بوٹسٹریپ یا وینچر سرمایہ؟ تیز نمو کے بدلے اختیار کی قیمت

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|8 منٹ مطالعہ
بوٹسٹریپ یا وینچر سرمایہ؟ تیز نمو کے بدلے اختیار کی قیمت

اگر گاہک جلد ادائیگی شروع کر سکتے ہیں اور بانی آمدن آنے تک نقدی کا خلا برداشت کر سکتا ہے تو بوٹسٹریپنگ موزوں ہو سکتی ہے۔ جب مصنوعات کی تیاری پر بھاری پیشگی خرچ لازم ہو یا منڈی میں تیزی سے پھیلنا کامیابی کی شرط ہو، وینچر سرمایہ اس فاصلے کو پُر کر سکتا ہے۔ Carta کی بوٹسٹریپنگ کی تشریح کے مطابق اپنے وسائل اور ابتدائی آمدن سے کاروبار بڑھانے پر بیرونی سرمایہ کار کو حصص اور فیصلہ سازی میں حصہ نہیں دینا پڑتا، اگرچہ محدود وسائل رفتار کم کر سکتے ہیں۔

پاکستانی ٹیکنالوجی بانی کے لیے اصل موازنہ یہ ہے کہ رقم کب درکار ہوگی، آمدن کب وصول ہوگی، تیز رفتاری سے کیا حاصل ہوگا اور اس کے لیے کتنی ملکیت اور کون سے فیصلے بانٹنے پڑیں گے۔ منافع کمانے والی محدود پیمانے کی کمپنی، تیزی سے پھیلنے والی مارکیٹ پلیس اور آمدن سے پہلے طویل تحقیق مانگنے والی کمپنی کے جواب مختلف ہو سکتے ہیں۔

نقدی کا خلا مجموعی خسارے سے کیوں مختلف ہے؟

فیصلے کی ابتدا اگلے ۲۴ ماہ کی ماہانہ نقد آمدن اور ادائیگیوں سے ہوتی ہے۔ تنخواہ، مصنوعات کی تیاری، گاہک حاصل کرنے، بیرونی خدمات اور آلات کا خرچ اس مہینے میں رکھیں جب رقم ادا ہوگی؛ فروخت اس مہینے میں درج کریں جب گاہک کی ادائیگی ملنے کی توقع ہے۔ پھر ہر مہینے کے آخر میں جمع شدہ نقدی کا حساب نکالیں۔ اس حساب کا سب سے منفی مقام وہ رقم دکھاتا ہے جو کاروبار چلتے رہنے کے لیے درکار ہوگی۔

دو سال کی کل وصولیوں میں سے کل اخراجات منہا کرنا اکیلا کافی نہیں۔ ممکن ہے سال کے آخر تک بڑا حصہ وصول ہو جائے، لیکن ابتدا کے کئی مہینوں میں تنخواہ اور تیاری کے اخراجات پہلے ادا کرنے پڑیں۔ گاہکوں کی پیشگی ادائیگی، وصولی میں تاخیر یا کسی بڑے خریدار پر انحصار اسی خلا کو بدل سکتے ہیں۔ اس لیے بانی کے پاس موجود رقم کا موازنہ آخری مجموعی خسارے کے بجائے سب سے بڑے ماہانہ نقدی خلا سے ہونا چاہیے۔

روپے میں آمدن اور ڈالر میں واجب الادا خدمات یا آلات کو الگ شمار کریں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی شرحِ مبادلہ کی وضاحت کے مطابق پاکستانی روپے کی شرح منڈی میں طلب اور رسد سے متعین ہوتی ہے۔ اگر ڈالر خرچ مقرر ہو اور روپے کی قدر بدلے تو روپے میں درکار رقم بھی بدل جائے گی؛ ایک ہی شرح پر بنایا ہوا نقدی منصوبہ اس خطرے کو چھپا سکتا ہے۔

تین فرضی پاکستانی کمپنیوں میں انتخاب کیسے بدلتا ہے؟

فرضی پاکستانی تحقیقی کمپنی میں آمدن شروع ہونے سے پہلے نمونے کی آزمائش اور ابتدائی خرچ

یہ تینوں منظرنامے فرضی فیصلہ جاتی مثالیں ہیں، پاکستانی کمپنیوں کے اوسط اخراجات یا دستیاب سرمایہ کا اندازہ نہیں۔ تمام رقوم ڈالر کے مساوی لکھی گئی ہیں تاکہ خرچ، وصولی اور حصص کا حساب ایک ہی پیمانے پر ہو۔ ہر مثال میں بانی ابتدا میں تمام حصص کا مالک ہے؛ ملازمین کے لیے حصص، قرض اور سرمایہ کاری کے اخراجات شامل نہیں۔ حقیقی پیشکش میں ان عناصر سے نتیجہ بدل سکتا ہے۔

  • سافٹ ویئر بطور خدمت: فرض کریں ۲۴ ماہ کے اخراجات ایک لاکھ ۸۰ ہزار ڈالر اور گاہکوں سے وصولیاں ایک لاکھ ۵۰ ہزار ڈالر ہیں۔ آخری مجموعی خلا ۳۰ ہزار ڈالر ہے، لیکن ماہانہ حساب میں سب سے بڑا خلا ۴۵ ہزار ڈالر نکلتا ہے۔ اگر بانی یہ رقم اور غیر متوقع تاخیر کا خرچ برداشت کر سکتا ہے، جبکہ صارفین سے ادائیگی جلد شروع ہوتی ہے، تو پہلے آمدن سے بڑھنا معقول ہے۔ بیرونی حصص سرمایہ نہ لینے سے سرمایہ کار کی بورڈ نشست یا فروخت پر منظوری کی شرط پیدا نہیں ہوتی۔ بانی کے لیے مستقل منافع یا نسبتاً محدود فروخت بھی قابلِ قبول نتیجہ ہو سکتا ہے۔
  • مارکیٹ پلیس: فرض کریں تاجروں، خریداروں اور ترسیلی شراکت داروں کو جوڑنے کے لیے ۲۴ ماہ میں آٹھ لاکھ ڈالر خرچ ہوں اور دو لاکھ ڈالر وصول ہوں۔ اگر ماہانہ نقدی مسلسل منفی رہے تو اس مثال میں سب سے بڑا خلا چھ لاکھ ڈالر ہوگا۔ مزید ڈیڑھ لاکھ ڈالر کی گنجائش رکھ کر ساڑھے سات لاکھ ڈالر جمع کیے جائیں اور سرمایہ آنے سے پہلے کمپنی کی فرضی قیمت ۳۰ لاکھ ڈالر ہو تو نئے سرمایہ کار کو ۲۰ فیصد حصص ملیں گے۔ یہ راستہ اسی وقت وزن رکھتا ہے جب تیزی سے پھیلنے سے ایسے علاقوں میں خریدار اور فراہم کنندگان جمع ہوں جہاں سست آغاز کاروبار کے لیے نقصان دہ ہو۔ بانی کے باقی ۸۰ فیصد حصص بورڈ اور فروخت کے فیصلوں پر مکمل اختیار کی ضمانت نہیں۔
  • تحقیق پر مبنی کمپنی: فرض کریں آزمائش، ماہر عملے اور آلات پر ۲۴ ماہ میں ۱۵ لاکھ ڈالر خرچ ہوں اور اس عرصے میں گاہکوں سے آمدن نہ ہو۔ بانی کے پاس اتنے وسائل نہ ہوں تو تحقیقی معاونت یا بیرونی سرمایہ درکار ہوگا۔ اگر ۶۰ لاکھ ڈالر کی فرضی ابتدائی قیمت پر ۲۰ لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ملے تو سرمایہ کار کو ۲۵ فیصد حصص ملیں گے؛ خرچ کے بعد پانچ لاکھ ڈالر کی گنجائش باقی رہے گی۔ یہاں سرمایہ لینے کا جواز اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب رقم کسی واضح تحقیقی پیش رفت تک پہنچا سکے جس کے بعد مزید سرمایہ یا تجارتی آمدن کا راستہ کھلے۔

حصص کا فیصد اور فیصلہ کرنے کا حق الگ کیوں ہیں؟

سرمایہ لینے کے بعد کمپنی کے بورڈ میں بانی کی نشست اور دوسرے فیصلہ سازوں کی نشستوں کا تقابل

فرضی سرمایہ کاری میں نئے سرمایہ کار کا حصہ، لگائی گئی رقم کو سرمایہ آنے کے بعد کمپنی کی کل قیمت پر تقسیم کرنے سے نکلتا ہے۔ مارکیٹ پلیس کی مثال میں ساڑھے سات لاکھ ڈالر، ۳۷ لاکھ ۵۰ ہزار ڈالر کی نئی کل قیمت کا ۲۰ فیصد ہیں۔ اگر اگلے دور میں جاری ہونے والے نئے حصص اس وقت کی کمپنی کے مزید ۲۰ فیصد ہوں تو بانی کا حصہ ۸۰ سے ۶۴ فیصد رہ جائے گا۔ تحقیق کی مثال میں پہلے ۲۵ فیصد دینے اور پھر اسی نوعیت کے ایک اور ۲۵ فیصد دور کے بعد بانی کا حصہ ۵۶٫۲۵ فیصد ہوگا۔ یہ حساب اسی مفروضے پر ہے کہ درمیان میں دوسرے حصص جاری نہ ہوں۔

ملکیت کے یہ اعداد بورڈ کے ووٹ، سرمایہ کار کی رضامندی یا کاروبار کی فروخت پر رقم کی تقسیم نہیں بتاتے۔ Carta کی سرمایہ کاری کی شرائط کی رہنمائی بورڈ کی ساخت، بعض بڑے فیصلوں پر سرمایہ کار کی منظوری، ملازمین کے لیے مختص حصص اور فروخت پر ترجیحی ادائیگی کو الگ شرائط بتاتی ہے۔ یوں اکثریتی حصص رکھنے والا بانی بھی نئے حصص جاری کرنے یا کمپنی فروخت کرنے کے لیے رضامندی کا پابند ہو سکتا ہے، اگر طے شدہ شرائط یہی ہوں۔

اس لیے ایک ہی رقم کی دو پیشکشوں کا موازنہ صرف کمپنی کی بتائی گئی قیمت سے نہیں ہوگا۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ حصص کا حساب ملازمین کے لیے مختص حصے سے پہلے بنتا ہے یا بعد میں، بورڈ میں نشستیں کس کو ملتی ہیں اور فروخت کی صورت میں پہلے ادائیگی کس کو ہوگی۔ چھوٹی فروخت بانی کے لیے مناسب ہو سکتی ہے، مگر ترجیحی ادائیگی اس سے بانی کو ملنے والی رقم بدل سکتی ہے۔

اگلا دور اور مطلوبہ خروج ابتدائی فیصلے پر کیسے اثر ڈالتے ہیں؟

اگر پہلی سرمایہ کاری کمپنی کو خود کفالت تک نہیں پہنچاتی تو اگلے دور کے لیے قابلِ دکھائی پیش رفت اہم ہو جاتی ہے۔ مارکیٹ پلیس میں اس کا مطلب محدود علاقوں میں بار بار ہونے والا لین دین اور گاہک حاصل کرنے کے خرچ کو سنبھالنے کی صلاحیت ہو سکتا ہے۔ تحقیق والی کمپنی میں اگلی آزمائش کا نتیجہ یا قابلِ استعمال نمونہ زیادہ متعلق ہوگا۔ پہلے دور کی فرضی قیمت پر اگلا سرمایہ ملنا طے شدہ بات نہیں؛ نئی قیمت بدلے تو بانی کے باقی حصص کا حساب بھی بدلے گا۔

Y Combinator کی سرمایہ اکٹھا کرنے کی گفتگو میں Aaron Harris بتاتے ہیں کہ زیادہ سرمایہ لینے والی کمپنی سے سرمایہ کار زیادہ پیش رفت کی توقع رکھتے ہیں اور آئندہ مراحل تک پہنچنے کا قابلِ اعتبار منصوبہ دیکھتے ہیں۔ اسی لیے محض زیادہ رقم دستیاب ہونا اسے لینے کی کافی وجہ نہیں۔ اگر بانی مستقل منافع یا محدود قیمت پر فروخت کو کامیابی سمجھتا ہے، تو اسے ایسی سرمایہ کاری کی شرائط قبول کرنے سے پہلے سوچنا ہوگا جس کا منافع بہت بڑی نمو پر منحصر ہو۔

انتخاب تب واضح ہوتا ہے جب بانی ایک ہی حساب میں سب سے بڑا نقدی خلا، منڈی میں رفتار کی ضرورت، اگلے دور کے بعد باقی حصص، بورڈ کے حقوق اور اپنی قابلِ قبول فروخت رکھتا ہے۔ جلد ادائیگی والی سافٹ ویئر کمپنی بانی کے وسائل سے آگے بڑھ سکتی ہے؛ رفتار پر منحصر مارکیٹ پلیس کے لیے حصص دینا مفید ہو سکتا ہے؛ طویل تحقیق والی کمپنی کو آمدن شروع ہونے سے پہلے مالی اعانت چاہیے ہو سکتی ہے۔ فیصلہ کن فرق ہر صورت میں یہ ہے کہ حاصل ہونے والی رفتار یا پیش رفت، چھوڑے گئے اختیار کی قیمت کے قابل ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0