
اسٹارٹ اپ رن وے نکالیں—منافع نہیں، خالص نقد خرچ دیکھیں

اسٹارٹ اپ کے باقی چلنے کی مدت کا سادہ حساب ہے: قابلِ استعمال نقد ÷ ماہانہ خالص نقد خرچ = رن وے کے مہینے۔ خالص خرچ نکالنے کے لیے مجموعی ماہانہ خرچ میں سے آمدن منہا کی جاتی ہے؛ Carta کا برن ریٹ فارمولا دونوں اعداد الگ رکھتا ہے۔ پاکستانی بانی کے نقد حساب میں آمدن کا قابلِ استعمال حصہ وہ رقم ہے جو واقعی کاروبار کو وصول ہو چکی ہو۔
منافع و نقصان کے کھاتے کا عدد اس تقسیم میں براہِ راست رکھنا گمراہ کر سکتا ہے، کیونکہ درج شدہ آمدن اور اخراجات کا وقت نقد کی آمدورفت سے مختلف ہو سکتا ہے۔ Kruze Consulting کی رن وے ہدایت نقد بہاؤ یا کھاتوں کے بیلنس سے خرچ جانچنے، تین یا چھ ماہ کا اوسط لینے اور متوقع بھرتی کو آئندہ مہینوں کے حساب میں شامل کرنے کی وضاحت کرتی ہے۔
تقسیم سے پہلے کون سے عدد چنیں؟
ابتدائی نقد میں بینک اور دوسرے نقد کھاتوں کی صرف وہ رقم جمع کریں جس سے کاروبار آنے والے بل ادا کر سکتا ہے۔ کسی مخصوص مقصد کے لیے بندھی ہوئی رقم، ابھی نہ ملی سرمایہ کاری اور گاہک کا غیر وصول شدہ بل اس رقم کا حصہ نہیں۔ اپنے ہی ایک کھاتے سے دوسرے میں منتقلی کو نئی وصولی گننے سے کل بیلنس غلط طور پر بڑھ جائے گا۔
ماہانہ مجموعی نقد خرچ میں تنخواہیں، سپلائرز، کرایہ، سافٹ ویئر اور دوسری حقیقی ادائیگیاں شامل کریں۔ پھر اسی مدت میں گاہکوں سے وصول شدہ رقم منہا کریں؛ باقی خالص نقد خرچ ہے۔ بھیجا گیا بل یا طے شدہ سودا وصولی کے خانے میں اس وقت آئے گا جب رقم پہنچے گی، خواہ فروخت پہلے درج ہو چکی ہو۔
اگر وصولیاں ادائیگیوں کے برابر یا ان سے زیادہ ہوں تو اس مہینے کا خالص نقد خرچ صفر یا منفی ہوگا۔ ایسی صورت میں موجودہ نقد کو اس عدد پر تقسیم کرنے سے نقد ختم ہونے کی بامعنی تاریخ نہیں ملتی۔ آئندہ تنخواہوں، بڑے بلوں اور ممکنہ وصولیوں کے لیے مہینے بہ مہینے نقد پیش گوئی پھر بھی ضروری ہے، کیونکہ مثبت مہینے کے بعد زیادہ خرچ والا مہینہ آ سکتا ہے۔
پاکستانی روپے اور ڈالر الگ کیسے رکھیں؟
روپے اور ڈالر کے کھاتوں کا بیلنس پہلے اپنی اپنی کرنسی میں لکھیں۔ منصوبہ بندی میں ڈالر کی صرف وہ رقم منتخب شرح پر روپے میں بدلیں جو واقعی روپے والے اخراجات کے لیے دستیاب ہو سکتی ہے۔ تبدیل شدہ رقم کو روپے کے مجموعے میں شامل کرنے کے بعد وہی ڈالر اصل کھاتے سے دوبارہ جمع نہ کریں؛ ورنہ ایک ہی نقد دو بار شمار ہوگا۔
اگر برآمدی گاہک کی ڈالر ادائیگی متوقع ہے تو اسے آج کے نقد میں شامل کرنے کے بجائے وصولی کے متوقع مہینے میں رکھیں۔ ادائیگی دیر سے آنے کا امکان ہو تو ایک محتاط حساب اس کے بغیر بھی بنائیں۔ اس سے فروخت اور نقد کی دستیابی کا فرق سامنے آتا ہے: کاروبار کے پاس وصول طلب رقم ہو سکتی ہے، مگر اس سے اس ماہ کی تنخواہ ادا نہیں ہوتی۔ روپے میں اس وصولی کی منصوبہ جاتی قدر بدلنے پر آئندہ بیلنس بھی دوبارہ نکالیں۔
نئی سرمایہ کاری کو بھی گاہک سے وصولی کے بجائے الگ خانے میں رکھیں۔ رقم کھاتے میں پہنچنے پر وہ دستیاب نقد بڑھاتی ہے، لیکن اسے معمول کی ماہانہ آمد سمجھ کر خالص خرچ کم کرنے سے رن وے بڑھا ہوا دکھائی دے گا۔
تین اور چھ ماہ کے اوسط سے ورک شیٹ بنائیں
ہر مکمل مہینے کے لیے یہ خانے رکھیں: آغاز کا قابلِ استعمال نقد، گاہکوں سے روپے میں وصولی، ڈالر کی واقعی موصول شدہ اور قابلِ استعمال رقم کی روپے میں قدر، مجموعی نقد ادائیگیاں، غیر معمولی ادائیگی، نئی بھرتی کا خرچ، موصول شدہ سرمایہ اور اختتامی نقد۔ حساب یوں ہے: آغاز کا نقد + وصولیاں + موصول شدہ سرمایہ − تمام نقد ادائیگیاں = اختتامی نقد۔ اگلے مہینے کا آغاز اسی اختتامی رقم سے ہوگا۔ غیر معمولی ادائیگی کو مجموعی ادائیگیوں سے الگ دکھائیں، مگر کل خرچ میں صرف ایک بار شامل کریں۔
یہ فرضی مثال لاکھ پاکستانی روپے میں ہے، کسی حقیقی کمپنی کے اعداد نہیں۔ پچھلے چھ مہینوں کی نقد ادائیگیاں بالترتیب ۱۴، ۱۴، ۱۵، ۱۵، ۱۶ اور ۱۶ لاکھ روپے، جبکہ گاہکوں سے وصولیاں ۶، ۵، ۵، ۴، ۴ اور ۳ لاکھ روپے فرض کریں۔ ہر مہینے کا خالص خرچ ۸، ۹، ۱۰، ۱۱، ۱۲ اور ۱۳ لاکھ روپے بنتا ہے۔ چھ ماہ کا اوسط ۱۰٫۵ لاکھ، جبکہ حالیہ تین ماہ کا اوسط ۱۲ لاکھ روپے ماہانہ ہے۔
اس مثال میں حالیہ تین ماہ کا اوسط بڑھتے خرچ کو جلد دکھاتا ہے؛ چھ ماہ کے اوسط میں پہلے کے کم خرچ والے مہینے بھی شامل ہیں۔ آئندہ خرچ کے لیے صرف تاریخی اوسط کافی نہیں اگر نئی بھرتی پہلے ہی طے ہو چکی ہو۔ فرض کریں اگلے مہینے مجموعی ادائیگی ۱۶ لاکھ اور گاہکوں سے وصولی ۴ لاکھ روپے ہوگی: منصوبے کا ابتدائی خالص خرچ ۱۲ لاکھ روپے ہے، جبکہ بھرتی شروع ہونے پر اسے نئی رقم سے بدلنا ہوگا۔
بنیادی، محتاط اور منصوبہ جاتی رن وے

فرض کریں اس کاروبار کے پاس اب ۹۰ لاکھ روپے قابلِ استعمال نقد ہے۔ ۱۲ لاکھ روپے ماہانہ خالص خرچ برقرار رہے تو بنیادی رن وے ۹۰ ÷ ۱۲، یعنی ۷٫۵ ماہ ہے۔ یہ ایک مستقل رفتار کا اندازہ ہے؛ تاریخ وار آنے والی ادائیگیوں کے لیے ماہانہ بیلنس زیادہ واضح تصویر دیتا ہے۔
محتاط صورت میں فرض کریں گاہکوں سے ۴ لاکھ روپے کی ماہانہ وصولی رک جاتی ہے، جبکہ ۱۶ لاکھ روپے کی ادائیگیاں جاری رہتی ہیں۔ خالص خرچ پھر ۱۶ لاکھ روپے ہوگا اور رن وے ۹۰ ÷ ۱۶، یعنی تقریباً ۵٫۶ ماہ۔ اگر وصولی صرف ایک مہینہ دیر سے آنی ہے تو اسے ہمیشہ کے لیے ختم نہ سمجھیں: اس مہینے میں وصولی صفر اور جس مہینے رقم آنے کی توقع ہے اس میں متعلقہ رقم درج کریں۔
منصوبہ جاتی صورت میں فرض کریں طے شدہ بھرتی تیسرے مہینے سے ماہانہ ادائیگی ۳ لاکھ روپے بڑھاتی ہے اور گاہکوں کی وصولی ۴ لاکھ روپے رہتی ہے۔ پہلے دو مہینوں میں خالص خرچ ۱۲ لاکھ، پھر ۱۵ لاکھ روپے ماہانہ ہوگا۔ قابلِ نقل ماہانہ قطاریں، لاکھ روپے میں، یوں بنیں گی:
- پہلا مہینہ: آغاز ۹۰، وصولی ۴، ادائیگی ۱۶، اختتام ۷۸۔
- دوسرا مہینہ: آغاز ۷۸، وصولی ۴، ادائیگی ۱۶، اختتام ۶۶۔
- تیسرا مہینہ: آغاز ۶۶، وصولی ۴، بھرتی سمیت ادائیگی ۱۹، اختتام ۵۱۔
- چوتھا، پانچواں اور چھٹا مہینہ: اسی ۱۵ لاکھ روپے کے خالص خرچ پر اختتامی نقد بالترتیب ۳۶، ۲۱ اور ۶ لاکھ روپے۔
چھٹے مہینے کے بعد بچنے والے ۶ لاکھ روپے، ۱۵ لاکھ روپے ماہانہ خرچ کی رفتار پر مہینے کے تقریباً ۰٫۴ حصے کے برابر ہیں؛ اس لیے منصوبہ جاتی رن وے تقریباً ۶٫۴ ماہ ہے۔ اصل صفر نقد کی تاریخ اس بات سے بھی بدلے گی کہ ساتویں مہینے میں تنخواہ اور گاہک کی ادائیگی کس دن ہوتی ہیں۔
سرمایہ اکٹھا کرنے کی تیاری کب شروع کریں؟
سرمایہ اکٹھا کرنے کا وقت بنیادی عدد سے نہیں، اس تاریخ سے پیچھے گنیں جب کسی معقول محتاط صورت میں بل ادا کرنے کے لیے نقد کم پڑ سکتا ہے۔ اس مدت میں سرمایہ کاروں سے بات چیت، فیصلہ، رقم پہنچنے کا وقت اور کاروبار کے لیے ضروری نقد ذخیرہ شامل کریں۔ فرضی مثال میں ۷٫۵ ماہ کا بنیادی حساب اکیلا دیکھنے سے وصولیاں رکنے والی صورت کے تقریباً ۵٫۶ ماہ پوشیدہ رہیں گے۔
ہر مہینے کے اختتام پر اصل بیلنس کو ورک شیٹ کے اختتامی نقد سے ملائیں، پھر اگلے مہینوں کی وصولیاں اور ادائیگیاں تازہ کریں۔ نئی بھرتی، تاخیر سے آنے والی برآمدی ادائیگی یا موصول شدہ سرمایہ جس مہینے نقد بدلتا ہے، اسی مہینے کی قطار بدلے گا۔ یوں فنڈ جمع کرنے کی تیاری دستیاب نقد کی متوقع کمی سے جڑی رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں:
متعلقہ مضامین


Payoneer یا Wise؟ پاکستان میں سستی شرح ہمیشہ قابلِ استعمال نہیں

FBR نے تخلیق کاروں کی آمدن کا نیا حساب باندھ دیا—خرچ کی حد 30٪

Pakistan Startup Fund کی 30٪ grant—پہلے lead investor درکار ہے

Upwork یا Fiverr؟ 100 ڈالر کی کمائی میں کٹوتی فیصلہ بدل دیتی ہے

Flow Engineering کو 5 کروڑ ڈالر—750 ملین کی قدر اب گاہک ثابت کریں گے
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔