
AI وقت بچا رہا ہے، کام نہیں بدل رہا—SAP نے پیداواری جال دکھا دیا

SAP SuccessFactors کی فیوچر آف ورک ریسرچ لیب نے ۷ اکتوبر ۲۰۲۶ کی تحقیقی تشریح میں پیداواری جال کی نشان دہی کی: مصنوعی ذہانت سے وقت کی بچت اور زیادہ پیداوار کے شواہد نمایاں ہیں، جبکہ کام اور کرداروں کی منظم تشکیل نو کے اشارے کم مضبوط ہیں۔ عالمی تحقیق میں ۲٬۷۱۸ ملازمین، ۵۰۰ اعلیٰ انتظامی رہنما، ۶۰ ایچ آر عہدیدار اور ایسی کمپنیوں کے بانی شامل تھے جن کے کاروبار کی بنیاد مصنوعی ذہانت پر ہے۔
وقت بچنے سے کردار خودبخود اس لیے نہیں بدلتے کہ تیز ہونے والا کام پرانے عہدوں، منظوریوں اور کارکردگی کے پیمانوں میں واپس سما جاتا ہے۔ ملازم زیادہ کام نمٹا سکتا ہے، مگر نئے فیصلے کا اختیار یا پورے نتیجے کی ذمہ داری اسے لازماً نہیں ملتی۔ تحقیق میں انفرادی ملازمتوں کے بدلنے اور اداروں کی طرف سے اس تبدیلی کو واضح سمت دینے کے درمیان یہی فاصلہ سامنے آتا ہے؛ اس کے نتائج کو پاکستان کے اداروں کا الگ سروے نہیں سمجھنا چاہیے۔
وقت کی بچت کا اشارہ کردار کی تبدیلی سے مضبوط ہے
SAP کے ۵ اکتوبر ۲۰۲۶ کے تحقیقی صفحے پر نئی ۲۰۲۷ رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ کام، افرادی قوت اور ایچ آر کے طریقوں سے متعلق پہلے بیان کردہ ممکنہ راستوں کا جائزہ لیتی ہے۔ اسے ہر ملک میں آنے والی تبدیلیوں کی قطعی پیش گوئی سمجھنے کے بجائے موجودہ شواہد اور اداروں کے سامنے موجود انتخاب کے طور پر پڑھنا زیادہ درست ہے۔
تحقیقی تشریح کے مطابق اس وقت سب سے مضبوط اشارے ایسے استعمال کے ہیں جن میں مصنوعی ذہانت کی قدر بچنے والے وقت، کم لاگت اور زیادہ پیداوار سے ناپی جاتی ہے۔ کردار، ٹیمیں اور کام کا بہاؤ نئے سرے سے ترتیب دینے کے اشارے بھی ملتے ہیں، مگر وہ اتنے پختہ نہیں۔ اس فرق سے واضح ہوتا ہے کہ ایک کام جلد مکمل کرنا اور اس کام کی جگہ، مقصد یا ذمہ دار شخص بدل دینا الگ فیصلے ہیں۔
مثلاً زیادہ مسودے تیار ہونے سے پیداوار کا شمار بڑھ سکتا ہے، لیکن درخواست وصول کرنے، اس کی جانچ کرنے اور آخری منظوری دینے کی ترتیب وہی رہ سکتی ہے۔ تشکیل نو تب ہوگی جب ادارہ یہ بھی طے کرے کہ بچا ہوا وقت کس نئے کام کو ملے گا، کس مرحلے پر انسانی فیصلہ ضروری ہے اور مکمل نتیجے کا جواب دہ کون ہوگا۔ یہ مثال پیمائش کا فرق سمجھاتی ہے، کسی سروے شدہ ادارے کی رپورٹ کردہ کارکردگی نہیں۔
ملازمین کی تبدیلی کو ادارے کی سمت کیوں نہیں مل رہی؟
اسی تحقیقی تشریح میں متعلقہ کام کی تشکیل نو کے پروگرام کا نتیجہ دیا گیا ہے: ۸۸ فیصد ملازمین نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ان کی ملازمت بدلی، مگر ان تبدیلیوں میں سے تقریباً نصف کو منتظم یا ادارے کی بامعنی رہنمائی حاصل نہیں تھی۔ مختلف متوقع تبدیلیوں پر ۵۵ سے ۷۰ فیصد ملازمین نے واضح تنظیمی سمت نہ ملنے کی اطلاع دی۔ دوسری طرف ۷۲ فیصد اعلیٰ انتظامی رہنماؤں کی رائے تھی کہ کام بدلنے کا دعویٰ کرنے والے زیادہ تر ادارے موجودہ ملازمتوں کو محض تیزی سے خودکار بنا رہے ہیں۔
یہ اعداد ایک اہم امتیاز پیدا کرتے ہیں: ملازم اپنے روزمرہ کام میں مصنوعی ذہانت کے لیے جگہ بنا سکتا ہے، جبکہ ادارہ ابھی اس کام کے مشترک اصول مقرر نہ کر پایا ہو۔ ایک ہی ٹیم میں لوگ مختلف کام مشین کے سپرد کریں تو معیار، جانچ اور جواب دہی بھی مختلف ہو سکتی ہے۔ ایسے میں بچائے گئے گھنٹے آسانی سے گنے جا سکتے ہیں، لیکن یہ معلوم کرنا مشکل رہتا ہے کہ انہوں نے بہتر خدمت یا بہتر فیصلے کو کتنا سہارا دیا۔
رپورٹ کی اشاعت سے پہلے، ۸ ستمبر ۲۰۲۶ کو نیوزی لینڈ ٹیک پوڈکاسٹ کے انٹرویو میں ریسرچ لیب کی چیف سائنس دان آٹم کراس نے بھی موجودہ توجہ کو کارکردگی اور پیداوار پر مرکوز بتایا تھا۔ انہوں نے پورے کام کے نتیجے سے آغاز کرنے اور پھر کرداروں اور ذمہ داریوں کو ترتیب دینے کی بات کی۔ یہ انٹرویو نئی رپورٹ کے اعداد کی آزاد جانچ نہیں، البتہ اس کی اشاعت سے پہلے تحقیق کی مرکزی سمت کا براہ راست بیان ہے۔
کام کی نئی ساخت میں اختیار اور جواب دہی شامل ہیں
تحقیق میں بیان کردہ تبدیلیاں صرف کام کو تیز کرنے تک محدود نہیں: وسیع مہارت کے استعمال، جامد عہدوں کی جگہ بدلتی ذمہ داریوں، کم انتظامی تہوں، پیداوار کے بجائے اثر کی پیمائش اور فیصلوں کو متعلقہ کام کے قریب لانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ ان تجاویز کا مشترک سوال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بعد انسان کون سا فیصلہ کرے گا اور انجام کی ذمہ داری کیسے متعین ہوگی۔ یہ مجوزہ سمتیں ہیں، دنیا بھر کے اداروں میں نافذ ہو چکی تبدیلیوں کی فہرست نہیں۔
تحقیق کے تجرباتی حصے میں شرکا نے فیصلے کا اختیار کام کے قریب ہونے پر خودمختاری ۷۷ فیصد زیادہ محسوس کی۔ بدلتی ذمہ داریوں والے کردار انہیں جامد ملازمتوں کے مقابلے میں ۴۹ فیصد زیادہ چیلنجنگ لگے۔ یہ محسوس کی گئی خصوصیات کے نتائج ہیں؛ انہیں حقیقی اداروں میں حاصل شدہ منافع یا پیداوار کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
اختیار کا سوال خاص طور پر اس مقام پر اہم ہوتا ہے جہاں مشین کام کا ابتدائی حصہ مکمل کرتی ہے اور انسان اس کے معیار یا اثر کا ذمہ دار رہتا ہے۔ اگر ملازم سے صرف پہلے سے زیادہ کام نمٹانے کو کہا جائے، مگر اسے غلطی درست کرنے، ترجیح بدلنے یا نتیجے پر فیصلہ کرنے کی گنجائش نہ ملے، تو کردار کی بنیادی ساخت کم بدلتی ہے۔ اس کے برعکس پوری ذمہ داری واضح ہونے سے بچا ہوا وقت کسی زیادہ اہم مسئلے پر لگانے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔
ایچ آر کس فائدے کو ناپے؟
ایچ آر کے لیے تحقیق میں تین باہم جڑے شعبے سامنے آتے ہیں: انتظامی کام کی خودکاری سے صلاحیت آزاد کرنا، ادارے بھر میں کام اور کرداروں کی تشکیل نو، اور بھرتی، ترقی، تبادلوں، کارکردگی اور انعام کے نظام بدلنا۔ صرف خودکاری پر پیش رفت ہو تو خالی ہونے والا وقت پرانے کام کی زیادہ مقدار میں بھی صرف ہو سکتا ہے۔ باقی فیصلے یہ طے کرتے ہیں کہ نئی ذمہ داری کے لیے کون سی مہارت درکار ہے اور اسے کس بنیاد پر تسلیم کیا جائے گا۔
پاکستانی ادارے کے لیے اس سے نکلنے والا تجزیاتی فریم الگ الگ پیمانوں پر مشتمل ہے: کتنے گھنٹے بچے، وہ وقت کس کام کو منتقل ہوا، فیصلے کا اختیار کہاں بدلا اور کام کے معیار یا مکمل نتیجے میں کیا فرق آیا۔ پہلے دو پیمانے سرگرمی دکھاتے ہیں؛ باقی یہ بتا سکتے ہیں کہ کام کی ترتیب واقعی بدلی یا نہیں۔ یہ مقامی انتظام کے لیے تجویز کردہ فریم ہے، تحقیق سے ثابت شدہ پاکستانی کاروباری نتیجہ نہیں۔
نمونے میں ملازمین، اعلیٰ انتظامی رہنما، ایچ آر عہدیدار اور کمپنیوں کے بانی شامل ہیں، مگر عام دستیاب خلاصے میں پاکستان کے لیے الگ نتیجہ نہیں دیا گیا۔ تحقیق ایک سافٹ ویئر فراہم کنندہ نے شائع کی ہے، اس لیے اس کے عالمی رجحانات، شرکا کی رائے اور تجرباتی تاثرات کو کسی مقامی ادارے کی حاصل شدہ کارکردگی سے الگ رکھنا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت سے آزاد ہونے والی صلاحیت کی اصل قدر اسی ادارے میں واضح ہوگی جہاں اس کے لیے نیا کام، فیصلہ کرنے کا اختیار اور قابلِ پیمائش نتیجہ متعین کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:
متعلقہ مضامین


تعمیرات میں AI صرف 28٪ نے چلایا—مہارت پھیلاؤ کی اصل رکاوٹ

Amazon نے 30 ہزار نوکریاں کاٹیں، اب سابق AI ماہرین واپس چاہییں

AI نے نئے گریجویٹس کی بے روزگاری نہیں بڑھائی—ابھی ثبوت یہی ہے

HR کی دفتری نوکریاں سکڑیں، change specialists کی طلب 65.4٪ بڑھی

Microsoft کا Maia 300 اگلے سال آئے گا—آج کے Azure بل پر اثر نہیں
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔