ٹیکنالوجی اور جدت

برطانیہ medical AI کے قواعد بدلنا چاہتا ہے، مسلسل updates اصل مسئلہ ہیں

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|7 منٹ مطالعہ
برطانیہ medical AI کے قواعد بدلنا چاہتا ہے، مسلسل updates اصل مسئلہ ہیں

برطانیہ کی National Commission into the Regulation of AI in Healthcare نے 10 ستمبر 2026 کو medical AI کے مستقبل کے ضابطہ جاتی نظام کی حتمی سفارشات شائع کیں۔ British Association of Dermatologists کی تصدیق کے مطابق ان میں مرحلہ وار منظوری، حقیقی استعمال میں مسلسل نگرانی اور مختلف ماحول میں بدلتی performance پر توجہ شامل ہے۔

یہ سفارشات 10 ستمبر 2026 کو نافذ ہونے والا نیا قانون نہیں بلکہ حکومت کو دیا گیا regulatory blueprint ہیں۔ کمیشن کی سرکاری رپورٹ MHRA سے موجودہ UK Medical Devices Regulations کا جائزہ لینے اور software و AI-enabled medical devices کی نگرانی کو development سے post-market استعمال تک پھیلانے کی سفارش کرتی ہے؛ الگ cross-government response ابھی آنا ہے۔

سفارش، موجودہ قانون اور اگلا فیصلہ الگ ہیں

فوری طور پر کسی device کی classification، منظوری یا hospital کی قانونی ذمہ داری نہیں بدلی۔ موجودہ ضابطہ جاتی راستے اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک حکومت، MHRA یا متعلقہ قانون ساز ادارے سفارشات کو ضابطے، لازمی guidance یا کسی دوسرے قابلِ نفاذ طریقے میں تبدیل نہیں کرتے۔

کمیشن نے implementation کی کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی۔ اس نے حکومت، regulators، healthcare providers، professional bodies، developers اور manufacturers کے لیے ذمہ داریاں تجویز کی ہیں، مگر ابھی طے ہونا ہے کہ کون سی تجاویز قانون بنیں گی، کون سی procurement یا professional guidance میں آئیں گی اور برطانیہ کی مختلف health systems میں ان کا اطلاق کیسے ہوگا۔

کون سا software واقعی medical device ہوگا؟

برطانوی ہسپتال میں طبی AI function اور غیر طبی software کے الگ regulatory راستے

پہلا سوال qualification کا ہے: software کا intended purpose اسے medical device بناتا ہے یا وہ صرف administrative، عمومی wellbeing یا غیر طبی مدد کا کام کرتا ہے؟ مجوزہ جائزہ manufacturer کے دعووں کے ساتھ product کی design اور اصل functionality کو دیکھنے اور ان حدود کو زیادہ واضح کرنے کی بات کرتا ہے۔

دوسرا سوال risk classification کا ہے۔ کمیشن clinical risk، ممکنہ patient benefit، پورے device lifecycle اور بین الاقوامی ہم آہنگی کو شامل کرنے، موجودہ self-declared Class I راستے کی کمزوریوں سے نمٹنے اور کم خطرے والے products پر متناسب تقاضے رکھنے کا حامی ہے۔ کئی functions والے product میں نگرانی پورے package کے بجائے صرف اس function پر مرکوز ہوسکتی ہے جو واقعی medical-device تعریف پوری کرتا ہو۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ developers ابھی کسی نئے classification system کے تحت درخواست دے سکتے ہیں۔ فی الحال انہیں موجودہ قواعد استعمال کرنے ہیں؛ مجوزہ سمت صرف یہ بتاتی ہے کہ آئندہ regulatory assessment میں product کا نام یا marketing label نہیں بلکہ طبی مقصد، function اور risk زیادہ فیصلہ کن ہوسکتے ہیں۔

مسلسل بدلنے والے model کی منظوری اصل آزمائش ہے

طبی AI کے successive versions میں ایک محدود update اور اس کی الگ validation

روایتی pre-market assessment ایک متعین version کو جانچنے کے لیے موزوں ہے، لیکن AI-enabled device deployment کے بعد update، fine-tuning یا نئے ماحول کے باعث بدل سکتا ہے۔ اسی لیے کمیشن ایک مرتبہ کی منظوری کو کافی نہیں سمجھتا: حقیقی performance data، post-market studies، باقاعدہ reporting اور performance میں خرابی کے لیے escalation پورے lifecycle کا حصہ بنانے کی تجویز ہے۔

Predetermined Change Control Plans، یا PCCPs، اس مسئلے کا ایک مجوزہ حل ہیں۔ ابتدائی authorisation کے وقت manufacturer اور regulator قابلِ قبول تبدیلیوں، ان کی حدود، testing اور monitoring کا طریقہ طے کرسکتے ہیں؛ منظور شدہ دائرے میں آنے والی ہر تبدیلی کے لیے نئی مکمل submission ضروری نہیں ہوگی۔

لیکن continuously learning، adaptive یا کسی خاص hospital اور patient population کے لیے tune کیے گئے models موجودہ PCCP تصور سے زیادہ مشکل ہیں۔ کمیشن چاہتا ہے کہ MHRA واضح boundaries اور guardrails وضع کرے، مگر ان کی حتمی شکل ابھی موجود نہیں۔ اس لیے یہ تجویز developers کو بے قید updates کی اجازت نہیں دیتی بلکہ ہر version کو اس کے clinical function، validation، deployment environment اور benefit-risk profile سے جوڑتی ہے۔

Deployment کے بعد ذمہ داری پورے نظام میں تقسیم ہوگی

NHS میں استعمال شدہ AI version کا clinical episode اور post-market نگرانی سے تعلق

مجوزہ framework میں manufacturer device، updates، quality management اور post-market signals کا بنیادی نگہبان ہوگا، جبکہ healthcare provider کو مقامی workflow، staff training، cybersecurity، patient population اور operational risk controls سنبھالنا ہوں گے۔ clinician کی professional ذمہ داری بھی ختم نہیں ہوگی؛ اصل مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ خرابی model، update، deployment environment یا استعمال کے طریقے میں کہاں پیدا ہوئی۔

Traceability اسی تقسیم کو قابلِ ثبوت بناتی ہے۔ Healthwatch کے 11 ستمبر کے ردعمل نے patient record میں استعمال شدہ AI device کو درج کرنے، safety reporting بہتر بنانے اور اس device کو health outcomes کے audit سے جوڑنے والی سفارشات نمایاں کیں۔ کمیشن version control اور unique device identifier جیسے طریقوں کو زیرِ غور لانے کی بات کرتا ہے تاکہ deployment کے بعد معلوم ہوسکے کہ کسی clinical episode میں کون سا version استعمال ہوا تھا۔

Research اور routine care کے درمیان حد بھی اہم ہے۔ Health Research Authority کے بیان میں development، evaluation، deployment اور ongoing use کے دوران یہ واضح کرنے پر زور دیا گیا ہے کہ کوئی سرگرمی کب research بنتی ہے، کون سا governance route لاگو ہوتا ہے اور وہ دوسرے regulatory راستوں سے کیسے جڑتا ہے۔

پاکستانی خریدار کے لیے چار الگ خانے

یہ سفارشات پاکستانی قانون نہیں ہیں۔ تاہم UK market کے لیے product بنانے والے پاکستانی developer یا برطانوی medical AI خریدنے والے ادارے کے لیے یہ ممکنہ regulatory سمت دکھاتی ہیں۔ خریداری یا due diligence میں موجودہ ذمہ داری، مجوزہ تبدیلی، دستیاب evidence اور غیر طے شدہ فیصلے کو الگ رکھنا مفید ہوگا:

  • Qualification اور classification: ابھی applicable قانون کے تحت intended purpose اور risk class طے ہوگی؛ تجویز design، functionality، clinical benefit اور lifecycle کو زیادہ وزن دیتی ہے۔ evidence میں intended purpose، target users اور ہر medical function کی واضح حد ہونی چاہیے؛ نئی classification اور نفاذ کی تاریخ ابھی طے نہیں۔
  • Model updates: موجودہ authorisation کی حدود ہر update پر لاگو رہتی ہیں؛ مجوزہ PCCP پہلے سے متعین تبدیلیوں کو منظم کرسکتا ہے۔ خریدار version history، validation، change boundaries اور rollback procedure طلب کرسکتا ہے؛ allowable guardrails کی حتمی MHRA تعریف باقی ہے۔
  • مقامی performance: ابتدائی validation کسی نئے hospital یا population میں یکساں نتیجے کی ضمانت نہیں۔ evidence میں متعلقہ patient sub-populations، مقامی workflow، performance drift اور failure modes کے نتائج الگ ہونے چاہییں؛ ongoing reporting کی لازمی شکل ابھی مقرر نہیں۔
  • Post-market ownership: موجودہ contracts اور applicable rules ذمہ داری کی بنیاد رہیں گے؛ مجوزہ نظام manufacturer، provider اور professional کے کردار زیادہ واضح کرنا چاہتا ہے۔ monitoring، incident reporting، staff capability، version traceability اور corrective action کی تحریری تقسیم درکار ہوگی؛ liability اور redress کی تفصیلی صورت ابھی زیرِ فیصلہ ہے۔

اس checklist کو نئی برطانوی قانونی شرط سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اس کی افادیت یہ ہے کہ ایک approved product، اس کا نیا model version اور کسی مخصوص hospital میں اس کی حقیقی performance تین الگ سوالات ہیں؛ صرف ابتدائی approval ان سب کا مشترکہ جواب نہیں دیتا۔

اب رسمی حکومتی جواب کا انتظار ہے

تصدیق شدہ حالت یہی ہے کہ کمیشن نے 10 ستمبر 2026 کو recommendations شائع کردی ہیں اور MHRA کو qualification، classification، change control، lifecycle evidence اور traceability پر کام کرنے کی سفارش ملی ہے۔ حکومت اور MHRA نے ابھی یہ اعلان نہیں کیا کہ کون سی تجاویز اپنائی جائیں گی، ان کا قانونی راستہ کیا ہوگا یا implementation کب شروع ہوگی۔

اگلی فیصلہ کن پیش رفت cross-government response ہوگی۔ اسی سے واضح ہوگا کہ adaptive models کے updates کے لیے کون سی boundaries قابلِ قبول ہوں گی، pre-market اور post-market evidence کا توازن کیسے بدلے گا اور hospitals کی monitoring duties قانون، guidance یا procurement requirements میں کس صورت آئیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0