
Gemini 4 Argon API آگئی—تعارفی نرخ یکم دسمبر کو دگنا ہوگا

Google نے ۱۳ اکتوبر ۲۰۲۶ کو رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق Gemini 4 Argon ڈویلپرز اور کاروباری صارفین کے لیے جاری کیا۔ اجرا پر API کے نرخ فی دس لاکھ ان پٹ ٹوکن ۲ ڈالر اور آؤٹ پٹ ٹوکن ۱۰ ڈالر تھے، جنہیں ۳۰ نومبر کے بعد دگنا ہونا ہے۔
ماڈل Gemini API اور Google AI Studio میں دستیاب ہے۔ Google کی API تفصیل کے مطابق تعارفی نرخ ۳۰ نومبر ۲۰۲۶ تک رہیں گے اور یکم دسمبر سے فی دس لاکھ ان پٹ ٹوکن ۴ ڈالر، جبکہ سوچ سمیت آؤٹ پٹ ٹوکن ۲۰ ڈالر ہوں گے۔ اسی تفصیل میں ان پٹ، سوچ اور جواب کے لیے مشترک حد ۱٬۰۴۸٬۵۷۶ ٹوکن درج ہے۔
تعارفی نرخ پاکستانی روپے میں کیا بنتے ہیں
یہ API قیمتیں امریکی ڈالر میں ہیں۔ پاکستانی روپے میں اثر دکھانے کے لیے ذیل کے تینوں مشروط حسابوں میں ایک ڈالر کے ۲۷۷ روپے فرض کیے گئے ہیں؛ یہ کسی بینک کی مقررہ شرح یا مستقبل کی پیش گوئی نہیں۔ ہر مثال ایک درخواست کی صرف ٹوکن لاگت دکھاتی ہے۔ اصل ادائیگی میں استعمال کے وقت کی شرحِ مبادلہ، ادائیگی کی فیس اور فعال کیے گئے دوسرے ٹولز کے اخراجات الگ ہو سکتے ہیں۔
حساب میں عام ان پٹ، رعایتی کیش شدہ ان پٹ اور سوچ سمیت آؤٹ پٹ کو الگ گننا ضروری ہے۔ Ofox کا لاگت کا تجزیہ بھی واضح کرتا ہے کہ کیش شدہ ٹوکن کل ان پٹ ہی کا حصہ ہیں؛ انہیں کل ان پٹ کے اوپر دوبارہ جمع کرنے سے خرچ بڑھا چڑھا کر نکلے گا۔ اس لیے کیش کا فرضی فائدہ اسی وقت حساب میں آنا چاہیے جب استعمال کے اعداد میں کیش ہٹ موجود ہو۔
- ایک مختصر درخواست میں ۱۰ ہزار ان پٹ اور سوچ سمیت ۲ ہزار آؤٹ پٹ ٹوکن فرض کریں۔ تعارفی نرخ پر ان پٹ کے ۰٫۰۲ اور آؤٹ پٹ کے ۰٫۰۲ ڈالر، یعنی کل ۰٫۰۴ ڈالر یا تقریباً ۱۱٫۰۸ روپے بنتے ہیں۔ انہی ٹوکنوں کا یکم دسمبر کے نرخ پر خرچ ۰٫۰۸ ڈالر، یعنی تقریباً ۲۲٫۱۶ روپے ہوگا۔
- زیادہ مواد والی درخواست میں ایک لاکھ ان پٹ اور سوچ سمیت ۲۰ ہزار آؤٹ پٹ ٹوکن فرض کریں۔ موجودہ نرخ پر ان پٹ کے ۰٫۲۰ اور آؤٹ پٹ کے ۰٫۲۰ ڈالر، یعنی کل ۰٫۴۰ ڈالر یا تقریباً ۱۱۰٫۸۰ روپے بنتے ہیں۔ نئی قیمت پر یہی مقدار ۰٫۸۰ ڈالر، یعنی تقریباً ۲۲۱٫۶۰ روپے کی ہوگی۔
- اسی بڑی درخواست کے ایک لاکھ ان پٹ ٹوکن میں سے اگر ۸۰ ہزار کو خودکار کیش کی رعایت واقعی مل جائے تو باقی ۲۰ ہزار عام نرخ پر شمار ہوں گے۔ ۲۰ ہزار آؤٹ پٹ ٹوکن برقرار رکھنے پر تعارفی لاگت ۰٫۲۴۸ ڈالر، یعنی تقریباً ۶۸٫۷۰ روپے بنتی ہے؛ یکم دسمبر کے نرخ پر ۰٫۴۹۶ ڈالر، یعنی تقریباً ۱۳۷٫۳۹ روپے۔ یہ کیش ہٹ کی مشروط مثال ہے، ہر درخواست کی یقینی بچت نہیں۔
تیسری مثال میں ان پٹ کا مجموعہ دوسری مثال جتنا ہی ہے، مگر اس کا ایک حصہ رعایتی نرخ پر گنا گیا ہے۔ دونوں ادوار کے درمیان فرضی ٹوکن استعمال اور روپے کی شرح یکساں رکھنے سے صرف قیمت کی تبدیلی کا اثر نظر آتا ہے۔ حقیقی درخواست میں سوچ کی مقدار، کیش ہٹ اور دوبارہ کی گئی درخواستیں بدلیں تو بل بھی اس سادہ حساب سے مختلف ہوگا۔
سوچ اور جواب ایک ہی آؤٹ پٹ بل میں آتے ہیں
Gemini 4 Argon کی قیمت میں سوچ کے ٹوکن کے لیے آؤٹ پٹ سے الگ نرخ نہیں دیا گیا؛ وہ اسی آؤٹ پٹ نرخ پر شمار ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ صارف کو نظر آنے والا مختصر جواب بھی نسبتاً مہنگا پڑ سکتا ہے اگر اسے تیار کرنے میں زیادہ سوچ استعمال ہوئی ہو۔ دوسری طرف سوچ کے ٹوکن کو آؤٹ پٹ کے مجموعے میں شامل کرنے کے بعد دوبارہ ایک الگ مد کے طور پر جوڑنا بھی غلط حساب ہوگا۔
مثال کے طور پر ایک مشروط درخواست میں ۲۰ ہزار عام ان پٹ، ۲ ہزار نظر آنے والے جواب کے ٹوکن اور ۱۸ ہزار سوچ کے ٹوکن ہوں تو قابلِ بل آؤٹ پٹ ۲۰ ہزار بنتا ہے۔ تعارفی نرخ پر ان پٹ کے ۰٫۰۴ اور آؤٹ پٹ کے ۰٫۲۰ ڈالر ملا کر ۰٫۲۴ ڈالر خرچ ہوگا؛ صرف نظر آنے والے جواب کو گننے سے ۰٫۰۶ ڈالر کا غلط تخمینہ نکلے گا۔ یکم دسمبر کے نرخ پر اسی فرضی استعمال کا ٹوکن خرچ ۰٫۴۸ ڈالر ہوگا۔
ماڈل میں سوچ کی سطح کے لیے low، medium اور high اختیارات ہیں اور medium پہلے سے طے شدہ سطح ہے۔ سطح بدلنے سے کسی خاص درخواست میں استعمال ہونے والے سوچ کے ٹوکن بدل سکتے ہیں، اس لیے دگنا نرخ لازماً ہر مختلف درخواست کا دگنا بل نہیں بناتا۔ قیمت کا سیدھا دگنا تقابل تب درست ہے جب قابلِ بل ٹوکنوں کی تعداد اور نوعیت ایک جیسی رہے۔
مشترک حد میں ان پٹ کے بعد جواب کے لیے جگہ
۱٬۰۴۸٬۵۷۶ ٹوکن کی حد کو صرف پرامپٹ کی گنجائش سمجھنے سے طویل کام کا اندازہ غلط ہو سکتا ہے۔ بھیجا گیا مواد، ماڈل کی سوچ اور تیار ہونے والا جواب اسی مشترک گنجائش سے جگہ لیتے ہیں۔ بہت بڑا ان پٹ رکھنے کے بعد جواب کے لیے اتنی ہی کم جگہ باقی رہتی ہے؛ مشکل کام میں زیادہ سوچ استعمال ہو تو وہ بھی دستیاب آؤٹ پٹ حد سے حصہ لیتی ہے۔
درخواست میں مقرر کی گئی آؤٹ پٹ حد بھی سوچ اور نظر آنے والے جواب دونوں پر لاگو ہوتی ہے۔ بہت کم حد رکھنے سے ماڈل جواب مکمل کرنے سے پہلے رک سکتا ہے، خواہ مشترک سیاق میں مزید گنجائش موجود ہو۔ بہت طویل جواب کے لیے پس منظر میں اجرا اور مناسب آؤٹ پٹ حد درکار ہے؛ محض بڑے مشترک سیاق کی دستیابی معمول کی درخواست کو خود بخود طویل جواب میں نہیں بدلتی۔
یہ فرق خاص طور پر اس صورت میں اہم ہے جب ایک ہی درخواست میں بڑا دستاویزی مواد دیا جائے اور اس کے بعد مفصل جواب بھی چاہیے ہو۔ ان پٹ کی لمبائی اور متوقع سوچ کو آؤٹ پٹ کی ضرورت سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ تینوں مل کر مشترک حد استعمال کرتے ہیں۔ طویل کام میں بعد کے مراحل کے لیے پہلے تیار شدہ مواد دوبارہ سیاق میں آ سکتا ہے، اس لیے مجموعی قابلِ بل استعمال ابتدائی پرامپٹ کے ٹوکنوں سے بھی بڑھ سکتا ہے۔
پرانے کوڈ کی منتقلی میں کیش اور پیرامیٹرز
نئے ماڈل کا شناختی نام gemini-4-argon ہے، مگر منتقلی صرف نام بدلنے سے مکمل نہیں ہوتی۔ پرانے کوڈ میں اگر explicit caching کے ذریعے کیش بنایا جاتا ہے یا درخواست محفوظ شدہ مواد کا حوالہ دیتی ہے تو یہ راستہ Gemini 4 Argon کے لیے دستیاب نہیں۔ ماڈل خودکار کیشنگ استعمال کرتا ہے؛ پرانا کیش بنانے یا اس سے جوڑنے والا حصہ نئی درخواست سے ہٹانا ہوگا۔
خودکار کیشنگ میں رعایت کیش ہٹ پر منحصر ہے، اس لیے ایک جیسے مواد کا دوبارہ بھیجا جانا بذاتِ خود رعایتی بل کی ضمانت نہیں۔ تعارفی مدت میں رعایت یافتہ ان پٹ کا نرخ فی دس لاکھ ٹوکن ۰٫۱۰ ڈالر اور یکم دسمبر سے ۰٫۲۰ ڈالر ہے۔ اس فرق سے اوپر دی گئی کیش والی مشروط مثال بنتی ہے، مگر حقیقی لاگت کے لیے عام اور کیش شدہ ان پٹ کو استعمال کے ریکارڈ میں الگ دیکھنا پڑے گا۔
پرانے درخواستی پیرامیٹرز temperature، top_p اور top_k بھی اس ماڈل میں نظرانداز ہوتے ہیں۔ وہ درخواست میں موجود رہیں تو ان کی مقررہ قدریں متوقع کنٹرول نہیں دیں گی؛ سوچ کی سطح الگ سے مقرر کی جاتی ہے۔ پہلے سے کم آؤٹ پٹ حد رکھنے والی ایپلی کیشن میں اس حد کا جائزہ بھی ضروری ہے، کیونکہ سوچ اسی گنجائش سے خرچ ہوتی ہے جس میں آخری جواب آنا ہے۔
تعارفی مدت ۳۰ نومبر کو ختم ہوگی۔ یکم دسمبر سے یکساں قابلِ بل ٹوکن استعمال کی ڈالر لاگت دگنی ہوگی، جبکہ پاکستانی روپے میں فرق اس وقت کی شرحِ مبادلہ اور ہر درخواست کے حقیقی عام ان پٹ، کیش ہٹ اور سوچ سمیت آؤٹ پٹ سے طے ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:
متعلقہ مضامین


Claude کی پرامپٹ کیشنگ: ریڈ 90٪ سستا، مگر بچت یقینی نہیں

Claude Haiku 5.5 یا GPT‑6 Luna؟ یکساں نرخ، مگر فی کام خرچ الگ

Gemini 3.8 Flash آگیا—کم قیمت صرف 31 دسمبر تک برقرار ہے

Meta کا Muse Wonder دستیاب ہے، مگر بہترین کارکردگی کمپنی کا دعویٰ ہے

Ollama یا vLLM؟ ایک صارف میں سہولت، بوجھ پر رفتار فیصلہ بدلتی ہے
ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں
ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔