
اسٹارٹ اپ میں بینک کی حد 50 کروڑ—5٪ سرمایہ اسے مزید گھٹا سکتا ہے

اسٹیٹ بینک کے ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۶ کے سرکلر نے پاکستان میں ضابطہ R-6 کی متعلقہ شقوں میں ترمیم کی؛ اس کے تحت کوئی بینک یا ترقیاتی مالیاتی ادارہ ایک اسٹارٹ اپ، بشمول فن ٹیک، میں مجموعی طور پر 50 کروڑ روپے یا اپنے ٹیر ون سرمائے کے 5٪ میں سے جو رقم کم ہو، اسی حد تک سرمایہ لگا سکتا ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ حد ہے، ہر اسٹارٹ اپ کو ملنے والی رقم نہیں۔ ادارے کا ٹیر ون سرمایہ کم ہو تو قابل اطلاق حد 50 کروڑ روپے سے بھی نیچے آ جاتی ہے۔
پروپاکستانی کی رپورٹ بھی ۲۳ اکتوبر کی ترمیم کا اطلاق بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں پر اور ایک اسٹارٹ اپ کے لیے یہی دوہری حد بیان کرتی ہے۔ بانی یا سرمایہ کار کے لیے فیصلہ کن عدد پیش کش میں لکھی مطلوبہ رقم نہیں، سرمایہ لگانے والے ادارے کے ٹیر ون سرمائے کا ۵٪ ہے۔ پھر بھی ضابطے کے اندر آنے والا سودا متعلقہ ادارے کی داخلی منظوری سے مشروط رہے گا۔
ٹیر ون سرمائے سے حد کیسے نکلتی ہے؟

حساب کا طریقہ یہ ہے کہ سرمایہ لگانے والے ادارے کے ٹیر ون سرمائے کا ۵٪ نکالا جائے اور اسے ۵۰ کروڑ روپے سے ملایا جائے۔ ان دونوں میں چھوٹی رقم ایک اسٹارٹ اپ میں اس ادارے کی مجموعی سرمایہ کاری کی حد ہوگی۔ دونوں رقمیں اس وقت برابر ہوتی ہیں جب ٹیر ون سرمایہ ۱۰ ارب روپے ہو: اس کا ۵٪ ٹھیک ۵۰ کروڑ روپے بنتا ہے۔
تین فرضی بینک اس فرق کو واضح کرتے ہیں۔ پہلے بینک کا ٹیر ون سرمایہ ۴ ارب روپے فرض کریں؛ اس کا ۵٪، ۲۰ کروڑ روپے ہے، اس لیے ایک اسٹارٹ اپ میں اس کی حد ۲۰ کروڑ روپے ہوگی۔ دوسرے بینک کے فرضی ۱۰ ارب روپے پر فیصد والی رقم اور مقررہ حد دونوں ۵۰ کروڑ روپے بنتی ہیں۔ تیسرے کے فرضی ۲۰ ارب روپے کا ۵٪ ایک ارب روپے ہوگا، لیکن اس کی قابل اطلاق حد پھر بھی ۵۰ کروڑ روپے رہے گی۔
یہ مثالیں کسی حقیقی بینک کے سرمائے یا منظور شدہ سرمایہ کاری کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ یہ صرف دکھاتی ہیں کہ چھوٹے ٹیر ون سرمائے والے ادارے کے لیے فیصد کی شرط کب فیصلہ کن بنتی ہے اور بڑے ادارے کے لیے مقررہ روپیہ حد کب نافذ ہوتی ہے۔ کسی اسٹارٹ اپ کی بلند قیمت یا بڑے فنڈنگ راؤنڈ سے بینک کے اپنے سرمائے پر مبنی یہ حساب نہیں بدلتا۔
ضابطے میں ایک اسٹارٹ اپ کے لیے لفظ «مجموعی» اہم ہے۔ اگر بینک یا ترقیاتی مالیاتی ادارہ پہلے ہی اس اسٹارٹ اپ میں سرمایہ لگا چکا ہو تو مزید مجوزہ رقم کو موجودہ حصے کے ساتھ ملا کر حد کے اندر رکھنا ہوگا۔ مثال کے طور پر، پہلے فرضی بینک کی ۲۰ کروڑ روپے کی حد میں اس کا پہلے سے لگایا گیا سرمایہ بھی شمار ہوگا؛ ۲۰ کروڑ روپے ہر نئے مرحلے کے لیے الگ گنجائش نہیں ہیں۔
کن اداروں اور کس مالی رقم پر ضابطہ لاگو ہے؟
اس حد کا مخاطب سرمایہ لگانے والا بینک یا ترقیاتی مالیاتی ادارہ ہے، اور فن ٹیک اسٹارٹ اپ بھی اسی زمرے میں شامل ہے۔ ٹیر ون سرمایہ اسٹارٹ اپ کا سرمایہ، اس کی مالیت یا پورے راؤنڈ کا حجم نہیں؛ یہ متعلقہ مالیاتی ادارے کے اپنے سرمائے کی پیمائش ہے۔ اسی لیے ایک ہی اسٹارٹ اپ میں دلچسپی رکھنے والے دو اداروں کی زیادہ سے زیادہ قابل اجازت رقم مختلف نکل سکتی ہے۔
حساب میں ادارے کے پچھلے ششماہی نظرثانی شدہ یا سالانہ آڈٹ شدہ مالی گوشواروں میں درج ٹیر ون سرمایہ لیا جاتا ہے۔ چنانچہ کسی سرمایہ کاری کی گفتگو میں محض بینک کے نام یا عمومی جسامت سے حد معلوم نہیں ہو سکتی؛ متعلقہ گوشواروں کی رقم اور اسی اسٹارٹ اپ میں اس کی موجودہ سرمایہ کاری بھی اہم ہیں۔ تازہ سرمایہ لگنے کے بعد مجموعی رقم ہی ضابطے کی چھت سے موازنہ کی جائے گی۔
نظرثانی شدہ ضابطہ دوسری قسم کی سرمایہ کاری کے لیے الگ تقابل بھی رکھتا ہے۔ کسی ایک عام کمپنی کے حصص میں سرمایہ کاری کی حد ادارے کے ٹیر ون سرمائے کے ۵٪ اور سرمایہ حاصل کرنے والی کمپنی کے ادا شدہ حصص کے ۱۰٪ میں سے کم مقدار سے طے ہوتی ہے۔ میوچل فنڈ، ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ اور پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ کے یونٹس کے لیے بھی الگ حد درج ہے۔ اسٹارٹ اپ کے لیے مقررہ ۵۰ کروڑ روپے کی چھت کو ان تمام زمروں کی مشترک حد سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
اکتوبر کی ترمیم میں اسٹارٹ اپ کے لیے کیا بدلا؟
اسٹارٹ اپ کی دوہری حد اکتوبر ۲۰۲۶ میں پہلی بار مقرر نہیں ہوئی۔ اسٹیٹ بینک کے ۸ مارچ ۲۰۲۲ کے سرکلر میں بھی ایک اسٹارٹ اپ، بشمول فن ٹیک، کے لیے ٹیر ون سرمائے کے ۵٪ یا ۵۰ کروڑ روپے میں سے کم رقم لکھی تھی۔ اس تاریخی فرق کی وجہ سے موجودہ ترمیم کو اسٹارٹ اپ کے لیے حد میں اضافے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں؛ تازہ سرکلر نے متعلقہ سرمایہ کاری شقوں کو نئے متن میں مرتب کیا ہے۔
اکتوبر کے متن میں عام کمپنی کے حصص، اسٹارٹ اپ اور فنڈ یونٹس کی شرائط الگ بیان کی گئی ہیں، جبکہ سرمایہ کاری کے فیصلوں سے متعلق داخلی جانچ کی شرط بھی موجود ہے۔ اسٹارٹ اپ کے بانی کے لیے فوری مالی نتیجہ وہی دوہرا حساب ہے، مگر ترمیم کا دائرہ صرف اسٹارٹ اپ تک محدود نہیں۔ سرکلر میں موضوع سے متعلق باقی ہدایات برقرار رہنے کی بات بھی درج ہے۔
حد کے اندر سودا بھی منظوری مانگتا ہے

قابل اطلاق حد معلوم ہونے کے بعد بھی سرمایہ کاری خودبخود منظور نہیں ہوتی۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کو حصص میں سرمایہ کاری کے فیصلوں کے معروضی جائزے کے لیے منظور شدہ داخلی پالیسی رکھنی ہوگی۔ اس جائزے میں ادارے کی مالی حالت، مجموعی سرمایہ کاری، خطرہ برداشت کرنے کی صلاحیت، متوقع منافع، متعلقہ مہارت اور سرمایہ کاری سے نکلنے سمیت کاروباری حکمت عملی شامل ہیں۔
اس لیے ضابطے کی چھت اور ادارے کی ممکنہ پیش کش دو الگ رقمیں ہو سکتی ہیں۔ فرضی ۴ ارب روپے ٹیر ون سرمائے والے بینک کے لیے ۲۰ کروڑ روپے قانونی حد نکلتی ہے، مگر داخلی جائزے کے بعد وہ کم رقم پیش کر سکتا ہے یا سرمایہ کاری سے انکار کر سکتا ہے۔ اسی طرح ۵۰ کروڑ روپے کی پوری گنجائش رکھنے والا ادارہ بھی اسے استعمال کرنے کا پابند نہیں۔
ٹرم شیٹ سے پہلے بانی کے لیے متعلقہ سوال یہ ہے کہ ممکنہ سرمایہ کار کے تازہ قابل اطلاق مالی گوشواروں کے مطابق ۵٪ کتنے روپے بنتے ہیں، اور اسی اسٹارٹ اپ میں پہلے سے لگے سرمائے کے بعد کتنی گنجائش بچتی ہے۔ اگر راؤنڈ میں کئی بینک یا ترقیاتی مالیاتی ادارے ہوں تو ہر ادارے کی حد اس کے اپنے ٹیر ون سرمائے اور اپنے مجموعی حصے سے نکلے گی۔ مجوزہ راؤنڈ کی قابل عمل رقم انہی الگ الگ حدود اور اداروں کی منظوریوں سے طے ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:
متعلقہ مضامین


پاکستان میں SAFE یا convertible note؟ سادہ دستاویز قانونی خطرہ نہیں مٹاتی

LLP یا پرائیویٹ لمیٹڈ؟ کم فیس کے بدلے حصص کا راستہ بند

پاکستانی اسٹارٹ اپ فنڈنگ بڑھی، مگر 91٪ رقم ایک ہی سودے سے آئی

Capitolis نے 22 کروڑ ڈالر لیے، ایکویٹی صرف 12 کروڑ ہے

IonQ کا Elisity سودا 1.3 ارب ڈالر تک—15 کروڑ کارکردگی سے مشروط
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔