی ضرورت بھی پوری کر سکتا ہے۔ یہ موضوعات مقابلے کے دائرے کو واضح کرتے ہیں؛ ان سے ہر فائنلسٹ کے تیار کردہ منصوبے یا اس کی کارکردگی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
زرعی موضوع میں فصل کی پیداوار، کیڑوں اور آب پاشی سے متعلق مدد شامل ہو سکتی ہے۔ مالی شمولیت کے موضوع میں قرض، ادائیگیوں، دھوکا دہی اور آواز کے ذریعے رسائی جیسے مسائل رکھے گئے ہیں۔ ان دونوں شعبوں میں فیصلہ کن سوال یہ ہوگا کہ ٹیم نے اپنے منتخب مسئلے کے لیے اے آئی کو کس کام میں لگایا ہے اور پیش کردہ حل واقعی چلتا ہے یا نہیں۔ صرف کسی شعبے کا نام یا متوقع فائدہ پیش کرنا کافی نہیں ہوگا۔
زبانوں کے شعبے میں اردو، سندھی، پشتو اور پنجابی کے لیے بول چال، متن اور ترجمے پر کام کی گنجائش ہے۔ صحت کے موضوعات میں ابتدائی جانچ، طبی تصاویر سے مدد اور دور دراز تشخیص، جبکہ تعلیم میں تدریسی مدد، جانچ اور کم رفتار انٹرنیٹ پر رسائی شامل ہیں۔ کھلی اختراع ان منصوبوں کے لیے رکھی گئی ہے جو مقررہ شعبوں میں آسانی سے نہیں آتے۔ یہ ممکنہ مسائل کی حد بندی ہے، فائنل میں کسی مخصوص علاج، تدریسی نظام یا زرعی نتیجے کی کامیابی کا اعلان نہیں۔
جج چلنے والے حل میں کیا دیکھیں گے
مقابلے کا زور ایسی مصنوعہ پر ہے جو مظاہرے کے وقت کام کرے اور کسی مقامی مسئلے سے واضح تعلق رکھتی ہو۔ جانچ میں مسئلے کی اہمیت، حل میں اے آئی کا استعمال اور یہ امکان دیکھا جائے گا کہ مصنوعہ مختصر مظاہرے سے باہر بھی کارآمد رہے۔ اس سے ٹیم کو اپنا دعویٰ صرف سلائیڈ یا خاکے سے نہیں بلکہ چلتے ہوئے کام سے دکھانا ہوگا۔ قومی فائنل اسی کام کو دوبارہ ججوں کے سامنے لانے کا مرحلہ ہے۔
کراچی میں حل دیکھنے والے ججوں کا تعلق ٹیکنالوجی، بینکاری، صحت، صنعت اور تعلیم سے تھا۔ مختلف شعبوں کی یہ موجودگی منصوبے کے تکنیکی پہلو کے ساتھ اس مسئلے کو سمجھنے کی گنجائش بھی دیتی ہے جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے۔ تاہم علاقائی پیش کش میں کام کر دکھانا اور بعد میں بڑے پیمانے پر مستقل استعمال دو الگ باتیں ہیں۔ فائنل میں جج جو فیصلہ کریں گے، وہ اسی مقابلے میں پیش کیے گئے حل اور اس کی عملی افادیت سے متعلق ہوگا۔
شرکت اور نتائج کی موجودہ حیثیت
اس ایڈیشن میں نئی ٹیم کے لیے عوامی اندراج کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے۔ اہل ٹیموں کو ان کے رجسٹرڈ ای میل پتے پر اطلاع دی گئی تھی۔ ہر منصوبے کا پورٹل اکاؤنٹ اس کے ٹیم لیڈر کے پاس ہے، جہاں داخلہ پاس، پیش کش کا وقت اور نتیجہ دستیاب ہونے پر دکھایا جائے گا۔ اس لیے فائنلسٹ کی حاضری اور پیش کش کی عملی تفصیلات اس کے اپنے رجسٹرڈ رابطے اور اکاؤنٹ سے وابستہ ہیں۔
فائنل کا مقام واضح ہے، مگر دستیاب پروگرام میں عام تماشائیوں کے داخلے کی شرط صراحت سے درج نہیں۔ مقام معلوم ہونے سے عوام کے لیے آزادانہ رسائی اخذ نہیں کی جا سکتی۔ مقابلے سے متعلق اعلانات رجسٹرڈ ای میل، پروگرام کے صفحے اور ٹیموں کے پورٹل تک پہنچتے ہیں؛ نتیجہ جاری ہونے پر ٹیموں کی حیثیت بھی ان کے منصوبے کے اکاؤنٹ میں ظاہر ہوگی۔
انعامی رقم مختص ہونے کے باوجود فاتح ٹیموں اور ان کے منصوبوں کا فیصلہ ابھی ہونا ہے۔ اگلی ٹھوس پیش رفت قومی فائنل میں چلتے ہوئے حل کی پیش کش، ججوں کا انتخاب اور اس کے بعد ٹیموں کے پورٹل پر جاری ہونے والے نتائج ہوں گے۔ انہی نتائج سے واضح ہوگا کہ مختلف پاکستانی مسائل پر بنائے گئے کون سے منصوبے مقابلے میں نمایاں قرار پائے۔
یہ بھی پڑھیں:
متعلقہ مضامین


اُڑان مشن کا سالانہ 15 لاکھ ملازمتوں کا ہدف—عمل صوبوں کے ہاتھ میں

اسلام آباد کا Daanish IT Park کھل گیا، مگر اصل امتحان آپریٹر کا ہے

پاکستان نے ASOCIO میں 11 اعزاز جیتے، فہرست دعوے سے زیادہ اہم ہے

PTA کم عمر صارفین کی عمر لازماً نہیں جانچ سکتی—اختیار قانون سازوں کے پاس

پاکستانی طلبہ کے لیے ایک سال کا Gemini—معاہدے میں کیا طے ہوا؟
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔