Google یا Microsoft Authenticator؟ فون بدلتے وقت اصل فرق کھلتا ہے

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|7 منٹ مطالعہ| 2
Google یا Microsoft Authenticator؟ فون بدلتے وقت اصل فرق کھلتا ہے

اگر آپ کی پہلی ترجیح فون بدلنے یا گم ہونے پر تصدیقی کوڈ واپس پانا ہے تو Google Authenticator عموماً آسان انتخاب ہے۔ Google کی منتقلی کی ہدایت کے مطابق Google اکاؤنٹ سے ہم آہنگ کوڈ نئے فون پر اسی اکاؤنٹ میں سائن اِن کرنے سے دستیاب ہو جاتے ہیں؛ اکاؤنٹ کے بغیر رکھے گئے کوڈ منتقل کرنے کے لیے پرانا فون درکار ہے۔

Microsoft Authenticator ان لوگوں کے لیے زیادہ موزوں ہو سکتا ہے جو Microsoft اکاؤنٹس پر فون سے سائن اِن کی منظوری استعمال کرتے ہیں۔ تاہم Microsoft کی بیک اپ ہدایت کے مطابق محفوظ شدہ کاپی صرف اسی قسم کے آلے پر بحال ہوتی ہے، جبکہ بعض اکاؤنٹس کا صرف نام واپس آتا ہے اور دوبارہ سائن اِن کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے دونوں ایپس کا اصل عملی فرق کوڈ بنانے سے زیادہ نئے فون پر ان کی واپسی میں ہے۔

روزمرہ استعمال میں فرق کہاں ہے؟

تصدیقی ایپس کا تقابلی جائزہ دونوں کو مفت ایپس قرار دیتا ہے جو انٹرنیٹ کے بغیر وقت کے ساتھ بدلنے والے چھ ہندسوں کے کوڈ بناتی ہیں۔ کسی ویب سائٹ میں تصدیقی ایپ شامل کرتے وقت عموماً اس کا دیا ہوا کیو آر کوڈ اسکین کیا جاتا ہے۔ بعد میں سائن اِن کے وقت فون پر موجود کوڈ درج کرنا ہوتا ہے۔

آف لائن کوڈ اس وقت بھی کام آتے ہیں جب فون پر موبائل ڈیٹا یا سگنل دستیاب نہ ہو۔ البتہ نئے فون پر کوڈ واپس لانے کے لیے پہلے سے فعال ہم آہنگی، قابل رسائی بیک اپ یا پرانا فون چاہیے۔ یہ انتظام سائن اِن کے وقت کوڈ بنانے سے الگ ہے؛ ایپ میں اکاؤنٹس نظر آنا بھی ہمیشہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ ہر قسم کی منظوری نئے آلے پر فوراً کام کرے گی۔

بیک اپ سے کوڈ واپس آتا ہے یا صرف نام؟

Microsoft Authenticator میں بحالی کا نتیجہ اکاؤنٹ کی قسم سے بدلتا ہے۔ Microsoft کی بحالی کی ہدایت کے مطابق غیر Microsoft خدمات کے وقتی کوڈ بحالی کے بعد دوبارہ دستیاب ہوتے ہیں۔ ذاتی Microsoft اکاؤنٹ اگر صرف وقتی کوڈ استعمال کرتا ہو تو اس کے کوڈ بھی واپس آتے ہیں۔

ذاتی Microsoft اکاؤنٹ میں پاس ورڈ کے بغیر سائن اِن بھی فعال ہو تو بیک اپ سے صرف اکاؤنٹ کا نام بحال ہوتا ہے؛ نئے فون پر دوبارہ سائن اِن ضروری ہے۔ دفتری اور تعلیمی Microsoft اکاؤنٹس میں بھی صرف نام واپس آتا ہے۔ وہاں دوبارہ تصدیق یا فون کی رجسٹریشن ادارے کی ترتیب کے مطابق کرنا پڑ سکتی ہے، اس لیے بحال شدہ فہرست کو مکمل منتقلی کا ثبوت نہ سمجھیں۔

Google Authenticator میں فیصلہ یہ ہے کہ مطلوبہ کوڈ Google اکاؤنٹ سے ہم آہنگ تھے یا صرف پرانے فون پر محفوظ تھے۔ ہم آہنگ کوڈ اسی اکاؤنٹ کے ذریعے نئے آلے تک پہنچتے ہیں۔ مقامی کوڈ کے لیے پرانے فون میں منتقلی کا کیو آر کوڈ بنا کر نئے فون سے اسکین کرنا ہوتا ہے؛ فون پہلے ہی گم ہو چکا ہو تو یہ راستہ بند ہے۔

فون بدلنے کے تین راستے

پرانا Android فون پاس رکھتے ہوئے نئے Android فون کی منتقلی، تاکہ تصدیقی کوڈ بحال ہونے کی پڑتال ہو سکے

منتقلی سے پہلے پرانے فون کی دستیابی، نئے فون کا آپریٹنگ نظام اور بیک اپ سے جڑا اکاؤنٹ دیکھیں۔ انہی باتوں سے طے ہوگا کہ ایپ دوبارہ نصب کرنا کافی ہے یا ہر خدمت میں تصدیق کا طریقہ پھر سے جوڑنا پڑے گا۔

  • Android سے Android: Google Authenticator کے ہم آہنگ کوڈ کے لیے نئے فون پر متعلقہ Google اکاؤنٹ میں سائن اِن کریں۔ کوڈ صرف پرانے فون میں ہوں تو اس سے منتقلی کا کیو آر کوڈ بنا کر نئے فون میں درآمد کریں۔ Microsoft Authenticator میں پرانے Android پر کلاؤڈ بیک اپ اور اس کے لیے منتخب ذاتی Microsoft اکاؤنٹ کی پڑتال کریں؛ نئے Android پر بحالی اسی اکاؤنٹ سے شروع کریں۔ جن اندراجات میں صرف نام واپس آئے، ان میں الگ سے سائن اِن کریں۔
  • iPhone سے iPhone: Google کے ہم آہنگ کوڈ متعلقہ اکاؤنٹ سے واپس مل سکتے ہیں؛ مقامی کوڈ کے لیے دونوں فون ساتھ رکھیں۔ Microsoft Authenticator کے بیک اپ کے لیے پرانے iPhone میں iCloud Drive، iCloud Keychain، iCloud Backup اور Authenticator کے لیے iCloud کی اجازت فعال ہونی چاہیے۔ نئے iPhone میں بحالی کے بعد دفتری، تعلیمی اور پاس ورڈ کے بغیر سائن اِن والے اندراجات کی دوبارہ تصدیق دیکھیں۔
  • Android اور iPhone کے درمیان: Google Authenticator میں اکاؤنٹ سے ہم آہنگ کوڈ نئے نظام میں سائن اِن کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں؛ پرانا فون موجود ہو تو دستی منتقلی کا راستہ بھی ہے۔ Microsoft Authenticator کی Android بیک اپ کاپی iPhone پر، یا iPhone کی کاپی Android پر، براہ راست بحال نہیں ہوتی۔ ایسی تبدیلی سے پہلے متعلقہ خدمات میں متبادل سائن اِن کا طریقہ رکھیں، پھر نئے فون پر تصدیقی ایپ دوبارہ جوڑیں۔

نئے فون پر کوڈ دکھائی دینے کے بعد اہم اکاؤنٹس میں سائن اِن آزمانا منتقلی کا ضروری حصہ ہے۔ Microsoft کی منظوری والی اطلاع اب بھی پرانے فون کو جا سکتی ہے، اس لیے نئے آلے کی رجسٹریشن مکمل کر کے اکاؤنٹ کی حفاظتی ترتیبات سے پرانا آلہ ہٹائیں۔ پرانے فون کی ایپ اس وقت تک نہ مٹائیں جب تک نئے فون پر مطلوبہ کوڈ اور منظوری دونوں کام نہ کر لیں۔

رازداری کا پردہ اور فون سے منظوری

Google Authenticator کا رازداری پردہ ایپ استعمال کرنے سے پہلے فون کا پن، پیٹرن یا بایومیٹرک تصدیق مانگ سکتا ہے۔ Microsoft Authenticator کا ایپ لاک بھی کوڈ اور ایپ کی معلومات تک رسائی محدود کرتا ہے۔ Microsoft کے سوال و جواب کے مطابق ایپ لاک سائن اِن کی اطلاع منظور کرتے وقت بھی پن یا بایومیٹرک تصدیق مانگتا ہے۔

Microsoft Authenticator میں ذاتی Microsoft اکاؤنٹ، یا ادارے کی اجازت سے دفتری اور تعلیمی اکاؤنٹ، فون پر آنے والی اطلاع کے ذریعے سائن اِن کی منظوری دے سکتا ہے۔ اطلاع وصول کرنے اور جواب بھیجنے کے لیے انٹرنیٹ چاہیے، جبکہ وقتی کوڈ آف لائن بنتے ہیں۔ غیر Microsoft اکاؤنٹس کے لیے اس ایپ کی منظوری والی اطلاع دستیاب نہیں؛ ان میں عام طور پر کوڈ درج کیا جاتا ہے۔ یوں پاس ورڈ کے بغیر سائن اِن کی سہولت کو ہر محفوظ کردہ ویب سائٹ کی خصوصیت سمجھنا درست نہیں۔

بیک اپ پر بھروسا کرنے سے پہلے کیا محفوظ کریں؟

تصدیقی ایپ سے الگ محفوظ وصولی کوڈ اور نئے فون کے درمیان عملی فاصلہ

پہلے ان اکاؤنٹس کی فہرست بنائیں جن تک فون کے بغیر پہنچنا مشکل ہوگا، خصوصاً وہ Google یا Microsoft اکاؤنٹ جس کے ذریعے کوڈ بحال ہونے ہیں۔ ہر متعلقہ خدمت کی حفاظتی ترتیبات میں دیکھیں کہ متبادل تصدیق یا وصولی کوڈ دستیاب ہیں یا نہیں۔ اگر وصولی کوڈ ملتے ہیں تو انہیں فون اور تصدیقی ایپ سے الگ ایسی محفوظ جگہ رکھیں جہاں فون گم ہونے پر بھی آپ کی رسائی ہو۔

  • تصدیق کریں کہ Google Authenticator کے مطلوبہ کوڈ درست Google اکاؤنٹ سے ہم آہنگ ہیں۔ اگر ایک سے زیادہ Google اکاؤنٹ استعمال کرتے ہیں تو صرف ایپ میں سائن اِن ہونا کافی نہیں؛ متعلقہ کوڈ کس اکاؤنٹ میں محفوظ ہے، یہ بھی دیکھیں۔
  • Microsoft Authenticator میں بیک اپ فعال ہونے کی پڑتال کریں۔ Android پر بحالی کے لیے منتخب ذاتی Microsoft اکاؤنٹ اور iPhone پر iCloud کی ترتیب یاد رکھیں؛ ساتھ یہ نشان زد کریں کہ کون سے اندراجات صرف وقتی کوڈ ہیں اور کن میں دوبارہ سائن اِن درکار ہوگا۔
  • نئے فون پر اہم خدمات میں کوڈ درج کر کے یا سائن اِن کی منظوری دے کر رسائی آزمائیں۔ اگر ادارہ جاتی اکاؤنٹ دوبارہ رجسٹریشن مانگے تو پرانا فون ہٹانے سے پہلے اپنے ادارے کا مقررہ طریقہ مکمل کریں۔

اگر مستقبل میں Android اور iPhone کے درمیان تبدیلی کا امکان زیادہ ہے اور بنیادی ضرورت مختلف خدمات کے وقتی کوڈ ہیں، تو Google Authenticator کی اکاؤنٹ ہم آہنگی زیادہ سیدھا راستہ دیتی ہے۔ Microsoft اکاؤنٹس پر فون سے منظوری آپ کے روزمرہ استعمال کا اہم حصہ ہو تو Microsoft Authenticator کا فائدہ واضح ہے، مگر اس کا بیک اپ اسی موبائل نظام میں اور اکاؤنٹ کی قسم کے مطابق بحال ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0