
FBR نے تخلیق کاروں کی آمدن کا نیا حساب باندھ دیا—خرچ کی حد 30٪

پاکستان میں FBR نے 23 ستمبر 2026 کو معاوضہ دینے والے سوشل میڈیا مواد سے آمدن کے حتمی قواعد جاری کیے، جن کے تحت اصل معاوضے اور نظاروں سے بننے والی مقررہ رقم میں بڑی رقم حساب کی بنیاد ہوگی، جبکہ خرچ مجموعی رقم کے زیادہ سے زیادہ 30٪ تک منہا ہوسکے گا؛ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ میں رہائشی اور غیر رہائشی افراد کے لیے الگ اطلاعات کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔ یہ طریقہ قابلِ حساب آمدن طے کرتا ہے، خود ٹیکس کی شرح نہیں۔
رہائشی افراد کے لیے 23 ستمبر 2026 کے ایس آر او 1641 کے متن میں YouTube ویڈیو کے ہر 1000 نظاروں پر 195 روپے کی مقررہ شرح، اصل معاوضے سے تقابل اور واقعی خرچ کی 30٪ حد درج ہے۔ اصل معاوضہ نقد بھی ہوسکتا ہے اور کسی دوسری شکل میں بھی۔ اگر تخلیق کار کی وصولی نظاروں سے بننے والے تخمینے سے کم ہو تو اسے کم رقم ثابت کرنے کے لیے کمشنر کو ثبوت دینا ہوگا۔
بڑی رقم حساب کی بنیاد کیوں بنتی ہے
قاعدے میں پہلے مجموعی معاوضہ طے ہوتا ہے، پھر اس سے قابلِ قبول خرچ منہا کرکے کم از کم آمدن نکالی جاتی ہے۔ مجموعی معاوضے کے لیے نظاروں پر مقررہ شرح سے بننے والی رقم اور حقیقت میں ملنے والی رقم کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ دونوں کو جمع نہیں کیا جاتا: جو رقم زیادہ ہو، وہ حساب میں آتی ہے۔ اسی لیے صرف بینک میں آنے والی ادائیگی دیکھنے سے مکمل تصویر نہیں ملتی۔
نظاروں والا حساب ویڈیوز کے کل نظاروں کو ہزار سے تقسیم کرکے مقررہ شرح سے ضرب دیتا ہے۔ اصل معاوضے میں پلیٹ فارم کی ادائیگی کے ساتھ مواد کے بدلے ملنے والا دوسرا نقد یا غیر نقد معاوضہ بھی متعلق ہوسکتا ہے۔ کسی برانڈ سے ملنے والی چیز کو محض اس لیے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ وہ بینک منتقلی کی صورت میں نہیں آئی؛ اس کی قدر بھی اصل معاوضے کا سوال پیدا کرتی ہے۔
حتمی طریقے میں کل نظارے استعمال ہوئے ہیں۔ FBR کے یکم اپریل 2026 کے ابتدائی مسودے میں اوسط نظاروں اور سال بھر کی پوسٹوں سے تخمینہ لگانے کی تجویز لکھی تھی۔ اس فرق کی وجہ سے پہلے شائع شدہ کسی حساب کو موجودہ قاعدے پر جوں کا توں لاگو کرنا نتیجہ بدل سکتا ہے۔
تین فرضی صورتوں میں ادائیگی، نظارے اور خرچ
پہلی فرضی صورت: ایک رہائشی تخلیق کار کی YouTube ویڈیوز کو ایک ٹیکس سال میں دس لاکھ نظارے ملتے ہیں اور اسے پلیٹ فارم سے ڈیڑھ لاکھ روپے ملتے ہیں۔ مقررہ حساب دس لاکھ کو 1000 سے تقسیم کرکے 195 سے ضرب دینے پر ایک لاکھ پچانوے ہزار روپے بنتا ہے۔ یہ اصل وصولی سے زیادہ ہے، اس لیے ثبوت کی بنیاد پر کم معاوضہ تسلیم ہونے سے پہلے یہی رقم مجموعی معاوضے کی بنیاد ہوگی۔ نظاروں سے نکلی رقم الگ سے واجب الادا ٹیکس نہیں ہے۔
اب فرض کریں کہ اسی مواد پر واقعی ستر ہزار روپے خرچ ہوئے۔ منتخب مجموعی رقم کا 30٪ اٹھاون ہزار پانچ سو روپے ہے، اس لیے پورے ستر ہزار روپے منہا نہیں ہوں گے۔ قابلِ قبول خرچ اٹھاون ہزار پانچ سو روپے رکھنے کے بعد اس فرضی صورت کی کم از کم حسابی آمدن ایک لاکھ چھتیس ہزار پانچ سو روپے بنتی ہے۔ خرچ کی حد آمدن کی بنیاد پر لگتی ہے، ٹیکس کی رقم پر نہیں۔
دوسری فرضی صورت: نظارے وہی دس لاکھ ہیں، مگر نقد اور غیر نقد معاوضے کی مجموعی قدر دو لاکھ چالیس ہزار روپے ہے۔ یہ مقررہ تخمینے سے زیادہ ہے، لہٰذا اصل معاوضہ بنیاد بنے گا۔ اگر ثابت شدہ خرچ ایک لاکھ روپے ہو تو زیادہ سے زیادہ بہتر ہزار روپے منہا ہوں گے اور کم از کم حسابی آمدن ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار روپے ہوگی۔ اگر واقعی خرچ صرف چالیس ہزار روپے ہوا ہو تو کٹوتی بھی چالیس ہزار ہی رہے گی؛ پوری حد خودکار رعایت نہیں بنتی۔
تیسری فرضی صورت: پہلی صورت کی ڈیڑھ لاکھ روپے وصولی کے بارے میں تخلیق کار کمشنر کو مطمئن کرنے والا ثبوت دے دیتا ہے اور کم معاوضہ تسلیم ہوجاتا ہے۔ تب اس رقم کا 30٪ پینتالیس ہزار روپے ہوگا۔ ستر ہزار روپے کے فرضی حقیقی خرچ کے باوجود قابلِ قبول کٹوتی پینتالیس ہزار اور کم از کم حسابی آمدن ایک لاکھ پانچ ہزار روپے بنے گی۔ یہ نتیجہ ثبوت کی قبولیت پر منحصر ہے؛ کم وصولی کا دعویٰ خودبخود نظاروں والا تخمینہ ختم نہیں کرتا۔
کم وصولی اور خرچ کے ثبوت میں کیا فرق ہے
کم معاوضے کا ثبوت اور خرچ کا ثبوت دو الگ سوالوں کا جواب دیتے ہیں۔ پہلے سے ظاہر ہونا چاہیے کہ متعلقہ مواد سے حقیقت میں کتنا معاوضہ ملا؛ دوسرے سے یہ کہ اس مواد کے لیے کتنا خرچ واقعی اٹھایا گیا۔ پلیٹ فارم کی ادائیگی کی تفصیل، ویڈیوز کے نظاروں کا ریکارڈ اور بینک میں موصولہ رقم آپس میں ملانے سے پہلے سوال کی وضاحت ہوسکتی ہے۔ برانڈ کے ساتھ معاہدہ اور غیر نقد معاوضے کی قدر کا ریکارڈ بھی اسی مجموعی تصویر کا حصہ ہیں۔
خرچ کے لیے رسید، سپلائر کو ادائیگی کا ثبوت اور متعلقہ مواد سے اس خرچ کا تعلق دکھانے والی تفصیل اہم ہوسکتی ہے۔ قاعدہ ان دستاویزات کی کوئی بند فہرست نہیں دیتا، اس لیے انہیں کمشنر کے لیے لازمی یا اپنے آپ میں کافی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ خرچ ہوا بھی ہو اور منتخب مجموعی رقم پر لگنے والی حد کے اندر بھی آئے۔ نظاروں کا تخمینہ زیادہ نکلنے کی صورت میں ادائیگی اور خرچ کے ریکارڈ الگ رکھنے سے دونوں دعووں کی بنیاد واضح رہتی ہے۔
گوشوارے اور بیرون ملک رہنے والوں پر اثر
رہائشی تخلیق کار کے لیے یہی طریقہ سہ ماہی پیشگی انکم ٹیکس کے حساب میں بھی استعمال ہونا ہے، جبکہ آمدن ہر ٹیکس سال کے گوشوارے کے مخصوص حصے میں ظاہر ہوگی۔ قاعدہ پیشگی ٹیکس کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 147 کا حوالہ دیتا ہے۔ اگر گوشوارے میں ظاہر کردہ آمدن مقررہ حساب سے کم ہو تو متعلقہ کمشنر اندراج کی غلطی درست کرکے واجب رقم کی وصولی کی کارروائی کرسکتا ہے۔ اس لیے سالانہ رقم اور سہ ماہی حساب کے پیچھے معاوضے، نظاروں اور اخراجات کا ریکارڈ ایک دوسرے سے ملنا چاہیے۔
بیرونِ پاکستان رہنے والے ہر تخلیق کار پر محض پاکستانی ناظرین ہونے کی وجہ سے یہ طریقہ لاگو نہیں ہوتا۔ ایس آر او 1642 کے متن کے مطابق غیر رہائشی شخص کی پاکستانی صارفین سے تعامل کے ذریعے حاصل ہونے والی پاکستانی ذریعہ آمدن اس دائرے میں آتی ہے جب ایک ٹیکس سال میں صارفین پچاس ہزار سے زیادہ ہوں یا ایک سہ ماہی میں بارہ ہزار دو سو پچاس سے زیادہ ہوں۔ یہ صارفین کی حد ہے؛ اسے ویڈیو نظاروں کی مقررہ شرح نہیں سمجھنا چاہیے۔ متعلقہ غیر رہائشی آمدن کے لیے بھی اصل معاوضے، نظاروں اور محدود خرچ کا تقابلی طریقہ درج ہے۔
گوشوارے میں درج کم از کم حسابی آمدن اور آخرکار واجب الادا ٹیکس ایک ہی رقم نہیں ہوتے۔ نئے قواعد آمدن نکالنے کا طریقہ دیتے ہیں؛ پیشگی ٹیکس اور حتمی ادائیگی کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس کی متعلقہ دفعات بھی لاگو رہتی ہیں۔ تخلیق کار کے لیے فوری نتیجہ یہ ہے کہ کم پلیٹ فارم ادائیگی کو نظاروں والے تخمینے کے مقابلے میں ثابت کرنا پڑسکتا ہے، جبکہ زیادہ حقیقی معاوضہ خود حساب کی بنیاد بن جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:
متعلقہ مضامین


پاکستان میں YouTube یا TikTok؟ ویوز سے براہِ راست کمائی صرف ایک پر کھلتی ہے

اسٹارٹ اپ رن وے نکالیں—منافع نہیں، خالص نقد خرچ دیکھیں

YouTube کا Ask Studio برانڈ پچ لکھے گا، مگر نرخ اب بھی تخلیق کار طے کرے

پاکستان میں SAFE یا convertible note؟ سادہ دستاویز قانونی خطرہ نہیں مٹاتی

TikTok One payment لگائیں، پہلے cross-border support کی جانچ کریں
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔