زرعی اسپاٹ مارکیٹ کی تجویز—فصل پر قرض ممکن، پلیٹ فارم ابھی نہیں

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|6 منٹ مطالعہ
زرعی اسپاٹ مارکیٹ کی تجویز—فصل پر قرض ممکن، پلیٹ فارم ابھی نہیں

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، یعنی ایس ای سی پی، کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے ۱۵ اکتوبر ۲۰۲۶ کو قومی زرعی اسپاٹ مارکیٹ کی تجویز پیش کی۔ اس میں کسان، گودام، بینک اور خریدار کو مشترک ڈیجیٹل تجارتی نظام سے جوڑنے کا تصور ہے۔ قومی تجارتی پلیٹ فارم ابھی قائم نہیں ہوا؛ گودام رسید کو قرض کی ضمانت بنانے کا قانونی راستہ پہلے سے موجود ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی بین الاقوامی کانفرنس میں پیش کردہ منصوبے کے لیے ذخیرہ بڑی عملی شرط ہے: بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق منظور شدہ گوداموں کی مجموعی گنجائش تقریباً ۳ لاکھ ۲۶ ہزار میٹرک ٹن ہے، جبکہ روایتی ذخیرے کے قابل خشک زرعی اجناس کی سالانہ پیداوار تقریباً ۵ کروڑ ۵۷ لاکھ میٹرک ٹن بتائی گئی۔ گنجائش ایک وقت کے ذخیرے اور پیداوار پورے سال کے بہاؤ کی پیمائش ہے، اس لیے ان اعداد کو براہِ راست قلت کا تناسب نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاہم مجوزہ نظام میں حصہ لینے والے کسان کو اپنی فصل کے لیے منظور شدہ گودام تک رسائی درکار ہوگی۔

گودام کی رسید قرض تک کیسے پہنچے گی؟

فصل کے عوض قرض کا قانونی راستہ نئی تجویز سے پہلے کا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ۲۰۱۹ کے اعلان کے مطابق بینک منظور شدہ گودام میں رکھی زرعی پیداوار کی الیکٹرانک رسید کو قرض کی ضمانت کے طور پر قبول کر سکتے ہیں۔ اس طرح فصل، زرعی زمین کو رہن رکھے بغیر بھی، قرض کی درخواست میں ضمانت بن سکتی ہے۔ قرض کی منظوری پھر بھی بینک کے فیصلے سے مشروط ہے۔

مجوزہ تجارتی ربط میں پہلے پیداوار منظور شدہ گودام میں رکھی جائے گی۔ وہاں موجود جنس کے وزن اور معیار کا قابل اعتماد ریکارڈ الیکٹرانک رسید کو قرض اور بعد کی تجارت کے لیے کارآمد بنائے گا۔ کسان رسید کے ساتھ بینک سے قرض طلب کر سکے گا اور فصل کو فوراً بیچنے کے بجائے ذخیرے میں رکھ سکے گا۔ رسید نقد رقم کی خودکار ادائیگی یا ہر درخواست کی منظوری نہیں ہے۔

ذخیرے اور قرض سے کسان کو کٹائی کے فوراً بعد فروخت کا دباؤ کم کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ مگر انتظار کا مالی فائدہ گودام کے کرایے، قرض کی لاگت، فصل کی حفاظت اور بعد میں ملنے والی قیمت پر منحصر ہوگا۔ اگر ان اخراجات کے بعد فروخت کی رقم کم بچے تو زیادہ دیر فصل رکھنا فائدہ مند نہیں ہوگا۔ اسی لیے قرض تک رسائی اور بہتر قیمت دو الگ نتائج ہیں، جن کے لیے الگ شرائط پوری ہونا ضروری ہیں۔

بولی سے پہلے معیار اور وزن کیوں اہم ہیں؟

مشترک منڈی میں خریداروں کو مختلف گوداموں کی جنس ایک ہی معیار پر سمجھنے کی ضرورت ہوگی۔ ایس ای سی پی کی تفصیلی پریس ریلیز میں گندم، چاول، مکئی، کپاس اور چینی کو مرحلہ وار شامل کرنے، وزن اور معیار کے یکساں اصول بنانے، شفاف بولی اور الیکٹرانک گودام رسیدوں کو تجارت سے جوڑنے کی تجویز درج ہے۔ یہ فہرست مجوزہ دائرہ بتاتی ہے؛ ان اجناس کی نئے قومی پلیٹ فارم پر تجارت شروع ہونے کا اعلان نہیں کرتی۔

یکساں درجہ بندی سے بولیوں کا موازنہ زیادہ معنی خیز ہو سکتا ہے۔ خریدار کو معلوم ہوگا کہ پیش کی گئی جنس کا درج شدہ وزن اور معیار کیا ہے، جبکہ کسان مختلف پیش کشوں کو ایک ہی بنیاد پر دیکھ سکے گا۔ اس کے لیے گودام میں موجود فصل، رسید پر درج معلومات اور فروخت کے وقت حوالے کی جانے والی جنس میں مطابقت ضروری ہوگی۔ صرف بولی دکھانے سے یہ اعتماد پیدا نہیں ہوتا۔

تجویز میں تاجروں اور آڑھتیوں کی رجسٹریشن، ذخیرے اور لین دین کے ڈیجیٹل ریکارڈ، اور بروقت ادائیگی کے معتبر انتظام کا ذکر بھی ہے۔ یہ انتظامات فصل کو گودام سے خریدار تک پہنچانے کے سلسلے سے جڑے ہیں: خریدار کو خریدی ہوئی جنس کی شناخت چاہیے اور کسان کو فروخت کے بعد رقم ملنے کا واضح طریقہ۔ اگر ادائیگی اور جنس کی حوالگی کے قواعد غیر واضح رہیں تو شفاف بولی کا فائدہ کسان تک پہنچنا مشکل ہوگا۔

قرض اور فروخت کا وقت بھی ایک جیسا نہیں ہوگا۔ فصل گودام میں رکھی ہو اور اس کی رسید بینک کے پاس ضمانت ہو تو بعد کی فروخت میں قرض کی واپسی، جنس کی حوالگی اور ادائیگی کی ترتیب طے کرنا ضروری ہوگا۔ قومی پلیٹ فارم کی افادیت اسی رابطے پر منحصر ہوگی: کسان کو قرض کے بعد فروخت کا راستہ ملے اور خریدار کو معلوم ہو کہ خریدی گئی جنس کس شرط پر دستیاب ہے۔

صوبائی نگرانی کے ساتھ قومی رابطہ

مجوزہ بندوبست میں زرعی منڈیوں کی ضابطہ جاتی نگرانی صوبائی حکام کے پاس رہے گی، جبکہ ایس ای سی پی تکنیکی ڈھانچے کی تیاری میں سہولت دے گا۔ اس لیے مشترک ڈیجیٹل راستہ مقامی منڈیوں کے قواعد کو خود بخود ختم نہیں کرے گا۔ لائسنس، فیس اور اجناس کی نقل و حرکت کے طریقوں کو نئے تجارتی رابطے کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ کسان کے لیے یہ تقسیم اس بات پر اثر ڈالے گی کہ وہ کہاں فصل جمع کرا سکتا ہے اور کس نگرانی میں اسے فروخت کر سکتا ہے۔

منظور شدہ گوداموں کی محدود گنجائش بھی صرف سافٹ ویئر سے حل نہیں ہوگی۔ زیادہ کسان تبھی رسید اور بولی کے سلسلے میں شامل ہو سکیں گے جب ان کی فصل کے لیے مناسب ذخیرہ، وزن اور معیار کی قابل اعتماد جانچ، اور خریدار تک رسائی دستیاب ہو۔ خشک اجناس کے گوداموں کی گنجائش سے ہر فصل کی ذخیرہ ضرورت بھی پوری نہیں ہوتی؛ بعض پیداوار کے لیے سرد خانے اور مناسب ترسیل درکار ہوں گے۔

اعلان میں قومی بولی کے پلیٹ فارم کے آغاز کی تاریخ یا اس پر تجارت کے نافذ شدہ قواعد نہیں دیے گئے۔ اس تجویز کی اگلی اہم پیش رفت وہ فیصلہ ہوگا جو صوبائی نگرانی، شریک گوداموں اور بینکوں کے طریقۂ کار، اور بولی کے بعد ادائیگی کو واضح کرے۔ تب کسان جان سکے گا کہ اس کی مخصوص فصل کہاں جمع ہوگی، کس رسید پر قرض کی درخواست دی جا سکے گی اور خریدار کو فروخت کن شرائط پر ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0