اسٹارٹ اپ کی رن وے نکالیں—ایک مہینے کا خرچ خطرہ چھپا سکتا ہے

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|8 منٹ مطالعہ
اسٹارٹ اپ کی رن وے نکالیں—ایک مہینے کا خرچ خطرہ چھپا سکتا ہے

اسٹارٹ اپ کی رن وے، یعنی موجودہ نقدی سے کام چلنے کے باقی مہینے، نکالنے کے لیے دستیاب نقدی کو گزشتہ تین ماہ کے اوسط خالص نقد خرچ سے تقسیم کریں۔ BurnRateIQ کی حسابی رہنمائی کے مطابق خالص خرچ ادا شدہ رقم میں سے وصول شدہ رقم منہا کرنے سے بنتا ہے؛ صرف ایک مہینے کا خرچ سالانہ ادائیگی یا تاخیر سے آنے والی وصولی کے باعث گمراہ کر سکتا ہے۔

اس تقسیم سے موجودہ رفتار پر باقی مدت کا ابتدائی اندازہ ملتا ہے۔ نقد ختم ہونے کا مہینہ اور سرمایہ جمع کرنے کا وقت جاننے کے لیے آئندہ ہر مہینے کی وصولیاں، ادائیگیاں اور باقی نقدی الگ حساب کریں۔ اسی حساب میں دیکھیں کہ کاروبار اخراجات پورے کرنے والی آمدن تک پہنچنے سے پہلے اپنی نقدی تو استعمال نہیں کر لے گا۔

حساب کے لیے نقدی اور خالص خرچ طے کریں

ابتدائی رقم وہ نقدی ہے جو حساب کی تاریخ پر کمپنی روزمرہ ادائیگیوں کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ بینک میں موجود تمام متعلقہ کھاتوں کی دستیاب رقم جمع کریں، مگر کسی مخصوص مقصد کے لیے بندھی ہوئی رقم الگ رکھیں۔ صارف کو بھیجا گیا بل وصول ہونے تک نقدی نہیں؛ اسی طرح سرمایہ کاری کی پیشکش رقم کمپنی کے کھاتے میں آنے سے پہلے بیلنس کا حصہ نہیں بنتی۔

ہر مکمل مہینے کی ادا شدہ تنخواہیں، کرایہ، سافٹ ویئر، فراہم کنندگان کی رقوم اور دوسری کاروباری ادائیگیاں جمع کریں۔ اس مجموعے سے اسی مہینے صارفین سے واقعی وصول ہونے والی رقم منہا کریں۔ فروخت درج ہونے اور رقم ملنے کے درمیان وقفہ ہو تو حساب میں وصولی کی تاریخ استعمال کریں، ورنہ منافع اور نقدی کی حرکت آپس میں گڈمڈ ہو جائیں گے۔

نئی سرمایہ کاری یا قرض سے بینک بیلنس بڑھ سکتا ہے، لیکن اسے صارفین سے حاصل ہونے والی آمدن سمجھ کر خالص خرچ کم نہ کریں۔ کھاتوں کے درمیان منتقلی کو بھی نئی وصولی یا خرچ نہ بنائیں۔ ابتدائی نقدی میں وصولیاں جمع اور ادائیگیاں منہا کرنے کے بعد جو رقم نکلے، اسے مہینے کے اختتامی بینک بیلنس سے ملانا حساب میں چھوٹی ہوئی یا دو بار درج کی گئی حرکت پکڑنے کا طریقہ ہے۔

روپے میں تین ماہ کی اوسط

یہ ایک فرضی مثال ہے: تین مکمل مہینوں کے بعد کمپنی کے پاس ۹۶ لاکھ روپے دستیاب ہیں۔ پچھلے مہینوں کی وصولیوں اور ادائیگیوں سے خالص نقد خرچ یوں نکلتا ہے:

  • پہلا مہینہ: ۱۲ لاکھ روپے ادا ہوئے اور ۴ لاکھ وصول ہوئے؛ خالص خرچ ۸ لاکھ روپے۔
  • دوسرا مہینہ: ۱۹ لاکھ روپے ادا ہوئے اور ۵ لاکھ وصول ہوئے؛ خالص خرچ ۱۴ لاکھ روپے۔
  • تیسرا مہینہ: ۱۵ لاکھ روپے ادا ہوئے اور ۶ لاکھ وصول ہوئے؛ خالص خرچ ۹ لاکھ روپے۔

تین ماہ کا مجموعی خالص خرچ ۳۱ لاکھ روپے ہے۔ اسے تین پر تقسیم کرنے سے ماہانہ اوسط تقریباً ۱۰٫۳۳ لاکھ روپے بنتی ہے۔ پھر ۹۶ لاکھ دستیاب نقدی کو اس اوسط سے تقسیم کریں: موجودہ رفتار پر رن وے تقریباً ۹٫۲۹ ماہ ہے۔ صرف آخری مہینے کے ۹ لاکھ روپے کو بنیاد بنائیں تو نتیجہ تقریباً ۱۰٫۶۷ ماہ آتا ہے۔ ایک ہی نقد بیلنس کے لیے یہ فرق سرمایہ جمع کرنے کی منصوبہ بندی بدل سکتا ہے۔

یہ مہینوں کی اوسط ہے، نقد ختم ہونے کی قطعی تاریخ نہیں۔ اس میں یہ مفروضہ شامل ہے کہ آئندہ بھی نقدی تقریباً اسی رفتار سے کم ہوگی۔ نئے ملازمین کی تنخواہ، کسی بڑے صارف کی تاخیر سے ادائیگی یا طے شدہ سالانہ تجدید اس مفروضے کو بدل سکتی ہے؛ اس لیے آئندہ ادائیگیوں کا مہینہ وار حساب بھی ضروری ہے۔

غیر معمولی ادائیگی الگ دیکھیں، غائب نہ کریں

فرض کریں دوسرے مہینے کے ۱۹ لاکھ روپے میں ۶ لاکھ روپے کی سالانہ سافٹ ویئر تجدید شامل تھی۔ CRV کی رن وے رہنمائی کے مطابق تین ماہ کی اوسط ایک غیر معمولی مہینے کا اثر نرم کرتی ہے، مگر مسلسل بڑھتے خرچ کی رفتار اسی اوسط میں چھپ سکتی ہے۔ اس لیے اصل اوسط کے ساتھ ایک الگ، معمول کے اخراجات پر مبنی حساب رکھنا مفید ہے۔

فرضی مثال میں سالانہ ادائیگی عارضی طور پر الگ کریں تو باقی تین ماہ کا خالص خرچ ۲۵ لاکھ روپے، یعنی اوسطاً تقریباً ۸٫۳۳ لاکھ روپے ماہانہ بنتا ہے۔ ۹۶ لاکھ روپے اس رفتار پر تقریباً ۱۱٫۵۲ ماہ کے برابر ہیں۔ یہ صرف معمول کے خرچ کی رفتار دکھاتا ہے: سالانہ تجدید اگلی بار جس مہینے واجب ہو، پوری ۶ لاکھ روپے کی ادائیگی اسی مہینے کے آئندہ نقدی حساب میں واپس آئے گی۔

تاخیر سے ملنے والی وصولی کو بھی مستقل اضافی ماہانہ آمدن نہ سمجھیں؛ اسے متوقع وصولی کے مہینے میں رکھیں۔ اگر حالیہ بھرتیوں سے تنخواہوں کا مستقل بل بڑھ چکا ہے تو پرانی کم ادائیگیوں کی اوسط آئندہ خرچ کو کم دکھائے گی۔ ایسے میں پچھلی اوسط تاریخی پیمانہ رہے، جبکہ آئندہ کے حساب میں نئی مستقل لاگت آئے۔

نقد ختم ہونے کا مہینہ نکالیں

ایک حسابی شیٹ میں ہر آئندہ مہینے کے لیے چار مقداریں رکھیں: ابتدائی نقدی، متوقع وصولیاں، متوقع ادائیگیاں اور اختتامی نقدی۔ ابتدائی نقدی میں وصولیاں جمع کر کے ادائیگیاں منہا کریں؛ نتیجہ اگلے مہینے کی ابتدائی نقدی بنے گا۔ جس مہینے اختتامی رقم صفر سے نیچے جائے، وہ منصوبے کے مطابق نقد ختم ہونے کا مہینہ ہے۔

فرضی مثال میں اگر ۹۶ لاکھ روپے یکم اپریل کو موجود ہوں اور خالص خرچ ہر مہینے بالکل ۱۰٫۳۳ لاکھ روپے رہے تو نو مکمل مہینوں کے بعد کچھ نقدی باقی ہوگی، مگر اگلے، یعنی جنوری کے مہینے میں ختم ہو جائے گی۔ صرف ماہانہ اعداد سے جنوری کی مخصوص تاریخ نہیں نکلتی۔ اگر بڑی ادائیگی مہینے کے آغاز میں واجب ہو تو نقدی کی کمی ماہ کے اختتامی حساب سے پہلے بھی سامنے آ سکتی ہے۔

اسی لیے سالانہ تجدید، متوقع بھرتی اور صارفین کی ادائیگیوں کو ان کے متعلقہ مہینوں میں رکھیں۔ آمدن بڑھنے کی توقع ہو تو صرف فروخت کا ہدف لکھنے کے بجائے وہ مہینہ درج کریں جس میں رقم واقعی ملنے کا امکان ہے۔ اس طرح اوسط سے حاصل ہونے والے ۹٫۲۹ ماہ اور ادائیگیوں کے شیڈول سے نکلنے والے نقد ختم ہونے کے مہینے کا فرق واضح رہے گا۔

بریک ایون نقد ختم ہونے سے پہلے آئے گا؟

Y Combinator کا ڈیفالٹ الائیو معیار پوچھتا ہے کہ اخراجات اپنی موجودہ سطح پر رہیں اور آمدن موجودہ رفتار سے بڑھتی رہے تو کیا کمپنی نقد ختم ہونے سے پہلے بریک ایون تک پہنچے گی۔ بریک ایون وہ مقام ہے جہاں آمدن اخراجات کے برابر ہو۔ نقدی کی جانچ میں متوقع سرمایہ کاری شامل کیے بغیر ہر مہینے کا باقی بیلنس بھی دیکھنا ہوگا۔

اسی فرضی کمپنی کے لیے آئندہ معمول کی ماہانہ ادائیگیاں ۱۵ لاکھ اور موجودہ ماہانہ وصولی ۶ لاکھ روپے فرض کریں۔ مزید فرض کریں کہ اگلے مہینے وصولی ۶٫۵ لاکھ ہوگی اور پھر ہر مہینے ٹھیک ۵۰ ہزار روپے بڑھے گی، جبکہ اخراجات ۱۵ لاکھ پر رہیں گے۔ اس صورت میں اٹھارویں آئندہ مہینے کی وصولی ۱۵ لاکھ روپے ہوگی۔ اس سے پہلے کے سترہ مہینوں کا مجموعی خالص خرچ ۷۶٫۵ لاکھ روپے نکلتا ہے؛ ۹۶ لاکھ کی ابتدائی نقدی اس سادہ حساب میں بریک ایون تک کافی ہے۔

یہ بڑھوتری صرف مثال کا مفروضہ ہے، پیش گوئی نہیں۔ اگر اس مدت میں اگلی ۶ لاکھ روپے کی سالانہ تجدید واجب ہو تو اسے بھی متعلقہ مہینے میں شامل کریں؛ اگر وصولی کی رفتار کم پڑے یا مستقل اخراجات بڑھیں تو بریک ایون بعد میں آئے گا۔ اس جانچ کا حاصل صرف بریک ایون کا مہینہ نہیں، بلکہ اس مہینے تک درکار مجموعی نقدی ہے۔

سرمایہ جمع کرنے کا آغاز کب رکھیں

نقد ختم ہونے کے متوقع مہینے سے پیچھے گنیں: پہلے سرمایہ آنے تک اپنے منصوبے میں درکار مدت رکھیں، پھر ممکنہ تاخیر کی گنجائش شامل کریں۔ مثال کے طور پر اگر کمپنی اپنے لیے سرمایہ جمع کرنے کے عمل کے چھ ماہ اور تاخیر کے تین ماہ فرض کرتی ہے تو آغاز نقد ختم ہونے کے متوقع مہینے سے کم از کم نو ماہ پہلے بنتا ہے۔ یہ فرضی منصوبہ بندی ہے، ہر اسٹارٹ اپ کے لیے مقررہ مدت نہیں۔

اگر فرضی کمپنی کے ماہ بہ ماہ حساب میں نقدی جنوری میں ختم ہوتی ہے تو اس نو ماہ کے مفروضے کے تحت عمل اپریل کے آس پاس شروع ہوگا۔ لیکن بریک ایون سے پہلے نقدی مثبت رہنے والا قابلِ اعتبار منصوبہ ہو تو سرمایہ جمع کرنے کی ضرورت اور وقت مختلف ہو سکتے ہیں۔ فیصلہ کرتے وقت متوقع نقد ختم ہونے کا مہینہ، سرمایہ آنے کی ممکنہ تاریخ اور بریک ایون تک درکار مجموعی نقدی ایک ہی حساب میں رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں:

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0