اے آئی اور خود کاری

AI نے contrails کی حدت 40٪ گھٹائی، اب ایشیائی پروازوں پر بڑی آزمائش ہے

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|5 منٹ مطالعہ| 2
AI نے contrails کی حدت 40٪ گھٹائی، اب ایشیائی پروازوں پر بڑی آزمائش ہے

Google اور Cathay Pacific نے 7–8 ستمبر 2026 کو AI کی مدد سے contrails سے بچنے کی آزمائش کا بڑا دوسرا مرحلہ پیش کیا۔ یہ مرحلہ Cathay Pacific کے ایشیائی اور بحرالکاہل پار نیٹ ورک، خصوصاً انتہائی طویل پروازوں، پر operational feasibility جانچنے کے لیے ہے؛ South China Morning Post کی رپورٹ کے مطابق اس میں Contrails.org کے ساتھ randomized controlled trial بھی شامل ہوگا۔

ابتدائی operational trial میں 80 سے زیادہ پروازوں نے contrail-avoidance routes اختیار کیے اور Google نے ان پروازوں کی contrails کے تخمینی warming impact میں تقریباً 40٪ کمی نکالی۔ یہ Google کے satellite analysis سے حاصل کردہ ابتدائی نتیجہ ہے، پوری Cathay Pacific fleet، عالمی ہوا بازی یا طیاروں کی CO₂ emissions میں 40٪ کمی کا ثبوت نہیں۔

40٪ کا عدد کن پروازوں سے نکلا

Hong Kong–Singapore راستے پر معمولی بلندی کی تبدیلی سے Cathay Pacific کی پرواز دیرپا contrail بننے سے بچتی ہوئی

آزمائش 2025 کے آخر میں شروع ہوئی اور Cathay Pacific کے نیٹ ورک میں 100 سے زیادہ پروازوں کو ہدف بنایا گیا۔ ان میں سے 80 سے زیادہ نے تجویز کردہ avoidance routes اپنائے؛ اس لیے ہدف بنائی گئی پروازوں اور راستہ بدلنے والی پروازوں کے اعداد ایک دوسرے کے برابر نہیں ہیں۔

Google کی آزمائشی تفصیل بتاتی ہے کہ 40٪ کمی کا تخمینہ satellite imagery کے تجزیے سے لگایا گیا، جبکہ Hong Kong–Singapore corridor پر کیے گئے اقدامات trial کے مجموعی تخمینی climate impact کا نصف سے زیادہ بنے۔ نتیجہ اس لیے تمام راستوں پر یکساں تاثیر نہیں دکھاتا: فائدے کا بڑا حصہ ایسے محدود راستوں اور اوقات سے آ سکتا ہے جہاں دیرپا contrails بننے کے حالات زیادہ سازگار ہوں۔

یہ 40٪ عالمی درجۂ حرارت میں ناپی گئی تبدیلی نہیں ہے۔ یہ ان آزمائشی پروازوں سے منسوب contrail warming کا تخمینی تقابل ہے جنہوں نے avoidance route اختیار کیا۔ چونکہ عدد Google کے اپنے تجزیے سے آیا ہے، اسے آزادانہ طور پر audited صنعت گیر benchmark سمجھنے کے بجائے دوسرے مرحلے میں مزید جانچ کا نقطۂ آغاز سمجھنا درست ہوگا۔

AI کی پیش گوئی کاک پٹ تک کیسے پہنچتی ہے

Cathay Pacific کے کاک پٹ میں پائلٹ Electronic Flight Folder پر contrail forecast اور عملی پروازی معلومات کا جائزہ لیتے ہوئے

Contrail اس وقت بن سکتی ہے جب طیارہ بلند فضا کی مخصوص سرد اور مرطوب تہہ سے گزرے اور انجن کے اخراج کے گرد برف کے ذرات بن جائیں۔ بہت سی سفید لکیریں جلد تحلیل ہو جاتی ہیں، مگر بعض برقرار رہ کر پھیلتی ہیں اور حرارت کو فضا میں روک سکتی ہیں۔ نظام کا مقصد ہر contrail ختم کرنا نہیں بلکہ ان محدود فضائی حصوں سے بچنا ہے جہاں warming contrails بننے کا امکان زیادہ ہو۔

Google کا نظام AI پر مبنی predictive models، موسم کی معلومات اور satellite detection کو ملا کر contrail-forming zones کی پیش گوئی کرتا ہے۔ یہ معلومات dispatchers اور pilots کو معمولی altitude adjustment پر غور کرنے دیتی ہیں۔ دوران پرواز متحرک forecast، in-flight Wi-Fi کے ذریعے Cathay Pacific کے اپنے Electronic Flight Folder میں پہنچتی ہے اور وہاں معمول کی operational معلومات کے ساتھ دکھائی جاتی ہے۔

AI خود طیارہ نہیں اڑاتا اور نہ کوئی altitude change خود نافذ کرتا ہے۔ وہ ممکنہ خطرے والی موسمی تہہ اور اس سے بچنے کا راستہ دکھاتا ہے؛ قابلِ عمل تبدیلی کا فیصلہ دستیاب cruising level، فضائی ٹریفک، clearance اور پرواز کی دوسری حدود کے اندر ہی کیا جاتا ہے۔ اسی فرق کی وجہ سے ایک درست forecast بھی لازماً route change میں تبدیل نہیں ہوتی۔

Contrail warming، CO₂ میں کمی نہیں

Contrail avoidance ہوا بازی کے ایک non-CO₂ موسمی اثر کو نشانہ دیتی ہے۔ طیارے کا انجن اس دوران ایندھن جلاتا اور CO₂ خارج کرتا رہتا ہے، اس لیے یہ طریقہ fleet modernisation، operational efficiency یا sustainable aviation fuel کا متبادل نہیں بنتا۔

دونوں اثرات کا زمانی پیمانہ بھی مختلف ہے۔ کسی دیرپا contrail کو بننے سے روکنے کا فائدہ نسبتاً فوری موسمی اثر سے متعلق ہے، جبکہ CO₂ فضا میں جمع ہو کر طویل مدت تک اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر متبادل بلندی یا راستہ اضافی ایندھن مانگے تو اس penalty کو avoided contrail warming کے مقابل رکھنا ہوگا؛ موجودہ 40٪ عدد اس پورے airline carbon footprint کو بیان نہیں کرتا۔

100 سے زیادہ ہدف، مگر 80 سے زیادہ تبدیلیاں کیوں

مصروف فضائی حدود میں operational پابندیوں کے باعث Cathay Pacific کی طویل پرواز contrail سے بچنے والی بلندی اختیار نہ کر سکنے کی حالت

ہر ہدف شدہ پرواز کا راستہ بدلنا operational طور پر ممکن نہیں تھا۔ Cathay Pacific کے 8 ستمبر کے اعلان میں airspace اور payload restrictions کو بعض پروازوں کے عدم شرکت کی وجوہ میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی اعلان میں Cathay Pacific کو Google کی ایشیا پیسیفک میں پہلی commercial airline partner اور انتہائی طویل پروازوں پر contrail avoidance آزمانے والی پہلی airline کہا گیا ہے۔

یہ حیثیت کسی عام commercial deployment یا لازمی طریقۂ کار کی نہیں۔ موجودہ trial کا مقصد یہ جاننا ہے کہ پیش گوئی کو live flight planning میں شامل کرنا کتنی بار قابلِ عمل ہے اور مختلف airspaces میں اس کی پابندیاں کیا ہیں۔ انتہائی طویل پروازوں میں بدلتا موسم، طیارے کا وزن، fuel planning اور دستیاب altitude پورے سفر کے دوران یکساں نہیں رہتے، اس لیے کامیاب مختصر corridor کا نتیجہ خود بخود ہر طویل route پر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

بڑے دوسرے مرحلے سے کیا معلوم ہونا باقی ہے

ابتدائی مرحلہ یہ دکھاتا ہے کہ AI forecast کی بنیاد پر منتخب پروازوں میں معمولی altitude changes عملی طور پر کیے جا سکتے ہیں اور Google کے اندازے میں ان سے contrail warming گھٹی۔ ابھی یہ ثابت ہونا باقی ہے کہ یہی فائدہ مختلف موسموں، ایشیائی فضائی حدود اور بحرالکاہل پار انتہائی طویل routes پر کس تسلسل سے حاصل ہوگا۔

دوسرے مرحلے کو route acceptance، forecast performance، operational constraints اور ممکنہ اضافی fuel burn کا زیادہ وسیع data set دینا ہے۔ انہی نتائج سے طے ہوگا کہ تقریباً 40٪ کی ابتدائی تخمینی کمی کتنی قابلِ تکرار ہے، کن راستوں پر فائدہ مرتکز رہتا ہے اور آیا contrail avoidance منتخب حالات سے آگے بڑھ کر مستقل airline practice بن سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0