Buffer یا Metricool: تین چینل سستے، کئی برانڈ ہوں تو حساب الٹ جاتا ہے

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|8 منٹ مطالعہ
Buffer یا Metricool: تین چینل سستے، کئی برانڈ ہوں تو حساب الٹ جاتا ہے

تین سوشل اکاؤنٹس سنبھالنے والے پاکستانی تخلیق کار کے لیے Buffer کا بامعاوضہ منصوبہ عموماً سستا ہے۔ Buffer کی قیمتوں کی تفصیل کے مطابق مفت منصوبے میں تین چینل ہیں؛ ماہانہ ادائیگی پر Essentials کے پہلے دس چینلوں کا نرخ فی چینل ۶ ڈالر اور اگلے چینلوں کا ۴ ڈالر ہے۔ اس بنیاد پر تین بامعاوضہ اکاؤنٹس کا خرچ ۱۸ ڈالر ماہانہ بنتا ہے۔

اکاؤنٹس کئی کلائنٹ برانڈز میں تقسیم ہوں تو Metricool کا حساب بہتر ہو سکتا ہے۔ اس کی ماہانہ قیمتوں کی فہرست میں Starter کے پانچ برانڈز ۲۵ ڈالر، دس برانڈز ۴۵ ڈالر اور منظوری کی سہولت والے Advanced کے پندرہ برانڈز ۶۷ ڈالر ماہانہ ہیں۔ مثلاً بارہ اکاؤنٹس چار برانڈز میں ہوں تو اشاعت کے بنیادی منصوبوں کا تقابل Buffer کے ۶۸ ڈالر اور Metricool کے ۲۵ ڈالر سے ہوگا۔ یہ سب ڈالر میں ماہانہ ادائیگی کے حساب ہیں؛ پاکستانی روپے میں کارڈ سے وصول ہونے والی رقم شرحِ مبادلہ اور قابلِ اطلاق ٹیکس سے بدل سکتی ہے۔

چینل اور برانڈ الگ اکائیاں ہیں

Buffer میں ہر منسلک سوشل اکاؤنٹ ایک چینل ہے۔ ایک تخلیق کار کے Instagram، TikTok اور LinkedIn اکاؤنٹس تین چینل بنیں گے؛ دوسرے کلائنٹ کا Instagram شامل کرنے سے تعداد چار ہو جائے گی۔ بامعاوضہ منصوبے میں منتقل ہونے پر پہلے سے منسلک مفت چینل بھی بل میں شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے مفت منصوبے کے تین چینل، بامعاوضہ منصوبے کے ساتھ ملنے والی اضافی گنجائش نہیں ہیں۔

Metricool کی برانڈ کی تعریف کے تحت ایک برانڈ میں ہر سوشل پلیٹ فارم کا صرف ایک پروفائل منسلک ہوتا ہے۔ ایک کلائنٹ کا Instagram، TikTok اور LinkedIn ایک برانڈ میں آ سکتے ہیں، لیکن اسی کلائنٹ کے دو Instagram اکاؤنٹس دو برانڈز کی جگہ لیں گے۔ LinkedIn پر ذاتی پروفائل اور کمپنی پیج دونوں سنبھالنے ہوں تو انہیں بھی ایک ہی برانڈ کے واحد LinkedIn خانے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ یوں اکاؤنٹس کی مجموعی تعداد کے ساتھ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کسی کلائنٹ کے پاس ایک ہی پلیٹ فارم کے کتنے پروفائل ہیں۔

قیمت کے ایک نمایاں فرق کی وجہ ادائیگی کی مدت بھی ہو سکتی ہے۔ Metricool کے تقابلی جدول میں پانچ برانڈز کے لیے ۲۰ ڈالر درج ہیں، مگر وہاں اس رقم کی بلنگ مدت واضح نہیں۔ ماہانہ ادائیگی کا صریح نرخ ۲۵ ڈالر ہے، اس لیے اسی کو یہاں ماہانہ حساب کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ سالانہ ادائیگی سے دکھایا گیا کم ماہانہ اوسط اور ہر مہینے ادا کی جانے والی قیمت ایک جیسی رقم نہیں ہوتے۔

تین اکاؤنٹس: انفرادی تخلیق کار

اگر تین اکاؤنٹس ایک ہی تخلیق کار کے ہیں اور Buffer کی مفت حد کام پوری کرتی ہے تو سبسکرپشن کا خرچ صفر ہے۔ مفت منصوبے میں ہر چینل پر ایک وقت میں دس پوسٹس شیڈول رہ سکتی ہیں؛ پوسٹ شائع ہونے کے بعد اس کی جگہ دوبارہ دستیاب ہوتی ہے۔ زیادہ بڑی قطار یا بامعاوضہ سہولتوں کی ضرورت ہو تو تین Essentials چینل ۱۸ ڈالر ماہانہ بنتے ہیں۔ یہاں تینوں اکاؤنٹس کا بل بنتا ہے، صرف اس اکاؤنٹ کا نہیں جس کی مفت حد پہلے پوری ہوئی ہو۔

Metricool کا مفت منصوبہ ایک برانڈ اور ماہانہ بیس شیڈول شدہ پوسٹس دیتا ہے، لیکن اس میں LinkedIn اور X منسلک نہیں ہوتے۔ اگر ایک تخلیق کار کے تین اکاؤنٹس مختلف مجاز پلیٹ فارمز پر ہیں اور اشاعت اس حد کے اندر ہے تو وہاں بھی خرچ صفر ہو سکتا ہے۔ LinkedIn لازمی ہو یا اشاعت کی حد کم پڑے تو Starter کا کم از کم ماہانہ بل ۲۵ ڈالر ہوگا، چاہے اس کی پانچ برانڈز والی گنجائش میں سے صرف ایک استعمال ہو۔ اس صورت میں بامعاوضہ شیڈولنگ پر Buffer کا ۱۸ ڈالر والا حساب کم رہتا ہے۔

چھ اکاؤنٹس: فری لانسر کے دو کلائنٹس

فرض کریں ایک فری لانسر دو کلائنٹس کے تین تین اکاؤنٹس سنبھالتا ہے اور ہر کلائنٹ کے اکاؤنٹس مختلف پلیٹ فارمز پر ہیں۔ Buffer Essentials میں چھ چینل ۳۶ ڈالر ماہانہ بنتے ہیں۔ Metricool Starter میں دونوں کلائنٹس دو برانڈز لیں گے، جو پانچ برانڈز والے ۲۵ ڈالر کے منصوبے میں آ جاتے ہیں؛ فرق ۱۱ ڈالر ماہانہ ہے۔ یہ بچت اسی مفروضے سے نکلتی ہے کہ ہر کلائنٹ کے پروفائل واقعی ایک برانڈ میں سما جائیں۔

کلائنٹس کے بجائے ایک ہی کاروبار کے چھ اکاؤنٹس ہوں تو بھی تعداد دیکھ کر خودکار طور پر چھ برانڈ نہیں گننے چاہییں۔ اگر ہر اکاؤنٹ الگ پلیٹ فارم پر ہے تو وہ ایک برانڈ میں آ سکتا ہے۔ اس کے برعکس، ایک کلائنٹ کے کئی Instagram صفحات یا مختلف علاقوں کے متعدد Facebook صفحات الگ برانڈ خانے استعمال کریں گے۔ پانچ برانڈز کی حد تک بنیادی Starter بل یکساں رہتا ہے، مگر چھٹے برانڈ پر اگلے درجے کا ۴۵ ڈالر ماہانہ منصوبہ درکار ہوگا۔ اس لیے فری لانسر کے لیے اکاؤنٹس کی تقسیم، صرف کل تعداد سے زیادہ فیصلہ کن ہے۔

بارہ اکاؤنٹس: چھوٹی ایجنسی

چار کلائنٹس کے تین تین الگ پلیٹ فارم اکاؤنٹس ہوں تو بارہ اکاؤنٹس چار Metricool برانڈز بناتے ہیں۔ Buffer Essentials میں پہلے دس چینل ۶۰ ڈالر اور اگلے دو رعایتی چینل ۸ ڈالر ہیں، یعنی ۶۸ ڈالر ماہانہ۔ Metricool Starter کا پانچ برانڈز والا ۲۵ ڈالر منصوبہ اس فرضی ترتیب کے لیے کافی ہے؛ فرق ۴۳ ڈالر ہے۔ بارہ کو سیدھا ۶ ڈالر سے ضرب دینا Buffer کی دسویں چینل کے بعد ملنے والی رعایت کو نظر انداز کرے گا۔

انہی بارہ اکاؤنٹس کے پیچھے چھ الگ کلائنٹس ہوں تو Metricool کا پانچ برانڈز والا درجہ ناکافی ہوگا۔ دس برانڈز کے ۴۵ ڈالر ماہانہ درجے پر جانا پڑے گا؛ Buffer کے ۶۸ ڈالر کے مقابلے میں فرق پھر ۲۳ ڈالر رہ جائے گا۔ اگر کسی کلائنٹ کے ایک ہی پلیٹ فارم پر کئی اکاؤنٹس ہیں تو درکار برانڈز چھ سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ایجنسی کے لیے اس حساب کا فائدہ یہ ہے کہ نئے اکاؤنٹ کی قیمت دونوں خدمات میں مختلف طرح بڑھتی ہے: Buffer میں ہر اضافی چینل بل پر اثر ڈالتا ہے، جبکہ Metricool میں خرچ منصوبے کی برانڈ حد پار کرنے پر اگلے درجے تک پہنچتا ہے۔

X اور LinkedIn سے بنیادی حساب کیسے بدلتا ہے؟

LinkedIn کی ضرورت مفت منصوبوں کا تقابل بدل دیتی ہے: Metricool میں یہ رابطہ بامعاوضہ درجے سے شروع ہوتا ہے، جبکہ Buffer کی مفت تین چینلوں کی گنجائش میں LinkedIn اکاؤنٹ رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم Buffer کی مفت پوسٹ قطار کی حد برقرار رہتی ہے۔ بامعاوضہ مثالوں میں LinkedIn کے لیے Metricool Starter کے بنیادی نرخ پر الگ فی اکاؤنٹ اضافہ شامل نہیں کیا گیا۔

X کا خرچ مختلف ہے۔ Metricool کی X کی شرائط کے مطابق اسے منسلک کرنے کے لیے بامعاوضہ منصوبہ اور ہر X اکاؤنٹ پر مزید ۱۰ ڈالر ماہانہ درکار ہیں؛ پہلے سے فعال بعض اضافی منصوبوں کے پرانے نرخ مختلف ہو سکتے ہیں۔ تین بامعاوضہ اکاؤنٹس میں ایک X ہو تو Metricool Starter کا بل ۳۵ ڈالر، جبکہ Buffer Essentials کا ۱۸ ڈالر بنتا ہے۔ دو کلائنٹ برانڈز میں ایک ایک X اکاؤنٹ ہو تو Metricool کا ۲۵ ڈالر بنیادی بل بڑھ کر ۴۵ ڈالر ہوگا؛ چھ چینلوں کے Buffer Essentials کا حساب ۳۶ ڈالر ہے۔ اس طرح برانڈز کی گنجائش سے ملنے والی بچت X کے اضافے سے ختم بھی ہو سکتی ہے۔

اشتہاری رپورٹنگ اور منظوری

اگر کلائنٹ کو سوشل پوسٹس کے ساتھ Meta، Google یا TikTok اشتہارات کی کارکردگی بھی دیکھنی ہے تو Metricool کے برانڈ میں ان اشتہاری اکاؤنٹس کو منسلک کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس کے منصوبوں میں رپورٹ سازی بھی شامل ہے، جبکہ زیادہ وسیع تجزیاتی سہولتیں الگ اضافی خرچ رکھ سکتی ہیں۔ محض پوسٹس شیڈول کرنے والے کلائنٹ اور اشتہاری نتائج مانگنے والے کلائنٹ کے لیے ایک ہی بنیادی سبسکرپشن رقم کو یکساں قدر سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہاں اہم سوال یہ ہے کہ مطلوبہ رپورٹ اسی منصوبے کی شامل سہولتوں سے بنے گی یا اضافی تجزیاتی درجے کی ضرورت پڑے گی۔

اشاعت سے پہلے باقاعدہ منظوری چاہیے تو دونوں خدمات میں ابتدائی بامعاوضہ منصوبے کافی نہیں ہیں۔ Buffer Team پہلے دس چینلوں کے لیے فی چینل ۱۲ ڈالر اور اس کے بعد فی چینل ۴ ڈالر ماہانہ لیتا ہے؛ اس میں متعدد ارکان، رسائی کی سطحیں اور منظوری کا نظام شامل ہیں۔ Metricool میں منظوری اور ٹیم و کلائنٹ کے انتظام کی سہولت Advanced سے شروع ہوتی ہے، جس کا پندرہ برانڈز والا ماہانہ نرخ ۶۷ ڈالر ہے۔ فرضی تین، چھ اور بارہ چینلوں کے لیے Buffer Team بالترتیب ۳۶، ۷۲ اور ۱۲۸ ڈالر بنتا ہے۔ لہٰذا تین چینلوں کی منظوری پر Buffer کم خرچ رہتا ہے، جبکہ چھ چینلوں یا چار کلائنٹ برانڈز میں بٹے بارہ اکاؤنٹس پر Metricool Advanced کا بنیادی بل کم ہے۔ X اکاؤنٹس ہوں تو ان کا اضافی خرچ اس تقابل میں الگ شامل کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0