NEPRA نے بجلی منڈی کا دروازہ کھولا، مگر گرڈ فیس 19.62 روپے تک

NEPRA نے 7 ستمبر 2026 کو bulk power consumers اور دوسرے open-access صارفین کے لیے یکساں Use of System Charges منظور کر کے پاکستان کی مسابقتی بجلی منڈی کی ایک بڑی ریگولیٹری رکاوٹ دور کر دی۔ Dawn کی رپورٹ کے مطابق نیلامی میں شریک صارفین کے متغیر گرڈ چارجز زمرے کے لحاظ سے 6.23 سے 19.62 روپے فی کلوواٹ گھنٹہ ہوں گے اور منظوری پہلی 400MW open-access نیلامی کی راہ ہموار کرتی ہے۔
صنعتی خریدار کے لیے یہ منظوری کم بل کی ضمانت نہیں: نجی سپلائر سے طے ہونے والی توانائی کی قیمت ان نرخوں میں شامل نہیں۔ حتمی لاگت میں متعلقہ UoSC، sanctioned load پر مقررہ چارج، ترسیل و تقسیم کے نقصانات اور قابل اطلاق سرچارج جڑیں گے؛ نیلامی کے بغیر open access لینے والے صارف کو stranded-cost جزو بھی دینا ہوگا۔
کون مسابقتی سپلائر سے بجلی لے سکے گا

یہ راستہ عام گھریلو کنکشن کے لیے نہیں بلکہ کم از کم ایک میگاواٹ لوڈ والے bulk power consumer کے لیے بنایا گیا ہے۔ NEPRA کی CTBCM وضاحت ایسے صارف کو متعلقہ DISCO سے بجلی لیتے رہنے یا اپنی پسند کے competitive supplier سے خریدنے کے انتخاب کا اہل قرار دیتی ہے۔
اہلیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر فیکٹری کو پہلی نیلامی میں لازماً بجلی مل جائے گی۔ خریدار کو open-access، میٹرنگ اور مارکیٹ کی متعلقہ شرائط پوری کرنا ہوں گی، جبکہ پہلے مرحلے میں پیش کی جانے والی مقدار 400MW تک محدود ہے۔ کامیاب خریدار توانائی کسی الگ سپلائر سے لے سکے گا، مگر اسے اپنی تنصیب تک پہنچانے کے لیے موجودہ قومی اور تقسیمی گرڈ ہی استعمال ہوگا۔
گرڈ فیس کی دو الگ سطحیں

Business Recorder کی تفصیلی رپورٹ میں منظوری کی تاریخ، ہر زمرے کا نرخ اور لاگت کے اجزا درج ہیں: UoSC میں transmission، distribution اور cross-subsidy شامل ہیں، جبکہ sanctioned load پر ایک روپیہ فی کلوواٹ ماہانہ مقررہ گرڈ چارج الگ لگے گا۔ اسی فیصلے میں 11kV کنکشن کے لیے یکساں loss factor 8.04 فیصد اور 132kV کے لیے 1.51 فیصد منظور کیا گیا۔
نیلامی میں مقدار حاصل کرنے والے اور اس کے بغیر open access اختیار کرنے والے صارف کے متغیر نرخ کا فرق یوں بنتا ہے:
- B-3: نیلامی کے ساتھ 6.23 روپے، اس کے بغیر stranded cost سمیت 19.17 روپے فی kWh۔
- B-4: 9.09 روپے کے مقابلے میں 25.45 روپے فی kWh۔
- C-3: 14.95 روپے کے مقابلے میں 31.30 روپے فی kWh۔
- C-2(a): 19.62 روپے کے مقابلے میں 32.56 روپے فی kWh۔
- C-2(b): 17.74 روپے کے مقابلے میں 30.68 روپے فی kWh۔
- A-2(c): 19.14 روپے کے مقابلے میں 32.08 روپے فی kWh۔
- A-3: 19.10 روپے کے مقابلے میں 32.04 روپے فی kWh۔
- D-2(b): 6.72 روپے کے مقابلے میں 19.66 روپے فی kWh۔
نیلامی سے باہر صارف کے اضافی stranded-cost جزو کی شرح 11kV پر 12.94 روپے اور 132kV یا 66kV پر 16.35 روپے فی kWh ہے۔ مقررہ ایک روپیہ فی kW ماہانہ چارج دونوں صورتوں میں برقرار رہے گا؛ مثال کے طور پر 1,000kW sanctioned load پر یہ رقم 1,000 روپے ماہانہ بنے گی۔
کم سپلائی بولی آخری نرخ کیوں نہیں
ایک فرضی مثال میں اگر سپلائر 18 روپے فی kWh مانگے تو نیلامی میں شریک B-3 صارف کا ابتدائی متغیر مجموعہ 24.23 روپے ہوگا: 18 روپے توانائی اور 6.23 روپے UoSC۔ یہی بولی C-2(a) صارف کے لیے 37.62 روپے بنتی ہے، کیونکہ اس زمرے کا گرڈ چارج 19.62 روپے ہے۔ یہ دونوں اعداد نقصانات، مقررہ چارج اور دوسرے قابل اطلاق سرچارج شامل ہونے سے پہلے کے ہیں۔
B-3 صارف نیلامی کے بغیر open access لے تو 18 روپے کی اسی فرضی سپلائی قیمت کے ساتھ مجموعہ 37.17 روپے فی kWh ہوجاتا ہے۔ C-2(a) کے لیے یہ 50.56 روپے ہوگا۔ اس لیے دو خریدار ایک ہی سپلائر کی یکساں بولی قبول کر کے بھی مختلف رقم ادا کر سکتے ہیں: فرق صارف زمرے، کنکشن وولٹیج اور نیلامی میں شرکت سے پیدا ہوگا۔
نقصانات قیمت کی ایک اور تہہ ہیں۔ اگر 11kV پر کسی صارف کو 100,000kWh قابل استعمال توانائی چاہیے اور منظور شدہ 8.04 فیصد loss factor کے مطابق سادہ gross-up کیا جائے تو گرڈ میں تقریباً 108,743kWh داخل کرنا ہوگا۔ اس اضافی توانائی کی تجارتی قیمت کس فریق پر اور کس بنیاد پر آئے گی، یہ سپلائی معاہدے، میٹرنگ اور مارکیٹ settlement کی حتمی شرائط طے کریں گی۔
400MW نیلامی کیا بدلے گی، کیا نہیں

پہلی نیلامی محدود مقدار کے خریداروں کے لیے توانائی کی سپلائی قیمت کو مسابقتی عمل سے الگ طے کرنے کا راستہ دے گی۔ اس سے DISCO کے تار اور گرڈ ختم نہیں ہوں گے؛ تبدیلی یہ ہوگی کہ توانائی بیچنے والا ادارہ اور اس کی قیمت روایتی supplier of last resort سے الگ ہو سکتے ہیں، جبکہ نیٹ ورک کی ریگولیٹڈ لاگت بدستور ادا کرنا ہوگی۔
اس تقسیم سے سپلائر کی بولی، UoSC، loss factor، مقررہ چارج اور stranded cost الگ الگ نظر آئیں گے۔ مگر 400MW پورے صنعتی شعبے کے لیے غیر محدود دستیابی نہیں، اور ابھی کسی مخصوص فیکٹری کی بچت معلوم نہیں کی جا سکتی: اس کے لیے کامیاب سپلائی بولی، صارف زمرہ، کنکشن وولٹیج اور مکمل billing treatment درکار ہوں گے۔
فیصلہ منظور، گزٹ اور عملی دستاویزات باقی
NEPRA کا 7 ستمبر کا فیصلہ وفاقی حکومت کو سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے لیے بھیجا گیا ہے۔ قانون کے تحت حکومت کو اطلاع ملنے کے بعد 30 کیلنڈر دن دیے گئے ہیں؛ اس مدت میں نوٹیفکیشن نہ ہونے پر NEPRA خود فیصلہ گزٹ میں شائع کر سکتا ہے۔ اس لیے منظور شدہ نرخ موجود ہیں، مگر انہیں اسی مرحلے پر مکمل نیلامی یا بجلی کی فوری فراہمی سمجھنا درست نہیں۔
یکساں T&D loss factors سے مختلف DISCO علاقوں میں بننے والے توانائی کے فرق کے settlement کا طریقہ بھی اس فیصلے میں منظور نہیں ہوا۔ Power Division، DISCOs، K-Electric اور ISMO کو اس پر مزید غور کرنا ہے۔ اب اگلی فیصلہ کن معلومات نیلامی کا کیلنڈر، bidding documents، سپلائی بولیاں اور billing rules ہوں گی؛ انہی سے پتا چلے گا کہ 19.62 روپے تک گرڈ فیس کے باوجود کس خریدار کے لیے مسابقتی سپلائی واقعی کم مہنگی پڑتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔