72٪ اداروں کے پاس AI پالیسی، مگر جواب جانچنے کی تربیت صرف 46٪ کو

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|6 منٹ مطالعہ| 2
72٪ اداروں کے پاس AI پالیسی، مگر جواب جانچنے کی تربیت صرف 46٪ کو

Riskonnect کے اعلان کے مطابق کمپنی نے ۷ اکتوبر ۲۰۲۶ کو اٹلانٹا سے اپنی نئی عالمی رپورٹ جاری کی: 72٪ جواب دہ اداروں کے پاس ملازمین کے AI استعمال کی پالیسی تھی، مگر صرف 46٪ نے ملازمین کو AI کے نتائج پرکھنے کی تربیت دی تھی۔ تحقیق دنیا بھر کے خطرات، ضابطوں کی پابندی اور کاروباری تسلسل سے وابستہ ۲۵۰ سے زیادہ پیشہ ور افراد کے سروے پر مبنی ہے۔

پالیسی کی موجودگی اور جواب جانچنے کی تربیت کے درمیان ۲۶ فیصدی نکات کا فرق ہے۔ diginomica کی کوریج میں اسی سروے کے مطابق صرف 35٪ اداروں نے ملازمین کو AI سے حاصل شدہ بصیرت سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی تربیت دی، 18٪ نے پوری افرادی قوت کو خودکار AI ایجنٹوں کے خطرات سے باضابطہ آگاہ کیا، اور صرف 17٪ خطرات کے ذمہ دار افراد نے خود کو AI کے خطرات سنبھالنے کے لیے بہت تیار سمجھا۔ اس فرق کا روزمرہ مطلب یہ ہے کہ استعمال کی اجازت کے بعد بھی ملازم کو طے کرنا پڑتا ہے کہ AI کے جواب میں کس بات پر بھروسا کیا جا سکتا ہے اور کس کی تصدیق ضروری ہے۔

پالیسی سے جواب کی تصدیق تک خلا کہاں ہے؟

استعمال کی پالیسی کام کی حد مقرر کرتی ہے، لیکن ہر جواب کی درستی خود نہیں جانچتی۔ AI کسی طویل ریکارڈ کا خلاصہ بناتے ہوئے ایک شرط چھوڑ سکتا ہے، کسی سفارش کے ساتھ غلط عدد دے سکتا ہے یا ایسا حوالہ پیش کر سکتا ہے جو اصل ماخذ سے میل نہ کھاتا ہو۔ ملازم کو یہ فرق پہچاننے، اصل ریکارڈ تک واپس جانے اور غلط نتیجے کو آگے بڑھنے سے روکنے کی مشق چاہیے۔ تحریری قاعدہ اس مشق کی جگہ نہیں لیتا۔

PR Newswire پر شائع ریلیز کے مطابق 54٪ جواب دہ اداروں کے پاس یہ واضح اصول تھے کہ کون سے AI ٹول استعمال کیے جا سکتے ہیں اور کیسے، 66٪ نے نگرانی کے کردار اور ذمہ داریوں پر تربیت دی تھی، جبکہ AI ایجنٹ استعمال کرنے پر غور کرنے والی کمپنیوں میں 58٪ نے اس کے خطرات کا جائزہ نہیں لیا تھا۔ ان نتائج میں الگ سوالات پوچھے گئے ہیں: مجاز ٹول کا علم، نگرانی کی ذمہ داری، جواب کی جانچ اور خودکار کارروائی کے خطرے کا جائزہ ایک ہی مہارت کے نام نہیں ہیں۔

۲۶ نکاتی فرق کو ان اداروں کی عین شرح بھی نہیں سمجھنا چاہیے جن کے پاس پالیسی تو ہے مگر تربیت نہیں۔ یہ سروے کی دو مجموعی شرحوں کا حساب ہے؛ کسی ایک ادارے کے دونوں جوابوں کو ملائے بغیر اس کے اندرونی خلا کی تعداد معلوم نہیں ہوتی۔ البتہ انتظامی سوال واضح ہے: اگر پالیسی موجود ہے تو کیا ملازم کو کسی پراعتماد مگر غلط جواب کو روکنے کا طریقہ بھی سکھایا گیا ہے؟

پاکستانی ٹیم کے لیے پانچ الگ تربیتی کنٹرول

سروے نے کوئی تیار تربیتی نصاب نہیں آزمایا۔ اس کے پوچھے گئے الگ سوالات کو پاکستانی دفتر کے عام کام میں پانچ کنٹرولز کی صورت دی جا سکتی ہے۔ ہر کنٹرول کا تعلق فیصلے کے مختلف مرحلے سے ہے، اس لیے ایک مرحلے میں کامیابی باقی مراحل کی ضمانت نہیں بنتی۔

  • استعمال کی پالیسی: ملازم کو معلوم ہو کہ کن کاموں میں AI مدد لے سکتا ہے، کون سی معلومات سروس میں داخل نہیں کی جا سکتیں اور تیار شدہ کام کا ذمہ دار کون ہے۔ تربیت میں ایک حقیقی دفتری کام کی حدود طے کروائی جائیں: مثلاً خلاصہ تیار کرنا مجاز ہو تو کیا اس میں صارف کی ذاتی معلومات شامل کرنا بھی مجاز ہے؟ پالیسی کا فائدہ تب سامنے آتا ہے جب ملازم اس حد کو کام شروع کرنے سے پہلے پہچان سکے۔
  • مجاز ٹول: کسی سروس تک رسائی ملنا ہر قسم کے مواد کے لیے اجازت نہیں ہے۔ ٹیم کو منظور شدہ ٹول، اس میں داخل کیے جا سکنے والے مواد اور حساس ڈیٹا کے لیے الگ پابندی واضح طور پر بتائی جائے۔ اس مرحلے کی مشق میں ملازم یہ طے کرے کہ مجوزہ کام مناسب ہے یا نہیں اور اگر مناسب ہے تو اس کے لیے کون سا منظور شدہ ٹول استعمال ہو گا۔ اس طرح ٹول کی منظوری اور ڈیٹا کی منظوری الگ رہتی ہیں۔
  • جواب کی تصدیق: AI کے پیش کردہ نام، اعداد، اقتباس اور نتیجے کو اصل ریکارڈ یا متعلقہ معتبر ماخذ سے ملانا الگ ہنر ہے۔ تربیت کے لیے ایسا فرضی جواب استعمال کیا جا سکتا ہے جو روانی سے لکھا گیا ہو مگر اس کا ایک حوالہ یا عدد غلط ہو۔ ملازم کو غلطی ڈھونڈنے کے ساتھ یہ بھی دکھانا چاہیے کہ اس نے درست بات کہاں سے حاصل کی؛ صرف جواب کو معقول محسوس کرنا تصدیق نہیں ہے۔
  • بصیرت پر عمل: درست خلاصہ بھی خود بخود نافذ ہونے والا فیصلہ نہیں بنتا۔ اگر AI کسی رجحان یا خطرے کی نشان دہی کرے تو ٹیم کو طے کرنا ہو گا کہ تجویز کس ریکارڈ سے ملے گی، متعلقہ ماہر کب شامل ہو گا اور حتمی منظوری کس شخص کے پاس ہے۔ اس تربیت کا مقصد جواب پڑھنے اور اس کی بنیاد پر کارروائی کرنے کے درمیان انسانی فیصلہ برقرار رکھنا ہے۔
  • AI ایجنٹ کے خطرے کا جائزہ: جب کوئی نظام صرف جواب دینے کے بجائے خود اگلا قدم اٹھا سکے، تو اس کے اختیار کی حد پہلے متعین کرنا ضروری ہے۔ تربیت میں یہ سوال شامل ہو کہ ایجنٹ کون سی کارروائی کر سکتا ہے، غلط اقدام کیسے نظر آئے گا، اسے کون روک سکے گا اور کب انسانی منظوری درکار ہو گی۔ جواب کی بعد میں جانچ اس پیشگی جائزے کا بدل نہیں بن سکتی۔

عالمی سروے سے پاکستانی ادارے کیا اخذ کر سکتے ہیں؟

شرکا خطرات، ضابطوں کی پابندی اور کاروباری تسلسل کے پیشہ ور افراد تھے؛ یہ پاکستان کے تمام اداروں یا دنیا کے تمام ملازمین کا نمائندہ شمار نہیں ہے۔ جواب دہندگان نے اپنے اداروں کی صورت حال بتائی، اس لیے ان شرحوں سے کسی پاکستانی شعبے کی قومی شرح یا کسی مخصوص کمپنی کی تیاری ثابت نہیں ہوتی۔ سروے پالیسی اور تربیت کے پھیلاؤ کی تصویر دیتا ہے، تربیت حاصل کرنے والے ہر ملازم کی عملی مہارت کا امتحان نہیں لیتا۔

پاکستانی منتظم کے لیے اس خبر کا قابلِ عمل نتیجہ ادارے کے اپنے کام میں ظاہر ہوتا ہے۔ اگر AI کا بنایا ہوا خلاصہ، حوالہ یا سفارش کسی گاہک، ساتھی یا منظوری دینے والے تک پہنچتی ہے تو اس سے پہلے اصل ماخذ، حساس معلومات کی حد اور فیصلے کے ذمہ دار شخص کا تعین ہونا چاہیے۔ پالیسی بتاتی ہے کہ کام کہاں شروع ہو سکتا ہے؛ تربیت طے کرتی ہے کہ مشکوک جواب کو آگے جانے سے پہلے کون اور کیسے روکے گا۔

یہ بھی پڑھیں:

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0