FBR کا National Faceless Centre—آڈٹ میں براہِ راست رابطہ ختم

|مصنف: QUASA ادارتی ٹیم|6 منٹ مطالعہ
FBR کا National Faceless Centre—آڈٹ میں براہِ راست رابطہ ختم

ایف بی آر نے 25 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں National Faceless Centre کے قیام کا اعلان کیا۔ اس مرکز کو دیے گئے آڈٹ کیسوں میں ٹیکس گزار کا متعلقہ افسر سے براہِ راست رابطہ ختم کرنے کا منصوبہ ہے: کمپیوٹر خطرے کی بنیاد پر کیس منتخب کرے گا، اسے خودکار طور پر افسر کو دے گا، جبکہ نوٹس، جواب اور سماعتیں IRIS کے ذریعے ہوں گی۔ قانون کے تحت موقع پر تصدیق ضروری ہو تو اس کے لیے الگ فیلڈ ٹیم ہوگی۔

نیا طریقہ ابھی ہر کاروباری ٹیکس گزار کے کیس پر یکساں طور پر لاگو نہیں ہوتا۔ ڈان کی 26 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر سے شروع ہونے والے ابتدائی مرحلے کے لیے 27 افسر مقرر کیے گئے تھے۔ اس مرحلے میں تیسرے فریق کے اعداد و شمار کی بنیاد پر تقریباً 3 سے 4 لاکھ افراد کے معاملات مرحلہ وار مرکز کو دینے کا منصوبہ تھا؛ کمپنیوں اور افراد کی انجمنوں کو اس ابتدائی دائرے میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ فرد کے نام پر کاروبار کرنے والے شخص اور کمپنی کے لیے فوری اثر اسی لیے مختلف ہے۔

کیس کا انتخاب اور افسر کی تقسیم

اعلان کردہ طریقے میں آڈٹ کے لیے گوشوارہ چننے اور منتخب کیس کسی افسر کو دینے کے فیصلے الگ ہیں۔ پہلے خطرے پر مبنی کمپیوٹر نظام کیس منتخب کرے گا، پھر خودکار تقسیم کے ذریعے اسے ملک میں کہیں بھی موجود افسر کو دیا جائے گا۔ ٹیکس گزار کو اس افسر کی شناخت نہیں بتائی جائے گی اور افسر خود یہ طے نہیں کرے گا کہ کون سا کیس اس کے پاس آئے۔ کاروبار کے لیے اس کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ سوال کا جواب اپنے گوشوارے اور ریکارڈ سے دینا ہوگا، کسی مخصوص افسر سے ملاقات پر انحصار نہیں کیا جا سکے گا۔

انتخاب کے اعلان میں خطرے کے مکمل معیار یا کسی خاص کاروباری اندراج کے لیے آڈٹ کی حد نہیں بتائی گئی۔ ابتدائی مرحلے کے بارے میں رپورٹ میں فضائی سفر، مہنگی گاڑیوں اور بڑی رہائش گاہوں سے متعلق تیسرے فریق کے اعداد و شمار کا ذکر ہے، مگر ہر ایسا اندراج لازماً آڈٹ میں جائے گا، یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ کاروباری حسابات میں کسی فرق کی وضاحت اسی وقت کارآمد ہوگی جب وہ متعلقہ ٹیکس مدت اور اصل لین دین کے ریکارڈ سے ملتی ہو۔

IRIS کا نوٹس اور کاروبار کا جواب

مرکز کے کیس میں کارروائی کا آغاز کاروبار کے لیے IRIS پر آنے والے نوٹس سے ہوگا۔ نوٹس میں درج ٹیکس مدت، پوچھے گئے اندراج اور جواب کے لیے مانگی گئی معلومات کو جمع شدہ گوشوارے کے ساتھ ملانا ضروری ہوگا۔ اگر سوال کسی خرید، فروخت یا اخراجات سے متعلق ہو تو متعلقہ حساب، ادائیگی کا ثبوت اور دستیاب کاروباری ریکارڈ ایک ہی وضاحت کے ساتھ جوڑنے سے جواب واضح رہتا ہے۔ یہ ہر آڈٹ کے لیے مقررہ دستاویزات کی فہرست نہیں؛ مطلوبہ مواد اصل نوٹس طے کرے گا۔

ایف بی آر کی IRIS رہنمائی میں ان باکس سے موصولہ کام کھولنے، جواب کا متعلقہ اختیار استعمال کرنے اور کام کے ساتھ دستاویز منسلک کرنے کے طریقے درج ہیں۔ رہنمائی مسودے اور جمع کرائے گئے کام میں بھی فرق دکھاتی ہے۔ اس لیے جواب لکھنے کے بعد اسے نظام میں جمع کرانے کی حیثیت دیکھنا، بھیجی گئی وضاحت اور منسلک فائلوں کی نقل رکھنا کاروبار کو بعد کی سماعت میں اپنے ہی ریکارڈ سے مطابقت برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اگر مجاز ٹیکس مشیر جواب تیار کرے تو اسے بھی انہی سوالات اور اسی مدت کے ریکارڈ پر کام کرنا ہوگا جو نوٹس میں درج ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کسی رقم کے بارے میں وضاحت مانگی جائے تو جواب میں یہ واضح ہونا چاہیے کہ رقم کس لین دین سے متعلق ہے، حساب میں کہاں درج ہوئی اور تائیدی ثبوت کیا ہے۔ یہ ایک فرضی مثال ہے؛ مرکز کے اعلان نے کسی مخصوص قسم کے فرق کو خود بخود آڈٹ کی وجہ قرار نہیں دیا۔

برقی سماعت، اسیسمنٹ اور معیار کی جانچ

ٹیکس گزار کی سماعت بھی IRIS کے ذریعے برقی طور پر ہوگی۔ سرکاری پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے اعلان کے مطابق ہر کیس میں ایک افسر آڈٹ کرے گا، دوسرا اسیسمنٹ تیار کرے گا اور تیسرا حکم جاری ہونے سے پہلے کام کے معیار کا جائزہ لے گا۔ مرکز کو قانونی اختیار فنانس ایکٹ 2026 سے حاصل ہے اور اس میں آڈٹ، اسیسمنٹ، معیار کی جانچ اور فیلڈ کارروائی کے الگ شعبے رکھے گئے ہیں۔

اس تقسیم سے کاروبار کے جواب کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ آڈٹ کرنے والا افسر وضاحت اور ریکارڈ پر سوال اٹھا سکتا ہے، جبکہ بعد کے مراحل میں اسی کیس کی جانچ اور نتیجہ الگ ذمہ داریوں کے تحت آگے بڑھیں گے۔ برقی سماعت میں پہلے جمع کرایا گیا جواب، متعلقہ گوشوارہ اور تائیدی ریکارڈ سامنے رکھنا اس لیے مفید ہے کہ زبانی وضاحت اور نظام میں موجود تحریری جواب ایک دوسرے سے مطابقت رکھیں۔ مزید معلومات مانگی جائیں تو ان کا تعلق بھی اسی کیس کے ریکارڈ سے واضح رہنا چاہیے۔

موقع پر تصدیق کب ہو سکتی ہے

براہِ راست رابطے کے خاتمے کا تعلق مرکز میں آڈٹ اور اسیسمنٹ کرنے والے افسر سے ہے۔ جہاں قانون جسمانی تصدیق یا وصولی کا تقاضا کرے، اعلان کردہ نظام میں یہ کام الگ فیلڈ ٹیم کرے گی۔ اس بنا پر بے چہرہ کارروائی کاروباری جگہ پر کسی قانونی تصدیق کے امکان کو ختم نہیں کرتی؛ صرف برقی طور پر کیس دیکھنے والے افسر اور موقع پر جانے والی ٹیم کی ذمہ داریاں الگ کرتی ہے۔

اگر کسی کیس میں موقع پر تصدیق کی ضرورت پڑے تو کاروبار کے لیے بنیادی سوال وہی ہوگا جو IRIS پر زیرِ بحث ہے: کیا موقع پر موجود معلومات پہلے دیے گئے جواب اور حسابی ریکارڈ سے ملتی ہیں؟ فیلڈ ٹیم کس خاص معاملے کی تصدیق کرے گی، یہ متعلقہ کارروائی پر منحصر ہوگا۔ کاروبار کی نوعیت، اثاثے یا اخراجات کے بارے میں پوچھا جائے تو پہلے بھیجے گئے جواب کی نقل اور اس کے تائیدی ریکارڈ سے ایک ہی قابلِ فہم وضاحت دی جا سکے گی۔

ابتدائی دائرہ اور اگلی توسیع

مرکز قائم ہو چکا ہے، جبکہ ایف بی آر کی سرکاری فہرست میں بے چہرہ آڈٹ اور اسیسمنٹ کے حتمی قواعد بھی درج ہیں۔ تاہم کسی کاروبار پر اس طریقے کا اطلاق اس بات سے جڑا ہے کہ اس کا کیس مرکز کو تفویض ہوا ہے یا نہیں۔ ابتدائی توجہ افراد کے معاملات پر ہے؛ کمپنی یا افراد کی انجمن اپنے موجودہ آڈٹ کا طریقہ صرف مرکز کے قیام کی خبر سے تبدیل شدہ نہیں سمجھے گی۔

اگلے مرحلے میں علاقائی ٹیکس دفاتر کے آڈٹ اور اسیسمنٹ کے کام مرکز میں منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس توسیع کے ساتھ زیادہ کاروباروں کے لیے فیصلہ کن اطلاع ان کے اپنے کیس کا نوٹس ہوگی: اسی میں متعلقہ مدت، پوچھے گئے معاملات اور جواب کا راستہ سامنے آئے گا۔ یوں کاروبار کے لیے اصل تبدیلی افسر سے ملاقات کے بجائے ایسی برقی کارروائی ہے جس میں ہر وضاحت اور اس کا تائیدی ریکارڈ کیس کے ساتھ چلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

شیئر کریں:

ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

ویب 3، AI اور کرپٹو کی تازہ خبریں براہ راست اپنے اِن باکس میں پائیں۔

0