سات جعلی صحافی AI سے مضامین بھیجتے رہے—اصل کمزوری انسانی منظوری نکلی

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|7 منٹ مطالعہ
سات جعلی صحافی AI سے مضامین بھیجتے رہے—اصل کمزوری انسانی منظوری نکلی

OpenAI نے ۸ اکتوبر ۲۰۲۶ کی رپورٹ میں بتایا کہ ایران سے منسوب ایک مہم نے سات جعلی صحافیوں کے ناموں سے مضامین پیش کیے، تقریباً سو مضامین ان ناموں سے حقیقی آن لائن اداروں میں شائع یا دوبارہ شائع ہوئے، اور اس کارروائی سے وابستہ ChatGPT کھاتے بند کر دیے گئے۔ مضامین کو اشاعت تک پہنچانے کے لیے منتظمین نے اداروں کی جمع کرانے کی شرائط کے مطابق مسودے سنوارے اور مدیران کے نام تعارفی ای میل تیار کروائیں۔ یوں جعلی شناخت ایک مانوس ادارتی راستے سے گزری۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں فلوریڈا کے Port St. Joe Star کے ناشر ڈیوڈ ایڈلرسٹین نے بتایا کہ ارون ہاسکنز کے نام سے آنے والا کالم انہیں “thought-provoking” لگا؛ یہ کالم PeaceVoice نے بھیجا تھا، جس سے اخبار کا پرانا تعلق تھا، اس لیے انہوں نے مصنف کی شناخت اور تحریر کی اصل نسبت جانچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ یہ اشاعت کا ایک واضح راستہ دکھاتا ہے: شناسا واسطے پر اعتماد مضمون کے مصنف تک منتقل ہو گیا۔ ہر متاثرہ ادارے نے اسی طرح فیصلہ کیا ہو، اس کا ثبوت موجود نہیں۔

جعلی تعارف سے تعارفی ای میل تک

مہم کا اہم کام صرف تحریر بنانا نہیں تھا۔ منتظمین ChatGPT کو انگریزی مسودہ اور کسی مخصوص ادارے کی جمع کرانے کی شرائط دیتے، اس سے مطلوبہ تبدیلیاں معلوم کرتے اور منظور شدہ ترمیم کے بعد مدیر کو بھیجنے کے لیے ای میل تیار کرواتے۔ اس عمل نے موضوع، انداز اور پیش کش کو ادارے کی توقعات کے قریب کیا۔ رپورٹ سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ شائع ہونے والی ہر تحریر ابتدا سے آخر تک مصنوعی ذہانت نے لکھی تھی؛ ثابت شدہ استعمال میں مسودے سنوارنا اور ان کی پیش کش تیار کرنا شامل ہے۔

مصنفین کے تعارف نے پیش کش کو مزید قابلِ قبول بنایا۔ مائیکل ہیریسن کے نام کے ساتھ مختلف سوشل پلیٹ فارموں پر کھاتے موجود تھے، جبکہ ارون بی ہاسکنز کے تعارف میں اسے امریکی آزاد لکھاری بتایا گیا۔ اس کے متعلقہ سوشل کھاتوں کی شفافیت کی معلومات نے ایران میں مقام دکھایا۔ نام، تعارف اور متعدد کھاتوں کا ایک دوسرے سے میل کھانا آزاد شناختی ثبوت نہیں بنتا، کیونکہ یہ سب ایک ہی منتظم بنا سکتا ہے۔

تحریروں کا مرکزی موضوع امریکہ اور ایران کے تنازع کی سیاسی تعبیر تھا۔ کچھ مضامین ایسے خبرناموں میں پہنچے جو بین الاقوامی امور اور مشرقِ وسطیٰ پر لکھتے ہیں؛ بعض کو بعد میں اشاعتی اداروں کے اپنے سوشل کھاتوں نے آگے بڑھایا۔ اس مرحلے پر قاری کے سامنے مضمون کسی نامعلوم مہم کے پیغام کے بجائے ایک موجودہ ادارے کے صفحے اور اس کی معمول کی مصنفانہ سطر کے ساتھ آتا تھا۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں جھوٹی نسبت کو ادارے کی ساکھ سے فائدہ ملا۔

ہر شائع شدہ مضمون مدیر کی منظوری سے نہیں گزرا

اشاعت کے طریقوں میں فرق اس واقعے کی اہم حد ہے۔ NPR کی رپورٹ کے مطابق Daily Kos کے کمیونٹی حصے میں ایک جعلی شناخت سے مواد پوسٹ ہوا، جہاں صارف خود تحریر شائع کر سکتے ہیں اور عملہ اشاعت سے پہلے اسے نہیں دیکھتا۔ اس لیے کسی حقیقی خبرنامے پر مضمون ملنے سے یہ خودبخود ثابت نہیں ہوتا کہ مدیر نے اسے منتخب یا منظور کیا تھا۔ Port St. Joe Star کی مثال میں، اس کے برعکس، ایک ناشر نے کالم منتخب کیا مگر مصنف کی نسبت کی الگ تصدیق نہیں کی۔

اس فرق کے باوجود دونوں راستوں میں قاری کو ایک ہی بنیادی مشکل پیش آئی: صفحے پر نظر آنے والا مصنف وہ شخص نہیں تھا جو پیش کش کے پیچھے تھا۔ ادارتی انتخاب، کسی واسطے سے وصول ہونے والا کالم اور کھلی کمیونٹی پوسٹنگ الگ نظام ہیں؛ ان کی جانچ اور ذمہ داری بھی الگ ہونی چاہیے۔ خبرنامے کے نام کے ساتھ شائع ہونا شناخت کے ثبوت کے برابر نہیں، خاص طور پر جب مہمان لکھاری کا تعارف اسی پیش کش کے ساتھ فراہم کیا گیا ہو۔

مہم نے اپنے مضامین کی تشہیر کرنے والی پوسٹوں کے نیچے موافق تبصرے بھی تیار کیے۔ دستیاب مشاہدے میں ان تبصروں کو زیادہ ردعمل نہیں ملا، لیکن منتظمین کی اندرونی رپورٹوں نے اصل پوسٹوں کے مجموعی نظاروں کو اپنے تبصروں کے اثر سے جوڑ دیا۔ پہلے سے مقبول پوسٹ کا دیکھا جانا اس کے نیچے موجود کسی خاص تبصرے کے پڑھے جانے یا رائے بدلنے کا ثبوت نہیں۔ اشاعتی صفحات تک رسائی اس مہم کا زیادہ واضح نتیجہ تھی۔

مضمون قبول کرنے سے پہلے پانچ جانچیں

اس کیس میں چھوٹے خبرناموں کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ رواں نثر، مکمل تعارف اور مناسب ای میل ایک ساتھ بھی غلط نسبت چھپا سکتے ہیں۔ درج ذیل پانچ اقدامات ادارتی سفارش ہیں، متاثرہ اداروں کے ثابت شدہ طریقۂ کار کا بیان نہیں۔ انہیں مضمون کے موضوع پر اتفاق یا اختلاف سے الگ رکھنا چاہیے، تاکہ شناخت اور تحریر کی نسبت پہلے واضح ہو۔

  1. نام: پیش کش بھیجنے والے سے مکمل نام، پیشہ ورانہ تعارف اور متعلقہ وابستگی براہِ راست مانگیں۔ ای میل کے دستخط یا ساتھ بھیجی گئی سوانح کو تنہا شناخت کا ثبوت نہ سمجھیں۔
  2. سابقہ تحریر: فراہم کردہ نمونوں کے اصل اشاعتی صفحات دیکھیں، مصنف کی سطر اور اشاعت کا ریکارڈ ملائیں، اور نقل یا دوبارہ اشاعت کو الگ کام شمار نہ کریں۔ کئی صفحات پر ایک ہی تعارف دہرانا آزاد تصدیق نہیں ہے۔
  3. رابطہ: پیش کش میں دیے گئے پتے کے علاوہ پہلے سے موجود کسی قابلِ اعتماد پیشہ ورانہ ذریعے سے مصنف تک پہنچیں۔ رابطے میں اس کی شناخت، وابستگی اور پیش کردہ مضمون کی نسبت ایک جیسی ہونی چاہیے۔
  4. اصل فائل: ابتدائی مسودہ اور تبدیلیوں کی دستیاب تاریخ طلب کریں، خصوصاً جب تحریر کسی واسطے سے آئی ہو۔ اس سے متن کی آمد کا سلسلہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے، اگرچہ فائل خود مصنف کی شناخت ثابت نہیں کرتی۔
  5. دعوے: مضمون کے اہم قابلِ تصدیق بیانات کو اصل شواہد سے ملائیں، صرف مصنف کے لگائے ہوئے حوالوں سے نہیں۔ درست دعوے اور حقیقی مصنف دو الگ سوال ہیں؛ دونوں کے جواب اشاعت کے فیصلے میں اہم ہیں۔

کھلی کمیونٹی پوسٹنگ رکھنے والے ادارے کے لیے ایک اور فرق نمایاں ہونا چاہیے: کون سا مواد عملے کی پیشگی جانچ سے گزرا ہے اور کون سا صارف نے خود شائع کیا ہے۔ یہ وضاحت جعلی شناخت کو نہیں پکڑتی، مگر قاری کو اشاعتی صفحے کی حیثیت سمجھنے دیتی ہے۔ مدیر کے لیے اصل امتحان اسی لمحے ہوتا ہے جب ایک بظاہر معمول کی پیش کش کو کسی حقیقی شخص سے منسوب کر کے قبول کیا جاتا ہے۔

کھاتے بند ہوئے، اشاعتی فیصلوں کا اثر باقی ہے

اسی انکشاف میں روس سے منسوب ایک الگ نقاب پوش کارروائی بھی سامنے آئی، جس میں بظاہر تحقیقی ادارہ، گھڑی ہوئی آوازیں اور اندرونی اثر رپورٹیں استعمال ہوئیں۔ دونوں کارروائیوں میں مصنوعی ذہانت نے پہلے سے موجود فریب کاری کو تیز کیا: ایک جگہ اس نے مضامین اور ای میل کو موزوں بنایا، دوسری جگہ جعلی مواد اور رپورٹیں تیار کرنے میں مدد دی۔ مرکزی انحصار پھر بھی انسانوں کے اس فیصلے پر رہا کہ سامنے آنے والی شناخت اور ادارہ کس حد تک معتبر ہیں۔

ایران سے منسوب ChatGPT کھاتوں کی بندش اشاعتی اداروں کے صفحات کو خود درست نہیں کرتی۔ جہاں جعلی ناموں سے مواد اب بھی موجود ہے، وہاں اس کی نسبت، تدوینی حیثیت اور ممکنہ وضاحت کا فیصلہ متعلقہ ادارے کو کرنا ہوگا۔ قاری کے لیے فوری نتیجہ یہ ہے کہ حقیقی خبرنامے کا صفحہ مضمون کی اشاعت ثابت کرتا ہے، اس کے درج شدہ مصنف کی شناخت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0