
لاہور کے سات کال سینٹرز پر چھاپے، 281 گرفتار مگر متاثرین کی گنتی غائب

این سی سی آئی اے کے لاہور زون نے ۹ اکتوبر ۲۰۲۶ کی پریس کانفرنس میں بتایا کہ شہر کے سات مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف ایک ہفتے کی کارروائیوں میں 281 افراد گرفتار ہوئے، جن میں ۲۱ غیر ملکی شامل تھے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے ان مراکز سے منسوب مالی فراڈ، آن لائن ہراسانی اور تعلقات کا جھانسہ دے کر بلیک میل کرنے کے الزامات بیان کیے۔ یہ زیرِ تفتیش الزامات ہیں؛ گرفتاری کو جرم ثابت ہونے کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔
حکام نے گرفتار افراد اور ضبط شدہ ڈیجیٹل سامان کی تفصیل دی، لیکن متاثرین کی تعداد، سات مراکز کے نام اور متعلقہ ایف آئی آر نمبر سامنے نہیں رکھے۔ اس خلا کی وجہ سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کتنی شکایات ان مراکز سے جڑی ہیں اور کس شخص کی رقم کس مقدمے میں زیرِ تفتیش ہے۔ پریس کانفرنس میں بتائی گئی مالی برآمدگی بھی مالی فراڈ کے مقدمات اور انکوائریوں کی مجموعی رقم ہے؛ اسے تمام چھاپوں سے برآمد رقم یا متاثرین کو واپس ہونے والی رقم نہیں سمجھنا چاہیے۔
لاہور کی کارروائی میں کون گرفتار ہوا اور الزام کیا ہے

گرفتار افراد میں ۲۶۰ پاکستانی، ۲۱ غیر ملکی اور مجموعی طور پر ۲۰ خواتین شامل بتائی گئیں۔ غیر ملکیوں میں ۱۲ چینی، پانچ فلپائنی، دو ویتنامی، ایک ملائیشیائی اور ایک نیپالی شہری کا ذکر ہوا۔ یہ گنتی کارروائی کا دائرہ دکھاتی ہے، لیکن قومیت یا مرکز میں موجودگی سے کسی فرد کا مخصوص جرم یا کسی متاثرہ شخص کا ملک معلوم نہیں ہوتا۔ تفتیش میں ہر شخص کا کردار الگ شواہد سے طے ہونا ہے۔
مالی فراڈ کے الزام کے ساتھ آن لائن ہراسانی اور نجی گفتگو یا تصاویر کے ذریعے بلیک میلنگ کا پہلو بھی بتایا گیا۔ ان شکایات کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے: کہیں رقم بینک یا ڈیجیٹل بٹوے سے منتقل ہوئی ہوگی، کہیں دھمکی یا نجی مواد کے غلط استعمال کی شکایت ہوگی۔ اسی لیے گرفتار افراد کی تعداد کو متاثرین کی تعداد سے ملانا غلط ہوگا؛ ایک شکایت میں کئی ملزمان ہو سکتے ہیں اور ایک شخص کو کئی رابطوں کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔
عاطف امیر کی بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ انکوائری مکمل ہونے اور متعلقہ کمیٹی کی منظوری کے بعد مقدمہ درج ہوتا ہے۔ اس ترتیب کا عملی مطلب یہ ہے کہ ہر زیرِ تفتیش شکایت کے ساتھ فوراً ایف آئی آر نمبر موجود ہونا ضروری نہیں۔ تاہم جن مقدمات کا ذکر ہوا، ان کے نمبر عام نہیں کیے گئے، اس لیے کوئی متاثرہ شخص محض خبر میں درج مجموعی اعداد سے اپنا کیس شناخت نہیں کر سکتا۔
ضبط شدہ فون، کمپیوٹر اور سموں سے کیا پتا چل سکتا ہے
چھاپوں کے دوران ۳۶۲ موبائل فون، ۱۹۱ کمپیوٹر سسٹم، ۷۴ لیپ ٹاپ، ۱۲۷ دوسرے ڈیجیٹل آلات اور ۵۵۰ سمیں ضبط کرنے کی اطلاع دی گئی۔ آلات کو فرانزک معائنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ کال سینٹر کے معاملے میں فون اور سمیں رابطوں کی کڑیاں، جبکہ کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ ممکنہ طور پر اکاؤنٹس یا لین دین سے متعلق ریکارڈ فراہم کر سکتے ہیں؛ نتیجہ معائنے اور قابلِ تصدیق ڈیٹا پر منحصر ہوگا۔
ضبطی کا عدد خود یہ نہیں بتاتا کہ کتنے فون استعمال ہوئے، کتنی سموں سے دھوکا دہی کی گئی یا ہر کمپیوٹر کس ملزم کے زیرِ استعمال تھا۔ آلات میں موجود ریکارڈ کو رابطے کے وقت، اکاؤنٹ، منتقلی اور شکایت کنندہ کے بیان سے جوڑنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی کسی مخصوص شخص یا مبینہ مرکز کا کسی خاص شکایت سے تعلق مضبوط یا کمزور ہو سکتا ہے۔ ابھی دستیاب تفصیل سامان کی مجموعی گنتی دیتی ہے، مرکز وار تفصیل نہیں۔
مالی فراڈ اور بلیک میلنگ کے ثبوت ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ رقم کی منتقلی میں ٹرانزیکشن شناخت اور وصول کنندہ اکاؤنٹ اہم ہو سکتا ہے؛ ہراسانی میں اصل پیغامات، رابطے کے نمبر اور دھمکیوں کی ترتیب اہم ہوگی۔ فرانزک جانچ کا مقصد برآمد ہونے والے سامان کو ایسے شواہد سے ملانا ہے، اور اس کا نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
برآمد رقم کس کارروائی سے متعلق ہے

ڈان کی رپورٹ کے مطابق عاطف امیر نے مالی فراڈ کے پانچ مقدمات اور دس انکوائریوں میں ۱ کروڑ ۹۲ لاکھ ۴۶ ہزار ۲۴۰ روپے برآمد ہونے کا بتایا۔ ان معاملات میں ڈیجیٹل بٹووں اور بینک اکاؤنٹس کے ذریعے مشکوک منتقلیوں کی تفتیش ہو رہی ہے۔ دستیاب تفصیل اس رقم کو سات کال سینٹرز میں سے کسی ایک، یا ہر متاثرہ فرد، سے الگ الگ نہیں جوڑتی۔
برآمدگی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ رقم متاثرین کے کھاتوں میں واپس پہنچ گئی ہے۔ واپسی کے لیے یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ رقم کس لین دین سے آئی، اس پر کس کا حق ثابت ہوتا ہے اور متعلقہ ادارے کی کارروائی کس مرحلے پر ہے۔ فی الحال متاثرین کی کل تعداد اور واپس کی گئی رقم بھی سامنے نہیں آئی۔ انہی تفصیلات کے بغیر مجموعی برآمدگی کو کسی فرد کی ممکنہ وصولی کا اندازہ بنانا درست نہیں ہوگا۔
انکوائری اور درج شدہ مقدمے کے اعداد ایک ہی نوعیت کے نہیں ہیں۔ انکوائری میں ابتدائی معلومات اور شواہد دیکھے جاتے ہیں، جبکہ مقدمہ درج ہونے کے بعد باقاعدہ تفتیش کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ جس شخص نے نقصان اٹھایا ہے، اس کے لیے اپنی شکایت کا حوالہ، بینک یا بٹوے کی ٹرانزیکشن شناخت اور جواب کی تاریخ الگ محفوظ رکھنا اس لیے اہم ہے کہ مجموعی پریس بریفنگ انفرادی شکایت کی پیش رفت نہیں بتاتی۔
مبینہ فراڈ کا شکار شخص پہلے کیا کرے
اگر کسی مشکوک کال، پیغام یا آن لائن رابطے کے بعد رقم منتقل ہوئی ہے تو سب سے پہلے اپنے بینک یا ڈیجیٹل بٹوے کے سرکاری شکایتی نمبر یا ایپ میں دیے گئے ذریعے سے رابطہ کریں۔ منتقلی کا وقت، رقم، ٹرانزیکشن شناخت اور وصول کنندہ کی تفصیل دیں؛ مشکوک رسائی بند کرانے اور لین دین پر تنازع درج کرنے کو کہیں۔ شکایت کا حوالہ نمبر اور بات چیت کا وقت لکھ لیں۔ فوری اطلاع ادارے کو معاملہ دیکھنے کا موقع دیتی ہے، لیکن رقم رکنے یا واپس ملنے کی ضمانت نہیں۔
- اصل پیغامات، کال لاگ، فون نمبر، اکاؤنٹ یا بٹوے کی شناخت اور منتقلی کی رسید محفوظ کریں۔ شواہد کی نقول رکھیں؛ اصل گفتگو حذف نہ کریں اور نہ اس میں ترمیم کریں۔
- اگر پاس ورڈ، پن یا یک بار استعمال ہونے والا تصدیقی کوڈ کسی کو بتایا تھا تو اپنے قابلِ اعتماد آلے سے متعلقہ رسائی بدلیں اور بینک یا بٹوے کو واضح بتائیں کہ کیا معلومات ظاہر ہوئیں۔ مزید آنے والی مشکوک کال پر کوئی نیا کوڈ نہ بتائیں۔
- این سی سی آئی اے کی شکایت سے متعلق سرکاری ہدایات کے مطابق آن لائن شکایت شروع کی جا سکتی ہے یا قریبی سائبر کرائم رپورٹنگ مرکز جایا جا سکتا ہے۔ باقاعدہ تصدیق کے لیے مرکز میں ذاتی حاضری، تحریری درخواست، شناختی کارڈ اور شواہد کی نقول درکار بتائی گئی ہیں؛ اندراج کا حوالہ محفوظ کریں۔
- اگر نجی تصاویر، ویڈیو یا گفتگو سے بلیک میل کیا جا رہا ہے تو دھمکیوں کا مکمل ریکارڈ اور متعلقہ رابطوں کی ترتیب شکایت میں دیں۔ مواد کو غیر ضروری طور پر آگے نہ بھیجیں اور رقم کا مزید مطالبہ ہو تو اسے بھی ریکارڈ کا حصہ بنائیں۔
شکایت میں یہ قیاس لکھنے کے بجائے کہ رابطہ لازماً انہی مراکز سے ہوا تھا، صرف اپنی قابلِ جانچ تفصیل دیں۔ تفتیشی ادارہ رابطے، اکاؤنٹ اور برآمد شدہ ڈیجیٹل شواہد سے ممکنہ تعلق دیکھ سکتا ہے۔ بینک یا بٹوے کی شکایت اور این سی سی آئی اے کی شکایت کے الگ حوالہ نمبر رکھیں، کیونکہ مالی منتقلی پر فوری کارروائی اور مجرمانہ تفتیش الگ راستے اختیار کرتی ہیں۔ متاثرین کی تعداد، مقدمات کی شناخت اور رقم کی واپسی کی تفصیل جاری ہونے پر ہی انفرادی دعووں کو اس کارروائی سے زیادہ واضح طور پر جوڑا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں:
متعلقہ مضامین


AI سست کرنے کی اپیل عدالت پہنچ گئی، الزام حفاظت نہیں بلکہ گٹھ جوڑ کا ہے

Remote job اصلی ہے؟ رقم یا CNIC مانگے تو یہ سات جانچیں کریں

AI رفتار کم کرنے پر چار بڑی کمپنیوں کو antitrust مقدمہ

Sony اور Warner کا Anthropic پر مقدمہ، Claude کی training اصل تنازع ہے

Modulate کو $25 ملین—آواز سمجھنے کے لیے 100 سے زیادہ ماڈل
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔