
PTA کم عمر صارفین کی عمر لازماً نہیں جانچ سکتی—اختیار قانون سازوں کے پاس

یکم اکتوبر ۲۰۲۶ کو ڈان کی عدالتی رپورٹ کے مطابق، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جواب جمع کرایا کہ موجودہ قانون اسے سوشل میڈیا پر ۱۶ سال سے کم عمر صارفین کی لازمی عمر جانچ یا ان کی رسائی پر عمومی پابندی خود نافذ کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ یہ جواب وقاص ناصر کی درخواست پر دیا گیا، جس میں بچوں کے لیے قانون سازی اور جامع ضابطے کی استدعا کی گئی ہے۔ عدالت میں مؤقف پیش ہونے سے بچوں کے اکاؤنٹس پر ملک گیر پابندی شروع نہیں ہوئی۔
اسی کارروائی کے بارے میں بزنس ریکارڈر کی رپورٹ میں درج ہے کہ پی ٹی اے عمر کی تصدیق کا نیا نظام اپنے موجودہ قانونی اختیارات سے باہر قرار دیتی ہے اور بچوں کے تحفظ کے لیے نئے قانونی و پالیسی ڈھانچے کی ضرورت بتاتی ہے۔ والدین اور پلیٹ فارم کے لیے فی الحال کوئی نیا یکساں سرکاری عمر جانچ کا حکم سامنے نہیں آیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایسی شرط بنانے، اس کی نگرانی کرنے اور خلاف ورزی پر کارروائی کا اختیار کس قانون کے تحت کس ادارے کو ملے گا۔
درخواست نے عدالت سے کیا مانگا تھا؟
وقاص ناصر نے وفاقی حکومت کے لیے ایسی قانون سازی اور ضابطہ جاتی ترتیب مانگی جو بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کو منظم کرے۔ درخواست میں عمر کی مؤثر تصدیق اور پلیٹ فارم کی ذمہ داری کا سوال اٹھایا گیا۔ آن لائن ہراسانی، سائبر بُلنگ اور نامناسب مواد کے خطرات اس مطالبے کے پس منظر میں پیش کیے گئے؛ درخواست گزار کے دلائل کو نافذ شدہ پابندی سمجھنا درست نہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ وفاقی وزارتوں اور نگران اداروں سے جواب طلب کیا تھا۔ پی ٹی اے کی رپورٹ اسی عدالتی عمل میں اس کی قانونی پوزیشن ہے، عدالت کا حتمی فیصلہ نہیں۔ اداروں سے جواب مانگنے پر عدالت کو ان کے موجودہ اختیارات اور ممکنہ اقدامات کے بارے میں مؤقف ملتا ہے؛ اس حکم سے اکاؤنٹس بند کرنے کی عمومی ہدایت پیدا نہیں ہوتی۔
مواد روکنے اور عمر کی شرط بنانے میں قانونی فرق
غیر قانونی آن لائن مواد پر موجودہ اختیارات اور تمام صارفین کے اکاؤنٹس پر عمر کی نئی شرط دو الگ معاملات ہیں۔ کسی مخصوص شکایت پر مواد کی جانچ یا قانون کے مطابق اس تک رسائی روکنا ایک کام ہے۔ ہر پلیٹ فارم سے عمر کا ثبوت مانگنا، اس ثبوت کے استعمال کے اصول مقرر کرنا اور عدم تعمیل کی ذمہ داری طے کرنا وسیع تر ضابطہ مانگتا ہے۔
اسی لیے انتظامی ہدایت کے ذریعے عمومی عمر جانچ قائم کرنے کا اختیار پی ٹی اے کے موجودہ کردار سے اخذ نہیں ہوتا۔ لازم نظام کے لیے یہ واضح کرنا ہوگا کہ عمر کس طرح ثابت ہوگی، شناختی معلومات کی حفاظت کون کرے گا اور پلیٹ فارم کو کس عمل کا پابند بنایا جائے گا۔ بچوں کے تحفظ کا مقصد اہم ہے، مگر ان ذمہ داریوں کو قابلِ نفاذ بنانے کے لیے قانون اور مجاز نگران ادارے کا دائرہ طے کرنا پڑے گا۔ موجودہ قانون کے تحت غیر قانونی مواد سے متعلق کارروائی کا راستہ اپنی حدود میں برقرار ہے۔
HTTPS کی تکنیکی رکاوٹ کہاں آتی ہے؟
مواد روکنے کی بحث میں ایک الگ عملی مشکل HTTPS کا محفوظ رابطہ ہے۔ اس رابطے میں نیٹ ورک کی سطح پر کسی پلیٹ فارم کے اندر کھولی گئی ہر پوسٹ یا صفحے کی الگ شناخت ممکن نہیں ہوتی۔ ایک مخصوص پتے کو روکنے کی کوشش پوری ویب سائٹ تک رسائی بند کرنے تک جا سکتی ہے، جس سے جائز مواد بھی متاثر ہوگا۔
یہ رکاوٹ اس وقت متعلق ہوتی ہے جب نگران ادارہ پلیٹ فارم کے اندر مخصوص مواد کو باہر سے روکنا چاہے۔ عمر کی تصدیق میں اکاؤنٹ بنانے یا استعمال کرنے والے کی اہلیت جانچنے کا طریقہ مقرر کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے ویب سائٹ بند کرنے کی تکنیکی صلاحیت، عمر کا ثبوت لینے اور اسے محفوظ رکھنے کے قانونی اختیار کا متبادل نہیں بنتی۔ پلیٹ فارم کے اپنے عمل اور سرکاری ضابطے کے درمیان ذمہ داری کی حد بھی واضح کرنا ہوگی۔
نئی نگران اتھارٹی اور سابقہ سینیٹ بل
الیکٹرانک جرائم کے قانون میں ترمیم کے بعد سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا معاملہ بھی عدالتی جواب میں آیا ہے۔ اس کے باقاعدہ نوٹیفکیشن تک پی ٹی اے کا مواد سے متعلق کردار عبوری نوعیت کا ہے۔ نئے ادارے کی تشکیل پلیٹ فارم کی نگرانی کا انتظام بدل سکتی ہے، لیکن اس کے لیے بھی بچوں کی لازمی عمر جانچ کا دائرہ اور اختیار قانونی طور پر واضح ہونا ضروری ہے۔
سینیٹ کے سرکاری بل ریکارڈ میں درج ہے کہ سوشل میڈیا کے کم عمر صارفین سے متعلق بل ۲۱ جولائی ۲۰۲۵ کو پیش ہوا اور پیش کرنے والے ارکان نے ۱۸ اگست ۲۰۲۵ کو اسے واپس لے لیا۔ یہ قانون سازی کی سابقہ کوشش تھی، نافذ قانون نہیں۔ اس بل کی بنیاد پر پلیٹ فارم سے عمر کا ثبوت طلب نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی والدین پر کوئی نئی قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
والدین اور پلیٹ فارم کے لیے فوری صورت حال
موجودہ بچوں کے اکاؤنٹس کی خودکار سرکاری جانچ یا بندش کا کوئی نیا حکم پی ٹی اے کے عدالتی جواب سے پیدا نہیں ہوا۔ اسی طرح رپورٹ بذاتِ خود پلیٹ فارم کو ہر پاکستانی صارف سے عمر کا نیا ثبوت لینے کا پابند نہیں کرتی۔ پلیٹ فارم کی اپنی حفاظتی سہولت اور ملک گیر قانونی پابندی کا دائرہ الگ ہے۔
اس مقدمے میں اگلی اہم پیش رفت عدالت کی مزید کارروائی، حکومت کے قانونی جواب یا عمر کی تصدیق کے بارے میں واضح قانون کی صورت میں ہوگی۔ ان میں سے کسی قابلِ نفاذ اقدام سے ہی یہ طے ہوگا کہ نئی شرط کب، کن صارفین پر اور کس ادارے کی نگرانی میں لاگو ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:
متعلقہ مضامین


Meta کا 17.1 ارب ڈالر سمجھوتا—نوعمروں کے اکاؤنٹس کیسے بدلیں گے؟

امریکی تجویز superintelligent AI پر مستقل پابندی لگائے گی، مگر بل ابھی زیرِ تیاری ہے

پاکستانی طلبہ کے لیے ایک سال کا Gemini—معاہدے میں کیا طے ہوا؟

California نے بچوں کے AI chatbots باندھ دیے، آزاد audit بھی لازم ہوگا

Meta کا 18 ارب ڈالر سمجھوتا؛ کم عمر صارفین پر وقت کی نئی حد
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔