
NASA نے SpaceX کو تین مزید crew flights دیں، قیمت 94.6 کروڑ ڈالر

NASA نے 18 ستمبر 2026 کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے SpaceX کو تین مزید عملہ بردار پروازیں دینے کا باضابطہ اعلان کیا۔ NASA کی معاہدہ جاتی تفصیلات کے مطابق 946 ملین ڈالر، یعنی 94.6 کروڑ ڈالر، کی یہ ترمیم Crew-15، Crew-16 اور Crew-17 اور ان سے وابستہ خدمات کا احاطہ کرتی ہے۔ اس اضافے سے SpaceX کی زیرِ معاہدہ crew missions کی تعداد 17 اور اس کے CCtCap معاہدے کی مجموعی قدر 5.92 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔
ان مشنوں کی readiness 2027 اور 2028 کے لیے مقرر ہے، جبکہ معاہدے کی performance period 2030 تک جاری رہے گی۔ یہ تینوں مشنوں کے 2030 میں اڑنے کا اعلان نہیں بلکہ وہ معاہدہ جاتی مدت ہے جس میں تیاری، پرواز اور متعلقہ خدمات انجام دی جا سکتی ہیں۔ ہر مشن کی حتمی launch date، عملے کے نام اور readiness year کی مشن وار تقسیم ابھی جاری نہیں کی گئی۔
94.6 کروڑ ڈالر صرف لانچ کی قیمت نہیں
مجموعی رقم کو تین پر تقسیم کرنے سے تقریباً 315.3 ملین ڈالر فی مشن کی سادہ اوسط نکلتی ہے، لیکن یہ کسی ایک راکٹ لانچ، capsule یا astronaut seat کی مقررہ قیمت نہیں۔ معاہدے میں زمین پر خلائی جہاز اور عملے کی تیاری، launch operations، مدار میں مشن کا انتظام، عملے کی واپسی اور capsule recovery شامل ہیں۔ یہ اوسط صرف headline رقم کا حساب ہے، معاہدے میں ہر خدمت کی الگ قیمت نہیں۔
ہر مشن کے ساتھ ضروری سامان کی ترسیل بھی اسی scope میں آتی ہے۔ ISS سے جڑا ہوا Dragon قیام کے دوران ہنگامی انخلا کے لیے lifeboat کا کام کرے گا، اس لیے ادائیگی astronauts کو مدار تک پہنچانے کے ایک لمحے تک محدود نہیں رہتی؛ یہ روانگی سے پہلے کی تیاری سے لے کر station پر موجودگی اور محفوظ واپسی تک پھیلی خدمت ہے۔ اسی وجہ سے کل رقم کو ممکنہ نشستوں پر تقسیم کرکے فی seat لاگت قرار دینا معاہدے کی مکمل معاشی تصویر نہیں دیتا۔
یہ firm fixed-price، indefinite-delivery/indefinite-quantity modification ہے اور SpaceX کے موجودہ Commercial Crew Transportation Capability معاہدے میں اضافہ کرتی ہے؛ یہ الگ نیا spacecraft development contract نہیں۔ NASA نے مئی 2026 میں اضافی مشن خریدنے کے ارادے کا نوٹس دیا تھا، جبکہ ستمبر کا فیصلہ باقاعدہ award ہے۔ موجودہ sole-source ترمیم مستقبل میں ضرورت کے مطابق دوسری transportation modifications کا راستہ بند نہیں کرتی۔
Crew-15 سے Crew-17 کی timeline کا مطلب
Crew-15، Crew-16 اور Crew-17 آزمائشی پروازوں کے بجائے مسلسل operational crew rotations کے نام ہیں۔ SpaceX اس خدمت کے لیے Crew Dragon spacecraft اور Falcon 9 rocket استعمال کرتا ہے؛ نظام ایک مشن میں زیادہ سے زیادہ چار astronauts اور ضروری سامان ISS تک لے جا سکتا ہے۔ NASA نے اسے نومبر 2020 میں عملہ بردار transportation کے لیے certify کیا تھا۔
Readiness year کو قطعی launch date نہیں سمجھنا چاہیے۔ 2027 یا 2028 کی readiness بتاتی ہے کہ مشن کو کب تک پرواز کے قابل تیار ہونا ہے، لیکن اصل روانگی ISS کی rotation planning، spacecraft کی دستیابی اور دوسرے operational عوامل سے طے ہوگی۔ اسی طرح 2030 تک performance period میں launch سے پہلے اور بعد کی ذمہ داریاں شامل ہو سکتی ہیں؛ یہ تینوں پروازوں کی مشترک تاریخ نہیں۔
دو امریکی providers کا ہدف، مگر بوجھ SpaceX پر
NASA نے 2014 میں SpaceX اور Boeing دونوں کو Commercial Crew Program کے تحت منتخب کیا تھا تاکہ امریکہ کے پاس ISS تک پہنچنے کے دو الگ تجارتی نظام ہوں۔ Reuters کی آزادانہ رپورٹ کے مطابق دو providers رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک کمپنی کے حادثے یا تکنیکی مسئلے سے امریکی astronauts کی station تک رسائی مکمل طور پر بند نہ ہو۔ رپورٹ نے نئے award، تین اضافی پروازوں اور SpaceX پر بڑھتے عملی انحصار کی بھی تصدیق کی۔
پالیسی کی سطح پر dual-provider حکمتِ عملی برقرار ہے، مگر دستیاب operational capacity برابر نہیں۔ SpaceX کا نظام 2020 سے NASA کی باقاعدہ crew rotations انجام دے رہا ہے، اس لیے مزید تین مشن خریدنا قریب المدت تسلسل کے لیے پہلے سے certified نظام کو محفوظ کرتا ہے۔ یہ فیصلہ Boeing کو پروگرام سے نکالنے کا اعلان نہیں، لیکن یہ ضرور دکھاتا ہے کہ redundancy کا ہدف ابھی دونوں کمپنیوں کے مساوی operational کردار میں تبدیل نہیں ہوا۔
Starliner کی تاخیر نے عدم توازن کیوں بڑھایا
Boeing بدستور NASA کا دوسرا Commercial Crew partner ہے، لیکن Starliner کو باقاعدہ operational astronaut missions کے لیے اب تک certification نہیں ملی۔ Space.com کی Starliner timeline کے مطابق جون 2024 کی پہلی crewed test flight میں thruster اور دوسرے تکنیکی مسائل سامنے آئے؛ capsule عملے کے بغیر واپس آیا، جبکہ Suni Williams اور Butch Wilmore مارچ 2025 میں Crew Dragon سے زمین پر لوٹے۔ اس رپورٹ کی اشاعت تک Starliner کی اگلی پرواز کی تاریخ واضح نہیں تھی۔
یہی فرق بظاہر متضاد صورت پیدا کرتا ہے: NASA دو امریکی crew options محفوظ رکھنا چاہتا ہے، لیکن فوری طور پر قابلِ استعمال capacity کے لیے مزید مشن SpaceX کو دے رہا ہے۔ Crew-17 تک خدمات حاصل کرنے سے ISS rotations میں خلا پڑنے کا خطرہ کم ہوتا ہے، مگر ساتھ ہی Dragon اور Falcon 9 پر عملی انحصار طویل ہو جاتا ہے۔ Boeing کی موجودگی معاہدہ جاتی متبادل ہے؛ جب تک Starliner operational certification حاصل کرکے باقاعدہ rotations شروع نہیں کرتا، وہ SpaceX کے برابر قابلِ استعمال متبادل نہیں۔
اب کون سی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں
فی الحال award، مجموعی قیمت، تین mission names، 2027–2028 کی readiness اور 2030 تک performance period طے ہیں۔ ہر مشن کی قطعی launch date، astronauts کی فہرست، متعلقہ readiness year اور تفصیلی operational schedule بعد میں سامنے آئیں گے۔
قریب المدت نتیجہ واضح ہے: NASA نے ISS تک امریکی crew access کو مزید تین rotations کے لیے SpaceX کے ذریعے محفوظ کیا ہے، اور headline رقم صرف پرواز کا ٹکٹ نہیں بلکہ مکمل mission service package کی قیمت ہے۔ طویل مدت کا توازن اس بات پر منحصر رہے گا کہ Starliner کب certification حاصل کرتا اور باقاعدہ operational مشن شروع کرتا ہے؛ تب تک دو providers کی پالیسی کے باوجود عملی crew transportation کا بڑا حصہ SpaceX کے نظام پر رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں:
متعلقہ مضامین


The Exploration Company کو $450 ملین، Nyx کو 2028 تک ISS پہنچنا ہے

مریخ کا اگلا data راستہ Blue Origin بنائے گا، حد 70 کروڑ ڈالر

Impulse Space کو $28 ملین، LEO سے GEO کی نگرانی 2029 سے پہلے نہیں

Roman telescope کا ایندھن 22 سال کے لیے کافی—عمر دوگنی ہوگئی

Stoke Space کو $1 ارب ملے، پہلی orbital پرواز اب بھی 2027 میں ہے
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔