
پاکستان کا Buraq اردو AI ابھی منصوبہ ہے—ریلیز اور معیار نامعلوم

وزارتِ آئی ٹی کی 21 اکتوبر 2026 کی روداد کے مطابق، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشن شزا فاطمہ خواجہ نے سیول کے عالمی اے آئی و ڈیجیٹل اجلاس میں Buraq کو اردو اور علاقائی زبانوں کے لیے زیرِ تربیت بڑے لسانی ماڈل کے طور پر پیش کیا؛ ان کا جملہ تھا: “Artificial Intelligence is the last layer, not the first.” انہوں نے مستقبل کی سرکاری خدمات کے لیے ڈیجیٹل شناخت، ادائیگی اور محفوظ ڈیٹا تبادلے کو ضروری بنیادوں میں شمار کیا۔
Buraq کب عام لوگوں کو دستیاب ہوگا، اس کی تاریخ سامنے نہیں آئی۔ Origin Pakistan کی تفصیل کے مطابق عوامی ریلیز، کارکردگی کے قابلِ جانچ نتائج اور موجودہ سرکاری نظاموں سے اس کے عملی ربط کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے فی الحال اسے شہریوں کے لیے دستیاب قومی چیٹ بوٹ یا چلتی ہوئی سرکاری خدمت سمجھنے کی بنیاد نہیں ملتی۔
Buraq کی تیاری کس پروگرام میں شامل ہے؟
حکومتی خاکے میں Buraq کو قومی مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ٹیکنالوجیز کے ترقیاتی پروگرام، NAIEDP، کا حصہ رکھا گیا ہے۔ پروگرام کا ایک حصہ ملک کے اندر عوامی کمپیوٹنگ صلاحیت حاصل کرنے اور فراہم کرنے سے متعلق ہے، تاکہ پاکستانی معلومات کی پراسیسنگ پاکستان میں ممکن ہو۔ دوسرا حصہ اردو اور علاقائی زبانوں پر مبنی لسانی ماڈل کی تربیت ہے۔ کمپیوٹنگ کی خریداری کا ارادہ ماڈل کی تکمیل یا اس تک عوامی رسائی کا ثبوت نہیں بنتا۔
لسانی ماڈل متن سمجھنے اور سوالوں کے جواب تیار کرنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ Buraq کے لیے اردو کے ساتھ علاقائی زبانوں کا ہدف اہم ہے، کیونکہ سرکاری معلومات تک رسائی میں زبان رکاوٹ بن سکتی ہے۔ مگر یہ فائدہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ کون سی زبانیں شامل کی جاتی ہیں، ان کے لیے کس نوعیت کا مواد استعمال ہوتا ہے اور ہر زبان میں جواب کی درستگی کس طرح جانچی جاتی ہے۔ اعلان میں علاقائی زبانوں کی مخصوص فہرست یا الگ الگ نتائج نہیں دیے گئے۔
عالمی بینک کے اجلاس کی تفصیل کے مطابق یہ اجتماع 19 سے 22 اکتوبر 2026 تک سیول میں عالمی بینک اور جنوبی کوریا کی متعلقہ وزارتوں کی میزبانی میں ہوا۔ اس کی گفتگو میں عوامی خدمات اور مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کو جگہ دی گئی۔ پاکستانی پیشکش میں بھی زبان کا ماڈل ایک وسیع سرکاری ڈھانچے کا آئندہ حصہ تھا: شہری کو جواب دینا، اس کی شناخت کی تصدیق کرنا اور مجاز ادائیگی کرنا الگ کام ہیں۔
Raast، WASL اور ڈیجیٹل شناخت کا کردار
مجوزہ ترتیب میں ڈیجیٹل شناخت کا کام شہری کی شناخت کی تصدیق اور اس کی اجازت کو ریکارڈ کرنا ہے۔ NADRA کا شناختی نظام اس بنیاد کے طور پر بیان ہوا، جبکہ Raast، اسٹیٹ بینک کا فوری ادائیگی نظام، رقم منتقل کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ موجودہ ادارہ جاتی کام Buraq کے لسانی کام سے مختلف ہیں۔ کسی سوال کا رواں اردو جواب یہ ثابت نہیں کرتا کہ سوال کرنے والا متعلقہ شہری ہے یا کسی سرکاری سہولت کا مستحق ہے۔
WASL کو اداروں کے درمیان محفوظ ڈیٹا تبادلے کی تہہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ بیان کردہ طریقے میں درخواست کی تصدیق، معلومات کی حفاظت، شہری کی اجازت اور تبادلے کا ریکارڈ شامل ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ کسی خدمت کو درکار معلومات متعلقہ اداروں سے طے شدہ قواعد کے تحت ملیں۔ Buraq کے اعلان میں ان نظاموں کو مستقبل کی مصنوعی ذہانت پر مبنی خدمات کا پس منظر بنایا گیا؛ ماڈل کے ان سے فعال اتصال کی مثال یا مظاہرہ پیش نہیں کیا گیا۔
WASL کے ساتھ شہری خدمات کے لیے ایک جامع ایپ اور عوامی معلومات کے لیے NODE نامی نظام قائم کرنے کا ارادہ بھی بیان ہوا۔ پہلے منصوبے کا تعلق خدمات تک رسائی سے ہے، جبکہ دوسرے کا مقصد مناسب عوامی ڈیٹا تک قانون کے مطابق رسائی دینا ہے۔ ان منصوبوں کے ذکر سے Buraq کو شناختی ریکارڈ، ادائیگی کے اختیار یا سرکاری ڈیٹا تک خودکار رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ کسی حقیقی خدمت میں ایسے اختیارات متعلقہ اداروں کے قواعد اور اجازت سے طے ہوں گے۔
شہری خدمت میں Buraq کی آزمائش
سرکاری خدمت میں لسانی ماڈل کی شمولیت کا حساس پہلو شہری کی ذاتی معلومات ہیں۔ اعلان میں ڈیٹا کی درجہ بندی، حفاظت، اشتراک، قابلِ واپسی رضامندی اور رسائی کا حساب رکھنے کے اصول بیان ہوئے۔ کسی حقیقی خدمت میں ان کا عملی مطلب تب واضح ہوگا جب معلوم ہو کہ کون سا محکمہ کون سی معلومات کس مقصد سے مانگ سکتا ہے اور غلط ریکارڈ کی اصلاح کیسے ہوگی۔ بیان کردہ اصول کو نافذ شدہ طریقۂ کار سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
مجوزہ انتظام میں انسانی نگرانی بھی بنیادی شرط ہے: مصنوعی ذہانت فیصلے کی تیاری میں مدد دے، مگر کسی شہری کے حقوق یا استحقاق کا فیصلہ اکیلے نہ کرے۔ مثال کے طور پر، درخواست کے تقاضے اردو میں سمجھانا اور اس درخواست کی سرکاری منظوری دینا دو مختلف مراحل ہیں۔ منظوری کے لیے مستند ریکارڈ، مجاز اہلکار اور اعتراض سننے کا طریقہ درکار رہیں گے۔ مالی مدد، فیس یا دوسری عوامی خدمات میں یہ فرق براہِ راست شہری کے حق پر اثر ڈال سکتا ہے۔
ماڈل کا معیار جانچنے کے لیے تربیتی ڈیٹا کے ذرائع، اس کی ساخت، شامل علاقائی زبانوں اور ہر زبان کے الگ نتائج درکار ہوں گے۔ صرف اردو متن پیدا کر لینا کافی پیمانہ نہیں؛ سرکاری اصطلاحات، مقامی زبان کے استعمال اور پیچیدہ درخواست کی درست وضاحت بھی آزمائش مانگتے ہیں۔ ابھی ایسی تفصیل یا آزادانہ جانچ کے نتائج شائع نہیں ہوئے، اس لیے موجودہ ماڈلز سے اس کی برتری یا حساس سرکاری کام کے لیے موزونیت کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
عوامی دستیابی کی صورت بھی اس آزمائش کا حصہ ہوگی۔ شہریوں کے لیے سرکاری ایپ، محدود ادارہ جاتی آزمائش اور ڈویلپرز کو ماڈل تک رسائی الگ حیثیتیں ہیں؛ ہر صورت میں جواب دہی اور نتائج جانچنے کا طریقہ مختلف ہوگا۔ موجودہ اعلان نے ان میں سے کسی صورت کی تاریخ مقرر نہیں کی۔ اگلا قابلِ جانچ مرحلہ ایسی ریلیز یا آزمائش ہوگی جس کے ساتھ رسائی کا طریقہ اور اردو سمیت نامزد علاقائی زبانوں میں کارکردگی کے نتائج سامنے آئیں۔
یہ بھی پڑھیں:
متعلقہ مضامین


ChatGPT یا Claude؟ برابر ماہانہ قیمت میں کام کی نوعیت فیصلہ کرے گی

تعمیرات میں AI صرف 28٪ نے چلایا—مہارت پھیلاؤ کی اصل رکاوٹ

Otter یا Fireflies؟ صاف انگریزی میں برابر، ملے جلے لہجے میں فرق

Pakistan Startup Fund 2.0 میں 10 ملین ڈالر—بڑا فنڈ ابھی وعدہ ہے

QUASA ایک مربوط ڈیجیٹل ایکو سسٹم میں تبدیل ہو چکا ہے
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔