
TAM، SAM اور SOM نکالیں—’صرف 1٪‘ بازار کا ثبوت نہیں

پاکستانی اسٹارٹ اپ کے لیے TAM، SAM اور SOM نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ممکنہ خریدار کھاتے گن کر انہیں سالانہ معاہدہ قدر سے ضرب دیں، پھر موجودہ مصنوع اور جغرافیے کے مطابق قابلِ خدمت کھاتے الگ کریں، اور مقررہ مدت میں حاصل ہو سکنے والے معاہدوں کی سالانہ قدر نکالیں۔ GTM Institute کی رہنمائی کے مطابق بازار کا من مانا 1٪ لے لینا فروخت کا منصوبہ ثابت نہیں کرتا؛ قابلِ حصول حصہ فروختی گنجائش اور کامیاب سودوں کی شرح سے جوڑنا چاہیے۔
TAM مجموعی ممکنہ کھاتوں کی سالانہ قدر، SAM ان میں سے موجودہ انتظام کے ساتھ قابلِ خدمت کھاتوں کی قدر، اور SOM ایک متعین مدت میں حاصل ہو سکنے والے معاہدوں کی قدر ہے۔ یونیورسٹی آف ریجائنا کی حسابی رہنمائی TAM کے لیے کھاتوں کی تعداد کو سالانہ معاہدہ قدر سے ضرب دیتی ہے اور SAM کو اس حصے تک محدود کرتی ہے جسے کاروبار خدمت دے سکتا ہے۔
خریدار کی اکائی طے کریں، پھر سرکاری گنتی لیں
اسکول کے لیے حاضری اور انتظامی سافٹ ویئر بیچنے والی ایک فرضی پاکستانی کمپنی کو پہلے طے کرنا ہوگا کہ اس کا خریدار ایک اسکول ہے، کئی شاخوں والا نیٹ ورک ہے یا ان شاخوں کی جانب سے ایک معاہدہ کرنے والا مرکزی دفتر۔ اگر ہر شاخ الگ ادائیگی کرتی ہے تو اسکول کی گنتی مفید ہوگی؛ اگر پورے نیٹ ورک کے لیے ایک معاہدہ ہوتا ہے تو شاخوں کو الگ کھاتے گننا منڈی کو بڑھا دے گا۔ فروخت کی یہی اکائی تینوں حساب میں یکساں رکھیں۔
پاکستان کے ادارۂ شماریات کی اقتصادی مردم شماری ۲۰۲۳ ملک بھر میں اسکول کی قسم کے ۲۴۲٬۶۱۶ ادارے درج کرتی ہے۔ یہ ایک قابلِ حوالہ ابتدائی گنتی ہے، الگ خریداری کرنے والے کھاتوں یا سافٹ ویئر کی طلب کا تیار عدد نہیں۔ بانی کو ایک ہی خریدار کے زیرِ انتظام شاخوں کو شناخت کرنے اور اپنی مصنوع کے لیے موزوں ادارے الگ کرنے ہوں گے؛ صرف نجی اسکولوں کے لیے بنی مصنوع کی منڈی، مثال کے طور پر، تمام اسکولوں کے برابر نہیں ہوگی۔
TAM: کھاتوں کو سالانہ قیمت سے ضرب دیں
فرض کریں اس مثال کی مصنوع ہر قسم کے اسکول کو فروخت ہو سکتی ہے، ہر اسکول الگ معاہدہ کرتا ہے اور سالانہ قیمت ۲۴٬۰۰۰ روپے ہے۔ تب قومی سطح کا مشروط TAM برابر ہوگا: ۲۴۲٬۶۱۶ × ۲۴٬۰۰۰ = ۵٬۸۲۲٬۷۸۴٬۰۰۰ روپے سالانہ۔ یہ ایک نظری بالائی حد ہے؛ سرکاری گنتی حقیقی خریداروں کی تصدیق نہیں کرتی اور ۲۴٬۰۰۰ روپے صرف مثال کی فرضی قیمت ہے۔
اصل پچ ڈیک میں قیمت اپنی پیش کش، ابتدائی معاہدوں یا خریداروں سے قیمت پر ملنے والے واضح ردِعمل سے اخذ کریں۔ ماہانہ فیس کو سالانہ قدر میں بدلیں اور ایک بار وصول ہونے والی تنصیب کی رقم الگ دکھائیں تاکہ بار بار آنے والی آمدنی کی تعریف نہ بدلے۔ اگر چھوٹے اور بڑے اسکول مختلف قیمت ادا کریں تو ہر گروہ کے کھاتے اس کی اپنی سالانہ قیمت سے ضرب دے کر نتائج جمع کریں۔
SAM: موجودہ خدمت کی حد تک گنتی گھٹائیں

اب جغرافیے اور مصنوع کی موزونیت کی حد لگائیں۔ فرض کریں کمپنی ابتدا میں لاہور اور کراچی کے اسکولوں کو خدمت دے سکتی ہے، اور اس کی مقامی فہرست میں ۱۲٬۰۰۰ الگ اسکول درج ہیں۔ یہ شہر وار عدد سرکاری مردم شماری سے اخذ نہیں کیا گیا، بلکہ مثال کا مفروضہ ہے؛ حقیقی حساب میں متعلقہ ضلع وار ریکارڈ، فہرست بنانے کی تاریخ اور دہرے اندراج ہٹانے کا اصول ساتھ دیں۔
مزید فرض کریں کہ ان میں سے ۴۰٪ اسکول موجودہ زبان، خریداری کے اختیار اور معاونت کی شرائط پر پورے اترتے ہیں۔ یوں قابلِ خدمت کھاتے ۴٬۸۰۰ اور SAM برابر ۴٬۸۰۰ × ۲۴٬۰۰۰ = ۱۱۵٬۲۰۰٬۰۰۰ روپے سالانہ ہوگا۔ ۴۰٪ مشاہدہ شدہ پاکستانی شرح نہیں؛ اسکولوں سے رابطے اور یکساں اہلیت کے سوالات کے بعد اسے بدلنا ہوگا۔ شہر کے اندر ہر اسکول لازماً موزوں نہیں، جبکہ باہر کا موزوں اسکول موجودہ خدمت کے دائرے میں شامل نہیں ہوتا۔
اگر کمپنی مزید شہروں میں فروخت یا دور سے معاونت شروع کرے تو نئی قابلِ خدمت فہرست بنا کر SAM دوبارہ نکالیں۔ اس مرحلے پر فروختی رابطوں کی کمی شامل نہ کریں؛ وہ SOM کے حساب میں آئے گی۔
SOM: معاہدے فروختی گنجائش سے نکالیں

فرضی کمپنی کے دو فروختی نمائندے ہوں اور ہر نمائندہ ماہانہ ۲۰ مختلف، اہل اسکولوں کے ساتھ سنجیدہ گفتگو کر سکے۔ بارہ ماہ میں گفتگو کی گنجائش ۲ × ۲۰ × ۱۲ = ۴۸۰ اسکول ہوگی۔ اگر ان میں سے ۱۰٪ سالانہ ادائیگی والے معاہدے کریں تو ۴۸ نئے گاہک ملیں گے؛ نمائندوں کی تعداد، رابطوں کی رفتار اور کامیابی کی شرح تینوں مثال کے مفروضے ہیں، کمپنی کا ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔
اس بنیاد پر SOM کی سالانہ معاہدہ قدر ۴۸ × ۲۴٬۰۰۰ = ۱٬۱۵۲٬۰۰۰ روپے بنتی ہے۔ یہ ۴۸ گاہک، ۴٬۸۰۰ قابلِ خدمت کھاتوں کا اتفاقاً 1٪ ہیں، مگر فیصد حساب کے آخر میں نکلا ہے؛ اسے شروع میں چننے سے گفتگو کی گنجائش یا معاہدہ ہونے کی شرح ثابت نہیں ہوتی۔ ایک اسکول سے متعدد گفتگوؤں کو نئے الگ گاہکوں میں شمار کرنا بھی نتیجہ بڑھا دے گا۔
یہ SOM حاصل کیے گئے معاہدوں کی سالانہ قدر ہے، پہلے سال میں وصول ہونے والی نقد رقم نہیں۔ سال کے آخری مہینے میں شروع ہونے والے معاہدے سے اسی سال پوری سالانہ فیس وصول ہونے کا مفروضہ الگ ثابت کرنا ہوگا۔ اگر سودے بند ہونے میں کئی ماہ لگتے ہیں تو اس تاخیر کو فروختی اندازے میں شامل کریں۔
حوالہ رجسٹر مفروضوں کو الگ رکھتا ہے
پچ ڈیک میں نتائج کے ساتھ ایک مختصر رجسٹر دیں تاکہ سرکاری گنتی، کمپنی کے اپنے شواہد اور فرضی اقدار خلط ملط نہ ہوں۔ اس مثال کے لیے رجسٹر کی شکل یوں ہو سکتی ہے:
- قومی اسکول: ۲۴۲٬۶۱۶؛ سرکاری ادارہ جاتی گنتی، جسے معاہدہ کرنے والے الگ کھاتوں سے ملانا ہے۔
- سالانہ معاہدہ قدر: ۲۴٬۰۰۰ روپے؛ فرضی قیمت، جس کی بنیاد حقیقی پیش کش یا معاہدے بنیں گے۔
- لاہور اور کراچی کی فہرست: ۱۲٬۰۰۰؛ فرضی مقامی گنتی، جس کے لیے ضلع وار تعداد اور اندراجات کی صفائی درکار ہے۔
- مصنوع کے موزوں اسکول: ۴۰٪؛ فرضی چھانٹی، جس کے لیے کھاتہ وار یکساں معیار چاہیے۔
- فروختی گنجائش: دو نمائندے، ہر ایک کی ماہانہ ۲۰ اہل گفتگوئیں اور ۱۰٪ معاہدے؛ اپنی فروخت کے ریکارڈ سے جانچے جانے والے مفروضے۔
ابتدائی حصول کی حساسیت دکھانے کے لیے باقی مفروضے برقرار رکھ کر صرف معاہدہ ہونے کی شرح بدلیں۔ ۴۸۰ الگ گفتگوؤں میں سے ۵٪ کامیاب ہوں تو ۲۴ گاہک اور ۵۷۶٬۰۰۰ روپے کی سالانہ معاہدہ قدر بنتی ہے؛ ۱۵٪ پر ۷۲ گاہک اور ۱٬۷۲۸٬۰۰۰ روپے۔ اس فرق سے واضح ہوتا ہے کہ قابلِ حصول منڈی کا عدد کس مفروضے پر منحصر ہے اور فروخت کے کس پیمانے کے بدلنے سے اسے دوبارہ نکالنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں:
متعلقہ مضامین


NRR یا GRR؟ اپ سیل کمزور برقرار رکھنے کو چھپا سکتی ہے

Hootsuite یا Sprout Social؟ دوسری نشست سالانہ خرچ تیزی سے بڑھاتی ہے

GitHub Actions یا GitLab CI؟ مفت منٹ پوری ٹیم کی قیمت چھپا سکتے ہیں

Pipedrive یا Zoho CRM؟ 14 ڈالر کی برابر نشست جلد الگ ہو جاتی ہے

Payoneer یا Wise؟ پاکستان میں سستی شرح ہمیشہ قابلِ استعمال نہیں
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔