
GPT‑6 Astra نے 87.4٪ حاصل کیا—کم معروف زبانوں کا دعویٰ کتنا مضبوط ہے

OpenAI نے 19 اکتوبر 2026 کو شائع کردہ نتائج میں بتایا کہ GPT‑6 Astra نے MultiLangBench کی 20 پروگرامنگ زبانوں میں اوسط 87.4٪ ٹیسٹ پاس کیے، جبکہ GPT‑5.6 Sol کا نتیجہ 26.8٪ تھا۔ زیادہ سے زیادہ استدلالی کوشش پر حاصل ہونے والی یہ شرح SQLite سے ہم آہنگ نیا ڈیٹابیس انجن بنانے کی آزمائش سے متعلق ہے، کسی موجودہ بینکاری نظام کی محفوظ منتقلی سے نہیں۔
اسی اشاعت میں COBOL پروگراموں کو دوسری زبانوں میں منتقل کرنے کا الگ امتحان بھی پیش کیا گیا ہے۔ دونوں نتائج پرانے سافٹ ویئر کے لیے اہم ہیں، مگر ان کے سوال مختلف ہیں: ایک جانچتا ہے کہ ماڈل نیا پروگرام کتنا فعال بنا سکتا ہے، دوسرا یہ کہ پرانا پروگرام دوبارہ لکھنے پر اس کا برتاؤ برقرار رہتا ہے یا نہیں۔ کسی ادارے کے اصل نظام میں درست نتائج کے لیے اس کے اپنے کوڈ، کاروباری قواعد اور دوسرے نظاموں سے روابط کی جانچ درکار ہوگی۔
COBOL، Fortran اور Visual Basic میں کیا بدلا
XenoSpectrum کی رپورٹ میں اسی آزمائش کے نتائج کے مطابق COBOL کی پاس شرح 10.9٪ سے 72.1٪، Fortran کی 21.4٪ سے 83.5٪ اور Visual Basic کی 27.5٪ سے 89.4٪ ہوئی۔ یہ ہر زبان میں پہلے ماڈل کے مقابلے میں اضافہ ہے، لیکن تینوں کی آخری شرح ایک جیسی نہیں۔ COBOL اس تقابل میں سب سے مشکل زبان رہی؛ مجموعی اوسط دیکھنے سے اس فرق کا اندازہ نہیں ہوتا۔
یہاں «کم وسائل» کا تعلق زبان کی عمر یا اہمیت سے نہیں بلکہ ماڈل کی تربیت کے لیے دستیاب کوڈ اور دستاویزات کی مقدار سے ہے۔ COBOL، Fortran اور Visual Basic کے لیے ایسا مواد عام زبانوں کے مقابلے میں کم ملتا ہے، حالانکہ ان میں لکھے پروگرام اہم خدمات اور ادارہ جاتی کام سنبھالتے ہیں۔ اسی لیے ان زبانوں میں بہتر کارکردگی سافٹ ویئر کی دیکھ بھال کے امکانات سے متعلق ہے، صرف نئی زبانوں میں کوڈ لکھنے کے مقابلے سے نہیں۔
پھر بھی زبان کی پاس شرح کسی خاص ادارے کے کوڈ کی پیش گوئی نہیں کرتی۔ ایک پروگرام میں پرانے فائل فارمیٹ، دوسرے نظاموں کے ساتھ روابط اور ایسے کاروباری اصول ہو سکتے ہیں جو اس زبان کے عام نمونوں سے ظاہر نہیں ہوتے۔ خاص طور پر مالی ریکارڈ سنبھالنے والے پروگرام میں درست چلنے والا کوڈ بھی غلط نتیجہ دے سکتا ہے، اگر دوبارہ لکھتے وقت حساب یا گم شدہ ریکارڈ کا برتاؤ بدل جائے۔
MultiLangBench دراصل کس کام کی جانچ ہے

MultiLangBench ماڈل کو منتخب زبان میں ابتدا سے SQLite سے ہم آہنگ ڈیٹابیس انجن بنانے کو کہتا ہے۔ اس کام میں کوڈ کی ساخت قائم رکھنا، ڈیٹابیس کی حالت سنبھالنا، غلطیوں سے نمٹنا اور نئی سہولت شامل کرتے ہوئے پہلے سے کام کرنے والی سہولتیں برقرار رکھنا شامل ہے۔ اس طرح آزمائش چند درست سطریں لکھنے کے بجائے طویل پروگرامنگ عمل میں پیدا ہونے والی فعال صلاحیت کو ناپتی ہے۔
جانچ میں بنایا گیا پروگرام ایک ابتدائی ڈیٹابیس اور ایک SQL سوال لیتا ہے، پھر بدلی ہوئی ڈیٹابیس فائل تیار کرتا ہے۔ اس فائل کے مواد کو اصل SQLite کے متوقع نتیجے سے ملایا جاتا ہے۔ مختلف زبانوں کے لیے ایک مشترک طریقہ رکھنے سے ان کا تقابل ممکن ہوتا ہے، جبکہ پاس شرح بتاتی ہے کہ مقررہ سوالات میں سے کتنے درست ہوئے۔ درست دکھائی دینے والے کوڈ یا محض پروگرام کے چل جانے سے زیادہ سخت معیار ہے کہ ڈیٹابیس کا نتیجہ بھی درست ہو۔
اس آزمائش کا دائرہ پھر بھی واضح ہے: ماڈل نیا انجن بناتا ہے۔ کسی پہلے سے چلتے نظام میں برسوں کے دوران جمع ہونے والے کاروباری قواعد، مخصوص فائلیں، اجازتوں کی ترتیب یا دوسرے پروگراموں سے تعلقات اسی کام کا حصہ نہیں بن جاتے۔ اگر کسی ادارے کا پرانا پروگرام SQLite جیسے ماحول کے بجائے اپنی مخصوص ترتیب میں چلتا ہے تو اس کی قبولیت کا فیصلہ اس ماحول میں ملنے والے نتائج سے ہوگا۔
COBOL کی منتقلی میں کامیابی کا مطلب الگ ہے

FourWeekMBA کے تجزیے کے مطابق OpenAI کی الگ COBOL منتقلی آزمائش میں GPT‑6.1 Sol نے کم استدلالی کوشش پر 86.6٪ درستگی حاصل کی، جبکہ GPT‑5.6 Sol کا نتیجہ 5.4٪ تھا؛ زیادہ کوشش پر نئے ماڈل کی شرح 97.9٪ رہی۔ یہ OpenAI کے اپنے ماڈلز پر اس کی اپنی جانچ ہے، جس میں حریف ماڈلز کے نتائج شامل نہیں۔ اسے GPT‑6 Astra کی MultiLangBench شرح کے ساتھ ایک ہی امتحان کا نتیجہ سمجھنا درست نہیں۔
منتقلی کے امتحان میں پہلے سے موجود COBOL پروگرام کو C++، Java، Kotlin، Python یا Rust میں دوبارہ لکھا جاتا ہے۔ نئے پروگرام کا قابل مشاہدہ نتیجہ پوشیدہ آزمائشوں میں اصل پروگرام سے بائٹ بہ بائٹ ملنا چاہیے؛ ایک آزمائش بھی ناکام ہو تو اس پروگرام کی منتقلی کامیاب شمار نہیں ہوتی۔ یہاں ایک مکمل پروگرام کے برتاؤ کی یکسانیت دیکھی جاتی ہے، جبکہ MultiLangBench میں نئے بنائے گئے انجن کے انفرادی سوالات کی پاس شرح نکالی جاتی ہے۔
اس سخت معیار کی وجہ مالی حساب میں آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے۔ COBOL کی مقررہ اعشاری حساب کاری زائد ہندسے کاٹ سکتی ہے، جب تک انہیں گول کرنے کی ہدایت نہ دی گئی ہو۔ اگر نئی زبان میں لکھا پروگرام انہی ہندسوں کو گول کر دے تو وہ بغیر خرابی کے چلتے ہوئے بھی رقم کا مختلف نتیجہ دے سکتا ہے۔ گم شدہ ریکارڈ سے نمٹنے کا طریقہ بھی پرانے پروگرام کے کاروباری برتاؤ کا حصہ ہو سکتا ہے۔
پوشیدہ آزمائشوں میں بلند درستگی مفید پیش رفت ہے، مگر وہ ہر ادارے کے اپنے قواعد اور انحصار کرنے والے نظاموں کا احاطہ نہیں کرتی۔ اس لیے منتقلی کی آزمائش نئے انجن والی جانچ سے زیادہ قریب ہونے کے باوجود کسی مخصوص پیداواری نظام کے لیے خودکار منظوری نہیں دیتی۔ اصل سوال یہ ہوگا کہ ادارے کے نمائندہ اور غیر معمولی معاملات میں نیا پروگرام پرانے پروگرام جیسا ہی نتیجہ پیدا کرتا ہے یا نہیں۔
پاکستانی ادارے میں محفوظ منتقلی کس طرح ثابت ہوگی
پاکستان کا کوئی بینک یا بڑا ادارہ اگر اپنے COBOL نظام کی منتقلی پر غور کرے تو شائع شدہ شرح ابتدائی تکنیکی اشارہ دے سکتی ہے۔ منظوری کے لیے معیار اس کے اپنے لین دین، تاریخی ریکارڈ، کاروباری قواعد اور ان خدمات کا برتاؤ ہوگا جو پرانے پروگرام پر انحصار کرتی ہیں۔ مقامی جانچ میں قبولیت کی شرائط پہلے سے واضح ہونی چاہییں تاکہ کام کرنے والا نیا کوڈ اور درست نتائج دینے والا نیا نظام ایک ہی چیز نہ سمجھے جائیں۔
ایسی جانچ کے لیے درج ذیل شرائط متعلقہ ہیں:
- عام لین دین کے ساتھ غیر معمولی اور ناکامی والے معاملات بھی جمع کیے جائیں، پھر پرانے اور مجوزہ پروگرام کے قابل مشاہدہ نتائج ایک ہی معیار پر ملائے جائیں۔
- رقم کے اعشاری قواعد، گم شدہ ریکارڈ سے نمٹنے کے طریقے، غلطیوں کے نتائج اور استعمال ہونے والے فائل فارمیٹ الگ قبولیتی شرائط بنیں۔
- انحصار کرنے والی خدمات کے ساتھ نئے پروگرام کا برتاؤ اسی ماحول میں آزمایا جائے جہاں ادارہ اسے چلانے کا ارادہ رکھتا ہے؛ ناکامی کی صورت میں پرانے نظام پر واپسی بھی آزمائش کا حصہ ہو۔
- ہر سامنے آنے والے فرق کا سبب متعلقہ نظام کے ماہرین طے کریں، اور کاروباری ذمہ دار جانچے گئے نتائج کی بنیاد پر منظوری دے۔
اس خبر کے بعد اداروں کے لیے فیصلہ کن ثبوت اپنے اصل کوڈ اور ڈیٹا پر پرانے اور نئے پروگرام کا تقابلی نتیجہ ہوگا۔ جہاں حساب، ریکارڈ یا بیرونی روابط میں فرق سامنے آئے، وہی فرق منتقلی کے دائرے اور منظوری کی شرائط طے کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:
متعلقہ مضامین


GPT‑6.1 Sol یا Claude Sonnet 5.5؟ ایک تیز، دوسرا فی کام سستا

Meta کا Muse Wonder دستیاب ہے، مگر بہترین کارکردگی کمپنی کا دعویٰ ہے

Claude Haiku 5.5 یا GPT‑6 Luna؟ یکساں نرخ، مگر فی کام خرچ الگ

Notion یا Obsidian؟ مشترک کام کے بدلے اپنی فائلوں کا اختیار

Supabase یا Firebase؟ مفت کوٹہ نہیں، ڈیٹا کی ساخت پہلے چنیں
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔