پوری AI مارکیٹ bubble نہیں—نئی تحقیق نے چند کمپنیوں کو الگ کر دیا

Cornell کی 25 اگست 2026 کی رپورٹ کے مطابق Abir Sarkar اور Martin T. Wells کی نئی تحقیق نے پوری AI مارکیٹ کے بجائے بعض AI سے وابستہ عوامی کمپنیوں کے حصص میں bubble جیسی حرکات پائی ہیں۔ محققین نے روزانہ کی قیمتوں میں قیاسی تیزی کے ادوار کمپنی وار الگ کیے، اور ان کا استعمال کردہ ڈیٹا اپریل 2026 تک محدود تھا۔
سیدھا جواب یہ ہے کہ یہ تحقیق پوری AI صنعت کے لیے ایک مشترک مالی bubble ثابت نہیں کرتی۔ اس کی مخصوص شماریاتی تعریف میں تازہ ترین نمایاں حرکات Alphabet اور TSMC میں مرتکز تھیں، جبکہ Nvidia کا شناخت شدہ بڑا دور پہلے ختم ہو چکا تھا؛ نتیجہ نجی AI اسٹارٹ اپس، مصنوعات کی افادیت یا پوری عالمی صنعت کی بنیادی قدر پر فیصلہ نہیں ہے۔
تحقیق نے مارکیٹ کے بجائے کمپنی وار فرق ناپا

اس نتیجے کو سمجھنے کے لیے تجزیے کی اکائی اہم ہے۔ محققین نے “AI” کو ایک واحد قابلِ تجارت اثاثہ نہیں سمجھا بلکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، سیمی کنڈکٹر ساز اداروں اور AI انفراسٹرکچر سے متعلق درج شدہ حصص کی قیمتیں الگ الگ جانچیں۔ اس لیے “چند کمپنیوں کو الگ کر دیا” سے مراد کاروباری کامیابی یا ناکامی کی درجہ بندی نہیں بلکہ قیمت کے مخصوص زمانی رویے کی شناخت ہے۔
Frontiers of Mathematical Finance میں 11 جولائی کو آن لائن شائع اصل مقالے کے مطابق 2020 سے 2026 کے Nasdaq سلسلے میں متعلقہ exuberance نہیں ملی، جبکہ موجودہ cycle کی مضبوط bubble dynamics Alphabet اور TSMC میں مرتکز تھیں؛ Apple، Microsoft اور Amazon کے حالیہ نمونے flag نہیں ہوئے، اور Nvidia کا نمایاں interval جنوری سے اگست 2024 تک شناخت کیا گیا۔
اس فرق کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دوسری AI کمپنی کی قیمت مناسب ہے۔ اس کا محدود مفہوم یہ ہے کہ تمام منتخب حصص اور وسیع Nasdaq سلسلے میں ایک ساتھ وہ رویہ نہیں ملا جسے طریقہ مسلسل دھماکا خیز قیمت بڑھنے کے طور پر شناخت کرتا ہے۔ خطرہ غائب ہونے کے بجائے کمپنی اور وقت کے لحاظ سے غیر مساوی نکلا۔
SV-ADF عارضی اتار چڑھاؤ کو الگ کیوں کرتا ہے

نئے طریقے کا نام Stochastic Volatility-robust Augmented Dickey–Fuller، یا SV-ADF، ہے۔ یہ صرف یہ نہیں دیکھتا کہ قیمت تیزی سے بڑھی یا بہت ہلی؛ یہ جانچتا ہے کہ بدلتے ہوئے اتار چڑھاؤ کو حساب میں لینے کے بعد بھی قیمت کا راستہ شماریاتی طور پر دھماکا خیز ہے یا نہیں۔ recursive جانچ ایسے episode کے آغاز اور اختتام کی تاریخ بھی متعین کرتی ہے۔
یہ امتیاز ٹیکنالوجی حصص میں خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ان کی volatility مستقل نہیں رہتی۔ مالی نتائج، شرح سود اور نئی مصنوعات سے پرسکون اور ہنگامہ خیز ادوار بدل سکتے ہیں؛ مستقل variance فرض کرنے والا test کسی مختصر spike کو بھی bubble سمجھ سکتا ہے۔ SV-ADF اسی بدلتی variance کے لیے calibration کرکے عارضی شور سے نسبتاً مسلسل exuberance الگ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
Nvidia اس فرق کی واضح مثال ہے۔ مجموعی 2022–2026 نمونے میں اس کے حصص نے bubble episode دکھایا، مگر date-stamping نے نمایاں دور کو جنوری تا اگست 2024 تک محدود کیا۔ یوں کسی کمپنی کا پورے sample میں flag ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ episode آخری دستیاب تاریخ پر بھی جاری تھا۔
Alphabet اور TSMC کا نتیجہ بھی cutoff سے بندھا ہے

مقالے میں “current” یا موجودہ dynamics سے مراد اشاعت یا خبر کی تاریخ نہیں بلکہ اپریل 2026 کے آخری دستیاب مشاہدے کی حالت ہے۔ Alphabet اور TSMC کے episodes اس cutoff پر بند نہیں ہوئے تھے، مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ اگست تک جاری رہے، مستقل رہیں گے یا لازماً قیمت کے شدید زوال پر ختم ہوں گے۔
26 اگست کی آزاد تشریح نے بھی یہی حد نمایاں کی کہ اپریل 2026 پر کھلا episode بعد کے مہینوں تک جاری رہنے کا ثبوت نہیں، جبکہ طریقہ فی share ایک episode کی ساخت رکھتا ہے۔ اس لیے نتیجے کو حقیقی وقت کا trading signal یا کئی مرتبہ بننے اور ختم ہونے والے bubbles کی مکمل تاریخ سمجھنا درست نہیں۔
اسی طرح statistical explosiveness بنیادی قدر کا مکمل حساب نہیں۔ یہ خود ثابت نہیں کرتی کہ متعلقہ کمپنی کا کاروبار کمزور ہے، AI کی حقیقی مانگ ختم ہو رہی ہے یا قیمت لازماً گرے گی۔ مضبوط آمدنی والا کاروبار بھی تیز repricing دکھا سکتا ہے، اور شناخت شدہ episode کسی ڈرامائی crash کے بغیر ختم ہو سکتا ہے۔
نجی AI اسٹارٹ اپس اس فیصلے میں شامل نہیں
تجرباتی تجزیہ عوامی طور پر درج کمپنیوں کی روزانہ adjusted closing prices پر قائم تھا۔ نجی AI اسٹارٹ اپس کے لیے ایسی مسلسل عوامی قیمت دستیاب نہیں ہوتی، اس لیے ان کی funding rounds، نجی valuations، revenue multiples یا سرمایہ کاروں کی شرائط اس test میں براہ راست شامل نہیں تھیں۔ عوامی حصص کا نتیجہ پورے startup ecosystem پر منتقل کرنا تحقیق کے دائرے سے باہر ہوگا۔
مطالعے نے language models کی تکنیکی کارکردگی، صارف adoption، data-centre سرمایہ کاری کی منافع بخشی یا AI مصنوعات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بھی bubble معیار پر نہیں جانچا۔ چنانچہ یہ قیمتوں کی تحقیق ہے، AI ٹیکنالوجی کی افادیت یا کاروباری مستقبل کا جامع فیصلہ نہیں۔
اب تک قابلِ دفاع نتیجہ یہی ہے کہ زیرِ مطالعہ وسیع market proxy نے sector-wide exuberance نہیں دکھائی، مگر کمپنی وار قیمتوں میں نمایاں فرق موجود تھا۔ اگلی واضح جانچ کے لیے اپریل 2026 کے بعد کا ڈیٹا درکار ہوگا، جبکہ نجی AI کمپنیوں کے خطرے کا اندازہ لگانے کے لیے valuations، funding اور کاروباری fundamentals پر الگ تحقیق چاہیے۔
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔